30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳۶؎ یعنی مجھے نبی آخر الزمان کے ظہور کا یقین تھا مگرمیرا خیال یہ تھا کہ وہ دوسرے نبیوں کی طرح بنی اسرائیل میں سے ہوں گے شام یا فلسطین میں،یہ خیال نہ تھا کہ عرب میں بنی اسماعیل میں پیدا ہوں گے اس کا یہ خیال غلط تھا اور کتابوں میں حضور کی ولادت گاہ اور ہجرت گاہ دونوں کا صاف ذکر تھا جیساکہ گزشتہ بابوں میں گزر چکا حتی کہ یہ بھی تھا و ملکہ بالشام ان کی سلطنت شام میں ہوگی۔
۳۷؎ یعنی میں سلطنت کی وجہ سے ان تک نہیں پہنچ سکتا اور اگر پہنچ جاتا تو ان کے قدم شریف دھوتا اور قدموں کا دھوون پیتا۔ افسوس! کہ اس قدر جاننے کے باوجود ایمان نہ لایا بلکہ ہمیشہ صحابہ کرام سے لڑ بھڑ کر شکستیں کھاکر مرا،اس کے بعد اس کا بیٹا تخت نشین ہوا،اس کی ہلاکت پر اس کی سلطنت کا چراغ بجھ گیا وہ ممالک اسلامی سلطنت میں داخل ہوگئے، حضرت عمر فاروق کی تاریخ پڑھو۔
۳۸؎ یعنی ان کا یہاں بھی راج ہوگا اس نے یہ بات گزشتہ کتابوں میں دیکھ کر اور کہانت کے ذریعے معلوم کی تھی وہ کاہن بھی تھا جیساکہ بخاری شریف میں ہے۔
۳۹؎ بخاری شریف میں ہے کہ اس نے اپنے سرداروں سے کہا کہ اگر تم اپنی سلطنت کی بقا چاہتے ہو تو نبی پر ایمان لے آؤ وہ سب بھڑک گئے تو وہ بولا کہ میں تو تمہاری دین کی پختگی آزماتا تھا۔مسند امام احمد میں ہے کہ اس نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر ایک خط حضور انور کی خدمت میں بھیجا کہ میں مسلمان ہوں حضور نے فرمایا کہ وہ جھوٹا ہے وہ نرا عیسائی ہے۔ (اشعہ)معلوم ہوا کہ ہدایت بغیر رب کی مہربانی کے میسر نہیں ہوتی کبھی سلطنت اور امیری ایمان سے روک دیتی ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور انور کو جان پہچان لینا ایمان نہیں بلکہ انہیں ماننا ایمان ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع