30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضور کی آمد کا انتظار ہوگا،آپ کے آنے پر دھوم مچ جاوے گی،آپ کے کھلوانے پر دروازہ جنت کھلے گا پہلے حضور تشریف لے جائیں گے ،پھر دوسرے نبی،پھر حضور کی امت،پھر دوسری امتیں۔اللہ تعالٰی جنت کھلنے کا یہ نظارہ ہم کو بھی نصیب کرے۔
|
5743 -[5] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ. فيقولُ: بكَ أمرت أَن لاأفتح لأحد قبلك ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن جنت کے دروازے پر میں آؤں گا دروازہ کھلواؤں گا تو خازن جنت کہے گا آپ کون ہیں میں کہوں گا محمد ہوں ۱؎ وہ عرض کرے گا کہ مجھے آپ کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ آپ سے پہلے کسی کے لئے نہ کھولوں ۲؎ (مسلم) |
۱؎ اس کھلوانے میں اور پہلے سے کھلے ہوئے نہ ہونے میں یہ ہی دکھانا ہے کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اتفاقًا حضور انور نے کھلوادیا اور نبی بھی اگر کھلواتے تو کھل جاتا۔
۲؎ یہ ہے"اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیۡنًا"کا ظہور،ہر دروازہ حضور کے ہاتھ سے ہی کھلے گا۔پہلا دروازہ شفاعت سے کھلے گا،دروازۂ رحمت دروازۂ مغفرت دروازۂ جنت حضور کے ہاتھ سے کھلیں گے۔اعلیٰ حضرت نے فرمایا ؎
تم سے جہاں کا وجود تم سے کھلا باب جود تم سے ملا جو ملا تم پہ کروڑوں درود
|
5744 -[6] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مَا صُدِّقْتُ وَإِنَّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيًّا مَا صَدَّقَهُ مِنْ أُمَّته إِلَّا رجل وَاحِد» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت کے بارے میں ہم پہلے شفاعت کرنے والے ہیں ۱؎ کسی نبی کی تصدیق اتنی نہ کی گئی جتنی میری تصدیق کی گئی ۲؎ نبیوں میں بعض نبی وہ ہیں جن کی کسی نے بھی ان کی امت سے تصدیق نہ کی سوا ایک کے۳؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی جو لوگ اعمال سے جنت کے قابل نہ ہوں گے ان کی شفاعت کرکے انہیں جنت میں داخل کروں گا۔فی الجنۃ سے پہلے دخولہم پوشیدہ ہے یعنی جنت کے داخلہ کے بارے میں ورنہ جنت میں پہنچنے کے بعد شفاعت کیسی۔(از مرقات)یا یہ مطلب ہے کہ جنت کے قابل جو لوگ ہوں گے اور ان کی شفاعت فرماؤں گا۔ترقی درجات کے متعلق کہ نیچے والوں کو اونچا کردیا جاوے تب درجات پوشیدہ ہے فی درجات الجنۃ۔
۲؎ اس فرمان عالی کے دو معنی ہیں: ایک یہ کہ جتنے زیادہ لوگوں نے مجھ پر ایمان قبول کیا اتنے لوگ کسی اور نبی پر ایمان نہیں لائے یہ بالکل ظاہر ہے کیونکہ دوسرے نبی کسی خاص قوم کے نبی ہوتے تھے حضور انور سارے جہان کے نبی ہیں،نیز اور نبیوں کا زمانہ نبوت محدود تھا حضور کی نبوت تا قیامت ہے۔دوسرے یہ کہ جس قسم کی تصدیق میری کی گئی اس درجہ کی تصدیق کسی نبی کی نہیں کی گئی،میری امت مجھ پر دل وجان سے فدا ہے اور ہوگی۔یہ عشق سوزو گدازکسی اور امت کو نہیں ملا۔(اشعۃ اللمعات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع