30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۳؎ حسب بمعنی نسب بھی آتا ہے اور باپ دادوں کے فضائل کے معنی میں بھی یہاں دونوں احتمال ہیں،بخاری شریف میں بجائے حسب کے نسب ہے ممکن ہے کہ اس نے دونوں لفظ بولے ہوں۔ابوسفیان نے اقرار کیا کہ وہ سرکار سارے عرب میں عالی نسب والا حسب ہیں کیونکہ وہ قرشی،ہاشمی،مطلبی ہیں اتنا اعلیٰ خاندان کسی کو نصیب نہیں ہوا۔
۱۴؎ یعنی وہ سرکار شاہی خاندان سے یا مساکین خاندان سے ذاتی شرافت کے بعد بیرونی شرافت کا سوال کیا جواب دیا کہ ان کے خاندان میں کبھی کوئی بادشاہ نہیں ہوا مساکین کا خاندان ہے یہ شرافت عارضی کا ذکر ہوا۔
۱۵؎ اس جواب سے معلوم ہو رہا ہے کہ حضور انور کی زبان پاک پر ساری عمر شریف میں ایک بار بھی جھوٹ نہ آیا اگر ایک بار بھی جھوٹ بولا ہوتا تو آج ابوسفیان بڑھا چڑھا کر اسے بیان کرتے کیونکہ وہ اس وقت حضور انور کے سخت تر دشمن تھے،یہ ہے دشمنوں کا اقرار و اعتراف الفضل ما شہدت بہ اعداء۔
۱۶؎ یعنی عام طور پر مساکین و فقراء ہی ان پر ایمان لائے ہیں امیر اور سردار بہت کم ایمان لائے ہیں۔یہ مطلب نہیں کہ کوئی سردار اور امیر ان پر ایمان نہیں لایا کیونکہ حضرت عمر،ابوبکر صدیق،حمزہ،جعفر جو قریش کے بڑے سردار تھے اور حضرت عثمان جو سردار بھی تھے اور بڑے مالدار بھی اس وقت ایمان لاچکے تھے لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔
۱۷؎ یعنی اب تک کوئی مسلمان اسلام میں خرابی دیکھ کر اسلام سے نہیں پھرا،قبیلہ عرینہ والے لوگ تو اپنی خیانت اور ڈکیتی کی عادت کی بنا پر مرتد ہوئے تھے نہ کہ اسلام میں خرابی دیکھ کر۔غرضکہ مسلمان گھٹتے نہیں ان میں سے کوئی اسلام سے نکلتا نہیں ہاں بڑھ رہے ہیں کہ لوگ مسلمان ہو رہے ہیں۔
۱۸؎ یہاں ڈول سے مراد پرانے زمانہ کا وہ ڈول ہے جس سے اس زمانہ میں کھیت سیراب کیے جاتے تھے کہ ایک رسے کے کناروں پر دو ڈول باندھ کر گول چکر پر رسا چڑھا کر ایک ڈول کو اوپر اور دوسرے کو نیچے کیا جاتا ہے،پھر ایک ڈول داہنے دوسرا بائیں طرف ڈالا جاتا تھا۔مطلب یہ ہے کہ کبھی وہ ہم پر غالب آتے ہیں جیسے غزوہ بدر میں اور کبھی ہم ان پر غالب آجاتے ہیں جیسے غزوہ احد میں۔شعر
فیوما علینا ویوما لنا ویوما نسر ویوما نساء
رب تعالٰی فرماتاہے:"وَتِلْکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ"۔
۱۹؎ یعنی انہوں نے آج تک کبھی اپنا وعدہ خلاف نہیں کیا حتی کہ مکہ والوں نے حضور کو صادق الوعد اور امین کے خطاب دیئے ہوئے تھے۔خیال رہے کہ جھوٹ عام ہے اور وعدہ خلافی خاص اس لیے اس نے جھوٹ کے متعلق پوچھنے کے بعد وعدہ خلافی کے متعلق پوچھا۔
۲۰؎ یعنی آج کل حدیبیہ کے مقام پر ہم میں جنگ بندی وغیرہ پر معاملہ ہوچکا اب خبر نہیں کہ وہ اس وعدے کو پورا کریں گے یا نہیں اب تک تو کبھی وعدہ خلافی انہوں نے کی تو نہیں۔
۲۱؎ یعنی مجھے یقین تھا کہ حضور انور اس دفعہ بھی وعدہ خلافی نہیں کریں گے مگر میں نے اپنی ذاتی دشمنی کی بناء پر اتنی بات ہرقل سے کہہ ضرور دی کہ نہ معلوم وہ یہ وعدہ پورا کریں یا نہ کریں،یہ تھا انتہائی دشمنی کا اثر۔
۲۲؎ یعنی کیا تمہارے خاندان یا تمہارے ملک میں حضور صلی الله علیہ و سلم سے پہلے کسی نے دعویٰ نبوت کیا تھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع