30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹؎ یہاں امیر معاویہ کے زمانہ سے مراد آپ کی سلطنت کا زمانہ نہیں ہے بلکہ آپ کی گورنری کا زمانہ ہےکیونکہ یہ پہلا جہاد روم خلافت عثمانیہ ۲۸ اٹھائیس میں واقعہ ہوا۔(اشعہ)اس جہاد کی کمان امیر معاویہ کر رہے تھے لہذا فی زمن معاویۃ فرمایا گیا۔
۱۰؎ یہ واقعہ ۲۸ھ میں ہوا،آپ مقام قبرص میں اس طرح شہید ہوئیں۔خیال رہے کہ دوسرا جہاد روم امیر معاویہ کی سلطنت کے زمانہ میں ہوا، ۵۱ اکیاون ہجری میں اس جہاد میں یزید ابن معاویہ غازیوں کا جرنیل تھا اور اس میں حضرت عبدالله ابن عمر،عبدالله ابن عباس،ابو ایوب انصاری،امام حسین وغیرہم جلیل القدر صحابی غازیانہ شان سے شامل تھے۔اس جہاد میں حضرت ابو ایوب انصاری نے قسطنطنیہ(استنبول)میں وفات پائی،یزید ابن معاویہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور یزید ہی نے انہیں قسطنطنیہ(استنبول)کی فصیل کے نیچے دفن کیا اور وہاں کے عیسائیوں سے کہا کہ اگر تم نے اس قبر کی بے حرمتی کی تو میں تمہارے سارے گرجے جو ہمارے ملک میں ہیں ان کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا۔دیکھو قسطلانی شرح بخاری پارہ گیارہ باب قتال روم اور اکمال۔جو لوگ کہتے ہیں کہ امام حسین نے کفار سے جہاد کوئی نہ کیا وہ جھوٹے ہیں،جہاد روم کے اس جہاد میں امام حسین شریک تھے،اسی لشکر میں امام حسین کی شرکت البدایہ والنہایہ میں ہے۔ غرضکہ پہلا جہاد حضرت امیرمعاویہ کے دور گورنری میں ان کے زیر اہتمام ہوا اور دوسرا جہاد امیرمعاویہ کے دور سلطنت میں ہوا۔
|
5860 -[9] وَعَن ابْن عبَّاس قَالَ: إِنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَكَّةَ وَكَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذَا الرِّيحِ فَسَمِعَ سُفَهَاءَ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ: إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ. فَقَالَ: لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللَّهَ يَشْفِيهِ عَلَى يَدَيَّ. قَالَ: فَلَقِيَهُ.فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذَا الرِّيحِ فَهَلْ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ» فَقَالَ: أَعِدْ عَلَيَّ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَرَّاتٍ فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ وَقَوْلَ السَّحَرَةِ وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ. وَلَقَدْ بَلَغْنَ قَامُوسَ الْبَحْرِ هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ قَالَ: فَبَايَعَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي بَعْضِ نُسَخِ «الْمَصَابِيحِ» : بَلَغْنَا نَاعُوسَ الْبَحْر وَذَكَرَ حَدِيثَا أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ «يهْلك كسْرَى» وَالْآخر «ليفتحنَّ عِصَابَةٌ» فِي بَابِ «الْمَلَاحِمِ»
وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَن: الْفَصْل الثَّانِي |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ضماد مکہ مکرمہ آئے اور یہ تھے ازد شنوءہ سے ۱؎ اس قسم کی ہوا سے جھاڑ پھونک کرتے تھے۲؎ انہوں نے مکہ کے بے وقوف باشندوں کو کہتے سنا کہ حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیوانہ ہیں تو بولے کہ ان صاحب کو میں دیکھ لیتا ہوں شاید کہ الله تعالٰی انہیں میرے ہاتھ پر شفا دے دیتا۳؎ فرماتے ہیں کہ وہ حضور سے ملے بولے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اس خلل والی ہوا سے جھاڑ پھونک کرتا ہوں کیا یہ آپ کو ہے ۴؎ تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ ساری تعریفیں الله کی ہیں،ہم اس کی حمد کرتے ہیں اسی سے مدد مانگتے ہیں،جسے الله ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں،میں گواہی دیتا ہوں کہ اکیلے الله کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد الله کے بندے اس کے رسول ہیں اس کے بعد ۵؎ تب ضماد نے کہا اپنے یہ کلمات دوبارہ فرمایئے،رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اس کے سامنے یہ کلمات تین بار لوٹائے ۶؎ وہ بولا کہ میں نے کاہنوں کی باتیں شاعروں کے قول سنے ہیں مگر میں نے آپ کی ان باتوں کی مثل کبھی نہیں سنیں ۷؎ یہ تو سمندر کی تہہ کو پہنچی ہوئی ہیں۸؎ اپنا ہاتھ لائیے میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں فرمایا اس نے حضور کی بیعت کرلی ۹؎ (مسلم)اور مصابیح کے بعض نسخوں میں ہے سمندر کی گہرائی میں پہنچ گئے ہیں۱۰؎ اور ابوہریرہ اور جابر ابن سمرہ کی دونوں حدیثیں کہ کسریٰ ہلاک ہوجاوے گا اور دوسری کہ ایک جماعت فتح کرے گی لڑائیوں کے باب میں بیان کردی گئیں۔ اور یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع