30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ علامت بنا ہے علم سے بمعنی نشانی۔یہاں نبوت کے نشانات مراد ہیں جن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا پتہ چلے،یعنی وہ عجائب قدرت جو آپ کی تائید میں آپ سے ظاہر ہوں خواہ نبوت کے اعلان سے پہلے جنہیں ارہاص کہتے ہیں خواہ نبوت کے ظہور کے بعد جنہیں معجزات کہتے ہیں،بلکہ گزشتہ آسمانی کتب میں آپ کا ذکر بھی انہیں علامات میں داخل ہے اس لیے اس باب میں یہ تینوں چیزیں بیان ہوں گی اور معجزات کے باب میں صرف وہ عجائبات بیان ہوں گے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بعد دعویٰ نبوت کے ظاہر ہوئے اس لیے صاحب مشکوۃ معجزات کا علیحدہ باب باندھیں گے۔
|
5852 -[1] عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً. فَقَالَ: هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ وَأَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرَهُ. فَقَالُوا: إِنْ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقَعُ اللَّوْنِ قَالَ أَنَسٌ: فَكُنْتُ أَرَى أَثَرَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں جناب جبریل علیہ السلام آئے جب کہ آپ بچوں کے ساتھ مشغول تھے ۱؎ تو حضور کو پکڑا انہیں لٹایا ان کا دل چاک کیا تو اس سے پارہ گوشت نکالا پھر کہا کہ یہ آپ میں شیطان کا حصہ ہے۲؎ پھر اسے سونے کے طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا۳؎ پھر اسے سی دیا اور اس کی جگہ واپس رکھ دیا۴؎ چند بچے حضور کی ماں یعنی حضور کی دائی کے پاس دوڑتے آئے۵؎ بولے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیا گیا لوگ آپ کی طرف دوڑے آئے۶؎ آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا۷؎ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دھاگے کا اثر آپ کے سینہ پاک میں دیکھا کرتا تھا ۸؎(مسلم) |
۱؎ یہاں لعب سے مراد لغو کھیل کود نہیں ہے کیونکہ حضور انور اپنی عمر شریف میں کبھی نہیں کھیلے بچپن شریف میں ہی کھیل سے نفرت تھی،کسی بچےنے کھیل کے لیے بلایا تو فرمایا ما خلقنا لھذا ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں ہوئے بلکہ لعب سے مراد دنیاوی کام میں مشغولیت ہے۔یہ واقعہ جناب حلیمہ کے ہاں کا ہے جب حضور انور حلیمہ کے بچوں کے ساتھ بکریاں چرانے قبیلہ بنی سعد کے جنگل میں تشریف لے گئے تھے اور خود اپنی خوشی سے بہ اصرار گئے تھے یہ واقعہ وہاں کا ہے۔شعر
فضل پیدائشی پر کروڑوں درود کھیلنے سے کراہت پہ لاکھوں سلام (اعلیٰ حضرت)
۲؎ یعنی اگر یہ حصہ تمہارے دل میں رہتا تو شیطان اس پر اپنا اثر کیا کرتا ہم وہ چیز آپ کے دل میں رہنے دیں گے ہی نہیں جس پر شیطان اثر جماتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم گناہ کرسکتے ہی نہ تھےکیونکہ گناہ یا تو نفس امارہ کراتا ہےیا شیطان،حضور کا نفس امارہ نہیں بلکہ نفس مطمئنہ ہے،شیطان کی حضور انور کے دل تک گزر نہیں پھر گناہ کون کرائے۔خیال رہے کہ اولًا دل میں یہ گوشت کا ٹکڑا پیدا کیا جانا پھر اس کا نکالا جانا ایسا ہے جیسے جسم اقدس پر بالوں ناخنوں کا ہونا پھر ان کا کٹوایا جانا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع