دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۲؎  یعنی        ۶؁  چھ ہجری میں میرے اور رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے درمیان حدیبیہ میں صلح ہوئی جس کی معیاد دس سال تھی اسی صلح کے بعد ہی سفر میں مکہ مظمہ سے باہر گیا۔خیال رہےکہ صلح حدیبیہ کی مدت تھی تو دس دس سال مگر کفار مکہ نے اس صلح کی ایک شرط توڑ دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف بنی خزاعہ کے قتل میں مدد کردی اس لیے حضور انور نے     ۸ھ؁  میں مکہ معظمہ پر حملہ فرمایا اسے فتح کرلیا۔

۳؎ حضور انور نے شاہان عرب و عجم کو تبلیغی فرمان نامے بھیجے جن میں ان سلاطین کو دعوت اسلام دی،اس سلسلہ میں شاہ روم ہرقل کو بھی دحیہ کلبی کے ہاں فرمان نامہ بھیجا یہاں اس واقعہ کا ذکر ہے۔

۴؎  خیال رہے کہ بصرہ عراق کا ایک مشہور شہر ہے بغداد شریف کے قریب یہاں وہ مراد نہیں بلکہ بُصرہ ب کے پیش سے آخر میں ہ۔یہ دمشق کے پاس ایک بستی ہے شام کا ایک شہر ہے یہاں وہ بستی مراد ہے۔حضور انور نے دحیہ کلبی کو یہ ہی حکم دیا تھا کہ ہمارا فرمان نامہ عظیم بصرہ کو دو وہ ہرقل کو پہنچائے عظیم بصرہ ہرقل کا گویا وزیر خارجہ تھا،دوسرے ممالک کے بادشاہوں سے کلام وزیر خارجہ کے ذریعے سے ہی ہوتا ہے۔

۵؎  ہرقل نے چاہا کہ فرمان عالی پڑھنے سے پہلے حضور انور کے حالات معلوم کرے پھر خط شریف کا مطالعہ کرے متکلم کے کلام کا حال معلوم ہوتا ہے۔

۶؎ یہ تیس آدمی تھے جو بغرض تجارت مکہ معظمہ سے شام کے ملک میں گئے ہوئے تھے ان کے سردار ابوسفیان تھے،یہ سب ہرقل کے دربار میں بلائے گئے۔

۷؎  ابوسفیان اور ان کی جماعت کو حضور انور کا پہلا فیض تو یہ ملا کہ ان کے صدقہ سے ان لوگوں کو شاہی دربار میں رسائی وہاں باریابی نصیب ہوئی۔

۸؎  یعنی تم سب ہمارے پاس رہو مگر مجھ سے کلام وہ کرے جو حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ و سلم سے نسب و قرابت میں بہت قریب ہو۔یہ اس لیے کہا کہ قریبی رشتہ دار حالات سے زیادہ خبردار ہوتےہیں وہ حضور انور کے ہرطرح کے حالات معلوم کرنا چاہتا تھا۔

۹؎  کیونکہ ابوسفیان قرشی ہیں،عبد مناف میں حضور انور سے مل جاتے ہیں،دوسرے لوگوں کو حضور انور سے یہ قرب میسر نہ تھا۔

۱۰؎  یہ نشست اس ترتیب سے اس لیے رکھی کہ بادشاہ مجھ سے بہ آسانی بات کرسکے اور مجھے میرے ساتھی بات بتاسکیں اگر میں کچھ بھول جاؤں اور ٹوک سکیں اگر میں غلط گوئی کروں۔

۱۱؎  یعنی تم لوگ اس گفتگو میں میری بھی مدد کرو اور ان ابوسفیان کی بھی،ان کی مدد تو اس طرح کہ ان کی سچی باتوں کی زبانی یا باشارہ سر تائید کرو اور جو وہ بھول جائیں انہیں بتادو،میری مدد اس طرح کہ اگر یہ کچھ جھوٹ بولیں تو انہیں نہ بولنے دو روک دو تاکہ مجھ کو ان کے متعلق صحیح حالات معلوم ہوجائیں۔

۱۲؎  یعنی مجھے حضور انور سے اس زمانہ میں اتنی عداوت تھی کہ اگر میرے ساتھی میرے پاس نہ ہوتے اور مجھے اپنی بدنامی کا اندیشہ نہ ہوتا تو حضور انور کے متعلق بہت جھوٹی باتیں کہہ دیتا تاکہ اس کے دل میں حضور سے نفرت پیدا ہو۔معلوم ہوا کہ جھوٹ اور بدنامی کو کفار بھی برا سمجھتے تھے افسوس ان لوگوں پر جو خدا تعالٰی کو جھوٹ سے متصف مانیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن