دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

جو دنیا میں حسد سے پاک تھے وہاں حسد کیسے کریں گے۔عام شارحین فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا یہ رونا اپنی امت پر اظہار افسوس کے لیے ہے کہ ان بدنصیبوں نے ہمیشہ میری مخالفت کی اس لیے ان میں جنتی تھوڑے ہوئے اور ان محبوب کی امت ان کی اطاعت بہت کرے گی اس لیے وہ جنتی زیادہ ہوں گے مگر عشاق کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کایہ رونا خوشی کا تھاکہ آج ان کی طور والی تمنا پوری ہوگی کہ آج بار بار حضور صلی الله علیہ و سلم کو دیکھیں گے اور میں ان کی آنکھوں کو دیکھوں گا گویا رخسار مصطفی جمال الٰہی کا میرے لیے آئینہ بنیں گے۔اگلا مضمون رونے کی وجہ نہیں ہے بلکہ مستقل کلام ہے یہ توجیہ بڑی لذیذ ہے ان شاءالله اس کا ذکر بھی آگے آتا ہے۔

۲۵؎ عرب میں غلام بمعنی قوی اور طاقتور بھی آتا ہے اگرچہ وہ ادھیڑ یا بوڑھا ہے۔چنانچہ اہل عرب حضور انور کو شاب یعنی جوان کہتے تھے اور ان سے کم عمر حضرت ابوبکر صدیق کو شیخ کہتے تھے۔موسیٰ علیہ السلام نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو غلام کہابمعنی نہایت قوت و طاقت والے رسول جنہوں نے تھوڑے عرصہ میں دنیا کا نقشہ بدل دیا ہے بگڑی قوم کو بنانا بہت دشوار کام ہے۔

۲۶؎ اس فرمان عالی کا مطلب ابھی عرض کیا گیا کہ یہ حسد یا غبط نہیں بلکہ اپنی امت اسرائیلیوں پر اظہار افسوس ہے کہ کاش میری امت بھی ان محبوب کی امت کی طرح تابع فرمان ہوتی،میری امت میں بھی ان کی امت کی طرح اولیاء علماء صالحین رہتے۔

۲۷؎  یعنی سب سے بلند مقام ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی،یہ ہی ترتیب اکثر روایات میں ہے۔بعض روایات میں اس کے خلاف بھی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو ساتوں آسمان میں دیکھا،ادریس علیہ السلام کو تیسرے آسمان میں، یوسف علیہ السلام کو دوسرے آسمان میں۔اگر وہ روایت درست ہے تو وہ واقعہ کسی اور معراج کا ہے،حضور انور کو معراجیں بہت ہوئی ہیں ایک جسمانی باقی منامی یعنی خواب میں۔

۲۸؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ معراج کی رات حضور صلی الله علیہ و سلم شوق دیدار الٰہی میں بحالت استغراق تھے اس لیے جبریل علیہ السلام ہر بار عرض کرتے تھے کہ یہ فلاں نبی ہیں اور یہ فلاں رسول آپ انہیں سلام کریں،آپ کی توجہ تام رب انام کی طرف تھی"مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی"کا ظہور تھا۔(مرقات)ورنہ حضور صلی الله علیہ و سلم ان تمام انبیاء کرام کو جانتے پہچانتے تھے،کیسے نہ جانتے ابھی کچھ دیر پہلے تو بیت المقدس میں یہ سب حضرات حضور انور کے پیچھے نماز پڑھ چکے ہیں،آپ سے ملاقات کرچکے ہیں،آپ کو وہاں سے وداع کرچکے ہیں پھر نہ پہچاننے کے کیا معنی بات وہ ہی ہے جو مرقات میں فرمائی۔

۲۹؎  یہاں مرقات نے باتیں بہت مفید بیان فرمائیں: ایک یہ کہ ان آسمانوں پر یہ انبیاء کرام اپنے جسم شریف سے ہی موجود تھے صرف روح نہ تھی۔دوسرے یہ کہ ہر آسمان پر بہت سے نبی استقبال کے لیے موجود تھے جن کی قیادت خاص خاص نبی کر رہے تھے۔پہلے آسمان کی قیادت آدم علیہ السلام کررہے تھے حتی کہ ساتویں آسمان والوں کی قیادت ابراہیم علیہ السلام کررہے تھے،یہاں قائدین انبیاء کا ذکر ہے۔تیسرے یہ کہ اس ترتیب مکانی میں رب تعالٰی کی بڑی حکمتیں تھیں،چونکہ آدم علیہ السلام اول بشر اول نبی ہیں لہذا وہ اول آسمان پر تشریف فرما ہوئے اولیت کے اظہار کے لیے،عیسیٰ علیہ السلام حضور صلی الله علیہ و سلم سے قریب ترین ہیں کہ آپ میں اور ان کے درمیان میں کوئی اور نبی نہیں لہذا وہ وہاں سے قریب ترین جگہ یعنی دوسرے آسمان پر دکھائے گئے،چونکہ حضور کی امت شکل یوسفی میں جنت میں داخل ہوگی اس لیے آپ ان کے بعد دکھائے گئے اور چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نبیوں کے والد ہیں اس لیے آپ کو سب سے اونچے آسمان پر بلایا گیا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن