30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ وہ پتھر یوں کہتا تھا السلام علیك یارسول الله السلام علیك یا حبیب الله جیساکہ باب المعجزات میں آوے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور اپنی نبوت سے بچپن شریف میں ہی خبردار تھے۔مکہ معظمہ کے پتھر اور در و دیوار حضور کی نبوت کی گواہی دے چکے تھے،پہلی وحی کے سارے واقعات حضور کی بے علمی کی بنا پر نہیں جیساکہ ہم ابھی پچھلے باب میں عرض کرچکے ہیں۔جو لوگ کہتے ہیں کہ اس وقت حضور کو اپنی نبوت کی خبر نہ تھی،آپ نے حضرت جبریل کو نہ پہچانا یا یہ کہ خدیجہ کبریٰ اور ورقہ ابن نوفل کے بتانے سے حضور نے اپنے کو نبی جانا غلط ہے۔آج بچپن شریف میں پتھر تک حضور کو رسول الله نبی الله کہہ کر سلام کررہے پھر بے خبری کیسے۔
|
5854 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أنسٍ قَالَ: إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمُ الْقَمَرَ شِقَّتَيْنِ حَتَّى رَأَوْا حِرَاءً بَيْنَهُمَا. |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ مکہ والوں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا کہ انہیں حضور کوئی معجزہ دکھائیں ۱؎ تو حضور نے انہیں چاند کے دو ٹکڑے کرکے دکھایا ۲؎ حتی کہ انہوں نے حراء کو ان دونوں کے بیچ میں دیکھا ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ خرپوتی شرح قصیدہ بردہ میں ہے کہ یمن کا سردار حبیب ابن مالک ابوجہل کی دعوت پر مکہ معظمہ آیا تھا کہ اسلام کا زور کم کرے،لوگوں کو اسلام سے روکے،اس نے ابوجہل وغیرہ کے ساتھ یہ مطالبہ کیا تھا کہ آپ ہم کو آسمانی معجزہ یعنی چاند دو ٹکڑے کرکے دکھائیں حضور انور نے ان سب کو صفا پہاڑ پر لے جاکر یہ معجزہ دکھایا،پھر وہ بولا کہ اب یہ معجزہ دکھائیں کہ بتائیں میرے دل کو کیا دکھ ہے،فرمایا تیری ایک بیٹی ہے سطیحہ نام جو آنکھوں سے اندھی،کانوں سے بہری،پاؤں سے لنگڑی،زبان سے گونگی، ہاتھوں سے لنجی ہے جا اسے الله نے شفا دے دی حبیب نے فورًا کلمہ پڑھا،جب گھر پہنچا تو دروازہ کھولنے وہ ہی بے دست و پا لڑکی سطیحہ آئی باپ کو دیکھ کر اس نے کلمہ پڑھا حبیب بولا تجھے یہ کلمہ کون پڑھا گیا ابھی تو اس ملک میں یہ کلمہ نہیں آیا وہ بولی۔شعر
وہ دکھا کے شکل چلے گئے میرے دل کا چین بھی لے گئے
مری روح ساتھ نہ کیوں گئی مجھے اب تو زندگی بار ہے
میں نے اس حلیہ کے بزرگ کو خواب میں دیکھا جو کہتے ہیں بیٹی تیرے باپ کو ہم مکہ میں کلمہ پڑھا رہے ہیں تو یہاں کلمہ پڑھ لے تجھے الله نے شفا بھی بخش دی،میں جاگی تو تندرست تھی اور یہ کلمہ زبان پر جاری تھا۔(خرپوتی)
۲؎ چاند چیرنے کا معجزہ تواتر معنوی سے اور قرآن مجید سے ثابت ہے،رب فرماتاہے:"اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الْقَمَرُ"آیت میں قیامت کا چاند چرنا مراد نہیں کیونکہ آگے ہے:"وَ اِنۡ یَّرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوۡا وَ یَقُوۡلُوۡا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ"کفار یہ معجزہ دیکھ کر بھی کہیں گے کہ یہ جادو دائمی ہے قیامت میں مستمر چاند چرنے کو جادو کوئی نہیں کہہ سکتا،دیکھو مرقات اور اشعۃ اللمعات۔
۳؎ خیال رہے کہ جنہوں نے یہ معجزہ صفا پہاڑ کی طرف سے دیکھا انہوں نے کہا کہ چاند کے دو ٹکڑوں کے بیچ میں صفا تھا، جنہوں نے جبل نور کی طرف سے دیکھا انہوں نے کہا کہ بیچ میں حرا تھا لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔خیال رہے کہ جیسے چاند گرہن ہر جگہ نظر نہیں آتا ایسے ہی چاند چرنا ہر جگہ نظر نہیں آیا اس وقت بعض ملکوں میں دن تھا،نیز جہاں نظر آیا وہاں سب نے نہ دیکھا،بعض لوگ اس وقت سوچکے تھے جاگتے تھے انہوں نے آسمان کی طرف نہ دیکھا کیونکہ چاندنی میں کوئی کمی یا فرق نہ ہوا تھا،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع