30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مطلب یہ ہے کہ مجھے حکم دیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو ملادوں جس سے سارا طائف اس طرح پس جاوے جیسے چکی کے پاٹوں میں دانے پس جاتے ہیں۔
۱۴؎ یہ فرمان عالی ایک سوال کے جواب میں ہے،حضور انور نے اس سے منع فرمایا فرشتہ نے بہ ادب اجازت دینے کا اصرار کیا تب حضور انور نے یہ وجہ بیان فرمائی کہ اگرچہ یہ لوگ اسی سزا کے مستحق ہیں مگر وہ وہی ہیں ہم ہم ہیں۔ہم تو یہ کہتے ہیں ؎
الہ العالمین کر رحم طائف کے مکینوں پر الٰہی پھول برسا پتھروں والی زمینوں پر
اعدا پہ یہ رحمت صل علی طائف کی فضائیں شاہد ہیں دیتے ہیں دعا سرکار انہیں جو مارنے پتھر آتے ہیں
بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ابن عبدیا لیل اسلام لانے حاضر ہوا صحابہ نے خبر دی کہ وہ آتا ہے فرمایا آنے دو وہ آپ کے سامنے بیٹھ کر بہت زار زار رویا اور کبھی آپ کے سامنے سر اونچا نہ کیا آنکھ نہ اٹھائی۔والله ورسولہ اعلم! اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور ان کفار کی اولاد کے حالات سے بھی خبردار ہیں کہ وہ ایمان لائیں گے،چنانچہ وہاں سب ہی مؤمن ہوئے اور اب تک ایک بھی کافر نہیں،نوح علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا تھا"وَ لَا یَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا"خدایا اب یہ قوم کافر و فاجر ہی جنے گی۔معلوم ہوا کہ پشتہاپشت کے حالات سے خبردار ہیں۔شعر
ملکہ قبل ازدا دن تو سالہا ہم چنیں دانند چنیں حالہا
|
5849 -[13] وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ رَأْسِهِ فَجَعَلَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْهُ وَيَقُولُ: «كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا رَأْسَ نَبِيِّهِمْ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ احد کے دن رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی چوکڑی شہید کردی گئی ۱؎ اور آپ کے سر میں زخم لگادیا گیا۲؎ تو آپ اپنے سے خون پونچھنے لگے۳؎ اور فرمانے لگے کہ وہ قوم کیسے کامیاب ہو جس نے اپنے نبی کا سر زخمی کر دیا اور اس کی چوکڑی شہید کردی۴؎ (مسلم) |
۱؎ سامنے کے چار دانت دو اوپر کے اور دو نیچے کے رباعیہ کہلاتے ہیں بروزن ثمانیہ،اردو میں انہیں چوکڑی کہتے ہیں۔حضور انور کی داہنی کی نیچے کی چوکڑی کا ایک دانت شریف کا ایک کنگرہ ٹوٹا تھا یہ دانت شہید نہ ہوا تھا اور ہونٹ شریف بھی زخمی ہوگیا تھا۔یہ زخم عتبہ بن ابی وقاص کے پتھر سے لگا تھا،اس کے بعد عتبہ کا جو بیٹا پیدا ہوتا بالغ ہوتے ہی اس کا یہ ہی دانت گر جاتا تھا۔عتبہ کے اسلام میں اختلاف ہے،یہ عتبہ حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی الله تعالٰی عنہ کا بھائی ہے۔(اشعۃ اللمعات)
۲؎ غزوہ احد میں حضور انور پر کفار کی تلواریں ستر پڑیں الله نے حضور کو بچالیا،ان کے وار خالی گئے۔ایک کافر کا پتھر سر مبارک میں لگا جس سے خود ٹوٹ کر سر شریف میں گڑ گیا اور خون جاری ہوگیا۔ایک مسلمان نے اس پتھر مارنے والے کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے،آگے گڑھا تھا جس میں حضور انور کا گھوڑا گر گیا اور آپ اس غار میں گر گئے حضرت طلحہ فورًا وہاں کود گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم انور کو اپنی گود میں اٹھالیا،حضور نے فرمایا طلحہ نے اپنے لیے جنت واجب کرلی،حضرت ابو عبیدہ ابن جراح نے اپنے دانتوں سے خود کی کڑیاں سر شریف میں سے نکالیں اور مالک ابن سنان نے حضور کے زخم پر منہ رکھ کر خون چوس لیا،حضور انور نے فرمایا میرا خون تیرے خون سے مخلوط ہوگیا ا س پر دوزخ کی آگ حرام ہے۔(اشعۃ اللمعات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع