دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۸؎  قاموس بنا ہے قمس سے بمعنی گہرائی اس لیے غوطہ خور کو قماس بھی کہتے ہیں غواص بھی یعنی ان پیارے کلمات کی فصاحت و بلاغت دریاء معرفت کی تہہ تک پہنچی ہوئی ہے جہاں کسی انسان کے فکر و وہم نہیں پہنچ سکتے یہ کلمات انسانی نہیں بلکہ القاء ربانی ہیں۔

۹؎  جب ضماد ایمان لاکر کفار مکہ کے پاس واپس ہوئے تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ کہو کیا گزری جواب دیا۔شعر

سنو اے دوستو میری سمجھ میں تو یہ آتا ہے                             کہ بے شک ان پہ سایہ ہے مگر الله کا سایہ ہے

۱۰؎ یعنی ایک روایت میں بجائے قاموس کے ناعوس ہے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی گہرائی یا تہہ۔خیال رہے کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے ضماد کی بات کا جواب نہ دیا اپنی صفائی نہ کی کہ میں دیوانہ نہیں ہوں لوگ غلط کہتے ہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ظاہر کردی کہ جس کے منہ کے کلمات ایسے ہوں سمجھ لو کہ وہ ذات کریم کیسی ہے۔خوش نصیب تھے وہ جو سب کچھ لے گئے۔اس واقعہ سے پتہ لگا کہ بیعت ہوتے وقت مرید شیخ کے ہاتھ میں ہاتھ دے اور زبان سے بیعت کرے،دیکھو ضماد نے عرض کیا کہ حضور اپنا ہاتھ لائیں میں بیعت کروں۔بیعت چار قسم کی ہے جن میں سے ایک بیعت اسلام کی بیعت ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

5861 -[10] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ قَالَ: انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنِي وَبَيَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَبينا أَنا بِالشَّام إِذْ جِيءَ بِكِتَاب النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ. قَالَ: وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ جَاءَ بِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِلَى هِرَقْلَ فَقَالَ هِرَقْلُ:هَلْ هُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَقُلْتُ: أَنَا فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ: قُلْ لَهُمْ: إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ. قَالَ أَبُو سُفْيَانُ: وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَيَّ الْكَذِبُ لَكَذَبْتُهُ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ. قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: وَمَنْ يَتْبَعُهُ؟ أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ. قَالَ: أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قُلْتُ: لَا بَلْ يَزِيدُونَ. قَالَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ؟ قَالَ: قلت: لَا. قلت: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ. قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لَا وَنَحْنُ مِنْهُ فِي هَذِهِ الْمُدَّةِ لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا؟ قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ. قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ قُلْتُ: لَا. ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُ: إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ فِيكُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا. وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ. قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ. وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعه أضعافاؤهم أَمْ أَشْرَافُهُمْ؟ فَقُلْتَ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ. وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ يَذْهَبُ فَيَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ. وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّكُمْ قَاتَلْتُمُوهُ فَتَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالًا يَنَالُ مِنْكُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ثُمَّ تَكُونُ لَهَا الْعَاقِبَةُ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لَا يَغْدِرُ وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ: رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: بِمَا يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْنَا: يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ. قَالَ: إِنْ يَكُ مَا تَقُولُ حَقًّا فَإِنَّهُ نَبِيٌّ وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمَ أَنَّهُ خَارِجٌ وَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ. ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُ.

وَقَدْ سَبَقَ تَمَامُ الْحَدِيثِ فِي «بَاب الْكتاب إِلى الكفَّار»

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ مجھے ابوسفیان ابن حرب نے منہ در منہ خبر دی ۱؎ کہا کہ میں اس صلح کے زمانہ میں جو میرے اور رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے درمیان تھی۲؎  کہتے ہیں کہ میں شام میں تھا کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کا فرمان نامہ ہرقل کی پاس لایا گیا۳؎ ابوسفیان نے کہا کہ یہ خط دحیہ کلبی لائے تھے اور انہوں نے بصرےٰ کے وزیر کو دیا تھا۴؎ پھر بصرےٰ کے وزیر نے ہرقل کو پہنچایا ہرقل بولا کہ کیا یہاں ان صاحب کی قوم کا کوئی آدمی ہے جو دعویٰ نبوت کررہے ہیں۵؎  لوگوں نے کہا ہاں چنانچہ قریش کی ایک جماعت میں میں بلایا گیا۶؎ تو ہم ہرقل کے پاس گئے ہم کو اس کے سامنے بٹھلایا گیا۷؎  وہ بولا کہ جن صاحب نے دعویٰ نبوت کیا ہے ان سے زیادہ قریبی تم میں کون ہے ۸؎ ابوسفیان نے کہا کہ میں بولا میں ہوں ۹؎ تو مجھے اس کے سامنے بٹھادیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے۱۰؎ پھر اپنے مترجم کو بلایا اس نے کہا کہ ان لوگوں سے کہو کہ میں ان سے ان صاحب کے متعلق کچھ پوچھوں گا جو اپنے کو نبی کہتے ہیں تو اگر یہ مجھ سے جھوٹ کہیں تو تم انہیں جھٹلادینا ۱۱؎  ابو سفیان کہتے ہیں الله کی قسم اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ مجھ پر جھوٹ مشہور کیا جاوے گا تو میں اس سے جھوٹ بول دیتا۱۲؎ پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھوں کہ ان نبی کا خاندان تم میں کیسا ہے میں نے کہا وہ عالی خاندان ہیں۱۳؎ بولا کیا ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ تھا میں نے کہا نہی۱۴؎  بولا کیا ان کے دعویٰ نبوت سے پہلے تم انہیں جھوٹ سے متہم کرتے تھے میں نے کہا نہیں۱۵؎ وہ بولا ان کی پیروی کون کرتا ہے سردار لوگ یا کمزور لوگ میں نے کہا بلکہ کمزور لوگ۱۶؎ بولا یہ لوگ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں کہتے ہیں کہ میں نےکہا بلکہ بڑھ رہے ہیں بولا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی اپنے دین سے ناراض ہو کر پھر جاتا ہے کہتے ہیں کہ میں نے کہا نہیں۱۷؎  بولا کیا تم نے ان سے کبھی جنگ کی ہے میں نے کہا ہاں بولا تمہاری ان سے جنگ کیسی ہوتی ہے کہتے ہیں میں نے کہا کہ ہمارے ان کے درمیان جنگ ایک ڈول ہوتی ہے۱۸؎ کبھی ہم پر وہ غالب ہوتے کبھی ان پر ہم غالب،بولا کیا بدعہدی کرتے ہیں میں نے کہا نہیں ۱۹؎  آج کل ہم ان سے صلح میں ہیں ہم نہیں جانتے کہ اس میں وہ کیا کریں گے۲۰؎  کہتے ہیں کہ الله کی قسم کہ اس بات کے سوا اور کوئی چیز شامل کرنے کا مجھے موقعہ نہیں ملا  ۲۱؎ وہ بولا کیا ان سے پہلے کسی نے یہ بات کہی تھی۲۲؎ میں نے کہا نہیں۲۳؎  پھر بادشاہ نے اپنے مترجم سے کہا کہ ان سے کہو کہ میں نے تم سے ان کے نسب کے متعلق پوچھا تو تم نے کہا کہ وہ تم میں عالی نسب ہیں اسی طرح انبیاءکرام اپنی قوم کے اعلیٰ نسب میں بھیجے جاتے ہیں۲۴؎ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ ہوا ہے تو تم نے کہا کہ نہیں میں کہتا ہوں کہ اگر انکے باپ دادوں میں بادشاہ ہوا ہوتا تو میں کہتا کہ یہ وہ صاحب ہیں جو اپنے باپ دادوں کے ملک کے طالب ہیں۲۵؎ اور میں نے تم سے ان کے متبعین کے متعلق پوچھا کہ معمولی لوگ ہیں یا بڑے لوگ تو تم نے کہا بلکہ کمزور لوگ ہیں یہ ہی کمزور نبیوں کی متبعین رہے ہیں ۲۶؎  اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان کے اس دعویٰ سے پہلے تم انہیں جھوٹ کا الزام دیتے تھے تم نے کہا کہ نہیں میں نے پہچان لیا کہ یہ ناممکن ہےکہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ بولیں پھر الله پر جھوٹ باندھنے لگیں۲۷؎ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان میں سے کوئی اس دین میں داخل ہونے کے بعد اپنے دین اسلام سے ناراض ہوکر پھر بھی جاتا ہے تم نے کہا کہ نہیں ایمان کا ایسا ہی حال جب اس کی لذت و فرحت دلوں میں گھل مل جاتی ہے۲۸؎ اور میں نے تم سے پوچھا کہ مسلمان بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں تو تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں ایمان کا یہی حال ہے حتی کہ پورا ہوجاتا ہے ۲۹؎  اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی ان سے جنگ کی ہے تو تم نے کہا کہ تم نے ان سے جنگ کی ہے تو جنگ تمہارے اور ان کے درمیان ایک ڈول ہوتی ہے کہ وہ تم سے اور تم ان سے لیتے ہو اسی طرح انبیاءکرام آزمائے جاتے ہیں انجام انہیں کے حق میں ہوتا ہے۳۰؎  اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا عہدشکنی کرتے ہیں تم نے کہا کہ نہیں کرتے اسی طرح انبیاء عہد شکنی نہیں کرتے ۳۱؎  اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کسی نے ان سے پہلے یہ دعویٰ کیا ہے تم نے کہا کہ نہیں میں کہتا ہوں کہ اگر یہ بات ان سے پہلے کسی نے کہی ہوتی تو میں کہتا کہ ایسے صاحب ہیں جو اپنے سے پہلے کہی ہوئی بات کی پیروی کررہے ہیں ۳۲؎ پھر بولا وہ تم کو کیا حکم دیتے ہیں۳۳؎ ہم نے کہا کہ ہم کو نماز،زکوۃ،صلہ رحمی،پاکدامنی کا حکم دیتے ہیں ۳۴؎ وہ بولا جو تم کہتے ہو اگر یہ سچ ہے تو وہ بھیجے نبی ہیں۳۵؎ میں تو جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والے ہیں مگر میرا خیال یہ نہ تھا کہ وہ تم میں سے ہیں ۳۶؎ اگر میں جانتا کہ ان تک پہنچ سکوں گا تو ان سے ملنا پسند کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو ان کے قدم دھوتا۳۷؎  اور ان کا ملک میرے قدموں کے نیچے تک پہنچ جاوے گا۳۸؎ پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا خط منگایا پھر اسے پڑھا۔(مسلم،بخاری) بقیہ پوری حدیث کتاب الی الکفار کے باب میں گزرگئی ۳۹؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن