دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۲؎  حضرت ام حرام حضور صلی الله علیہ و سلم کی محرمہ ہیں اس پر سب کا اتفاق ہے۔گفتگو اس میں ہے کہ محرمہ کیوں تھیں یا تو آپ کی رضاعی خالہ ہیں یا حضرت عبدالله کی خالہ ہیں یا عبدالمطلب کی کیونکہ عبدالله اور عبدالمطلب بنی نجار کے رشتہ دار ہیں۔ (مرقات)بہرحال حضور انور کا ان کے پاس جانا،کھانا پینا،وہاں سونا ان کا حضور انور کا سر شریف دیکھنا بالکل جائز تھا۔خیال رہے کہ لیٹے ہوئے آدمی کے سر کو کھجلانا ٹٹولنا اس کے راحت کا باعث ہے ام حرام کا یہ عمل شریف اس لیے تھا۔

۳؎  یعنی میری وفات کے بعد میری امت کے شاندار غازی جہاد کے لیے سمندر کا سفر کریں گے یہ پہلا سمندری حملہ ہوگا جو وہ لوگ کریں گے۔ثج  ث کے فتحہ جیم کے شد سے بمعنی چوڑائی،بلندی،گہرائی اور انسان کی پیٹھ و کندھے کے درمیان کی جگہ،یہاں پہلے معنی میں ہے بحر سے مراد بحر عرب یعنی سمندر ہے۔

۴؎  یہ شک راوی کو ہے کہ ملوکًا فرمایا یا مثل ملوك فرمایا۔اس فرمان عالی میں دو باتیں بتائیں: ایک یہ کہ وہ غازی سادہ زندگی سادہ لباس والے نہیں بلکہ شاہانہ شان و شوکت والے ہوں گے،شاہانہ شان سے سمندر کا سفر کریں گے۔ دوسرے یہ کہ یہ لوگ الله کے بڑے ہی مقرب بندے ہوں گے کہ باوجود شاہانہ شان اور دنیاوی عیش و آرام اور عیش کے ساز و سامان کے اپنے گھر چھوڑ کر جہاد کرنے نکلیں گے،مقبولین بارگاہ ہوں گے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تبسم فرمانے سے معلوم ہوا کہ سرکار کو اپنی امت کے شان و شوکت دیکھ کر خوشی ہوئی کیوں نہ ہو کہ بچوں کی شان سے باپ کو خوشی ہوتی ہے۔

۵؎  حضرت ام حرام نے محسوس کرلیا کہ حضور انور ان غازیوں سے بہت ہی خوش ہیں اور وہ لوگ سارے کے سارے بخشے ہوئے ہیں،تو عرض کیا کہ حضور دعا فرمادیں کہ میں بھی ان میں سے ہوؤں تاکہ آپ کی نگاہ کرم اور الله تعالٰی کی بخشش کی حصہ دار ہوجاؤں۔

۶؎  حضور انور کی دعا کی برکت سے ام حرام الله کے ہاں ان غازیوں کی فہرست میں آگئیں جیساکہ آگے معلوم ہورہا ہے۔

۷؎  یعنی اس دوسری خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے غازی دکھائے گئے جو اس سمندر میں اسی نیت جہاد سے اسی ملک روم کا سفر کریں گے مگر یہ لوگ وہ ہی پہلے والے نہ ہوں گے بلکہ دوسرے لوگ ہوں گے،بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ دونوں جماعتیں مغفور ہوں گی۔

۸؎  یعنی تم کو اس جہاد میں شرکت کا موقعہ نہیں ملے گا کیونکہ تم پہلے جہاد میں شہید ہوچکی ہوگی یہ جہاد تمہاری وفات کے بعد ہوگا۔اس فرمان عالی سے چند مسائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ وہ سارے مجاہدین دنیا و آخرت میں مؤمن ہوں گےکہ انہیں امتی فرمایا۔دوسری روایت میں ہے کہ انہیں مغفورین فرمایا۔دوسرے یہ کہ مجاہدین شاہانہ شان و شوکت کے مالک ہوں گے اس وقت مسلمانوں کے پاس دولت ملک بہت ہوگی۔تیسرے یہ کہ ان کے یہ دونوں جہاد قبول ہوں گے اور حضور ان دونوں قسم کے غازیوں سے راضی و خوش ہیں اسی لیے حضور یہ خواب دیکھ کر مغموم نہیں ہوئے بلکہ خوش ہوئے۔چوتھے یہ کہ اس جہاد میں شریک ہونے والے بڑے درجات والے ہوں گےاگرچہ ان میں سے بعض کو جنگ کا موقعہ نہ ملے جیسے خود ام حرام کا واقعہ ہوا۔پانچویں یہ کہ حضور ہرشخص کے وقت موت اور جگہ موت سے خبردار ہیں کہ فرما دیا تم اس دوسرے جہاد کے وقت فوت ہوچکی ہوگی۔چھٹے یہ کہ امیر معاویہ اور ان کے ساتھی جلیل القدر صحابہ ہیں جنتی ہیں کہ یہ واقعہ امیر معاویہ کے زمانہ ہی میں تو پیش آیا جس کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی خوشی منائی دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ پر ایک نظر۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن