30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۲؎ ابوجہل کا نام عمرو ابن ہشام ابن مغیرہ مخزومی ہے،اس کی کنیت ابو الحکم تھی کہ لوگوں میں یہ فیصلے کرتا تھا حضور انور نے اس کی کنیت ابوجہل رکھی،اس میں وہ ایسا مشہور ہوگیا کہ اس کا نام اس کی پہلی کنیت چھپ کر رہ گئی۔غزوہ بدر میں عفراء کے دو بچوں معوذ و معاذ کے ہاتھوں قتل ہوا،حضرت عبدالله ابن مسعود نے اس کا ناپاک سر جسم سے جدا کیا۔
۱۳؎ حضور انور نے اپنی ذاتی دشمن کو کبھی بددعا نہیں دی،یہ دشمن دینی تھے جو حضور انور کی نماز میں خلل ڈالتے اور حضور کو دینی تکالیف بھی پہنچاتے رہتے۔اپنے دشمنوں کو معافی دینا،قوم،ملک،قانون کے دشمنوں پرسختی کرنا یہ ہی اخلاقی محمدی ہیں"اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ"۔
۱۴؎ خیال رہے کہ شیبہ ابن ربیعہ ابن شمس ابن عبدمناف کو بدر کے دن حضرت علی نے جہنم رسید کیا اور عتبہ ابن ربیعہ کو جو شیبہ کا بھائی تھا حضرت حمزہ ابن عبدالمطلب نے بدر کے دن قتل کیا اور امیہ ابن خلف جو حضرت بلال کا پہلا مولٰی تھا یہ بھی بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں بہت بری طرح مارا گیا جس کا ذکر بہت طویل ہے۔الله تعالٰی نے اسے اسی طرح قتل کرایا نیزے، برچھے چھروا کر جیسے وہ حضرت بلال کے جسم شریف میں گرم لوہے کی سلاخین چبھویا کرتا تھا۔اس کے بھائی ابی ابن خلف کو احد کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قتل کیا اپنے ہاتھ شریف سے،صرف یہ ہی کافر حضور کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔
۱۵؎ یعنی حضرت عبدالله ابن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور انور کی یہ دعا قبول ہوئی اور یہ لوگ کفر پر مرے یا مارے گئے۔ خیال رہے کہ ان میں سے عمارہ ابن ولید جنگ بدر میں قتل نہیں ہوا بلکہ حبشہ میں مرا اور عقبہ ابن ابی معیط جنگ بدر سے واپس آکر مارا گیا۔(اشعہ)لہذا ان سب کو بدر کا مقتول کہنا تغلیبًا ہے۔
۱۶؎ بدر ایک شخص کا نام تھا جو اس جگہ کا مالک تھا اس کے نام پر اس علاقہ کو اور اس کنویں کو بدر کہنے لگے۔قلیب کنویں کے پاس وہ گہرا غار جو کچا ہو اور اس پر من وغیرہ نہ ہو اس میں ان تمام کی لاشیں ڈالی گئیں مگر امیہ ابن خلف کی لاش ڈالی نہیں جاسکی کیونکہ اسے کھینچتے ہی اس کے اعضاء الگ الگ ہوگئے۔
۱۷؎ یعنی دنیا میں تو ان کی ایسی ذلت و رسوائی ہوئی اور آخرت کی رسوائی اور عذاب ان کے لیے تیار تھا کہ قلیب میں پڑتے ہی اس میں گرفتار کرلیے گئے۔لعنت سے مراد فرشتوں کی پھٹکار اور ان کی سخت مار ہے جس میں وہ گرفتار ہوئے۔ (مرقات)معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے والا بدترین بدبخت ہے جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں لینے والا بہت ہی خوش نصیب ہے۔
|
5848 -[12] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن عَائِشَة أَنَّهَا قَالَت: هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ؟ فَقَالَ: " لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ فَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ إِذْ عرضتُ نَفسِي على ابْن عبد يَا لِيل بْنِ كُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ - وَأَنا مهموم - على وَجْهي فَلم أفق إِلَّا فِي قرن الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِي فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ ". قَالَ: " فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرك إِن شِئْت أطبق عَلَيْهِم الأخشبين " فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئا» . |
روایت ہے حضرت عائشہ سے انہوں نے عرض کیا یارسول الله کیا آپ پر کوئی دن ایسا بھی گزرا جو احد کے دن سے زیادہ سخت ہو ۱؎ تو فرمایا میں نے تمہاری قوم سے بڑی مصیبتیں جھیلیں۲؎ احد سے سخت دن جب میں نے ان کی مصیبت جھیلی عقبہ کا دن تھا۳؎ جب کہ میں نے اپنے کو ابن عبدیا لیل ابن کلال کے سامنے کیا ۴؎ جو میں نے چاہا تھا اس نے وہ جواب نہ دیا ۵؎ تو میں اپنے رخ پر چلا حالانکہ میں حیران تھا مجھے اس حیرانی سے افاقہ نہ ہوا مگر مقام قرن ثعالب میں۶؎ تو میں نے اپنا سر اٹھایا ۷؎ تو میں ایک بادل کے سامنے تھا جس نے مجھ پر سایہ کیا تھا میں نے دیکھا تو اس میں جبریل تھے۸؎ انہوں نے مجھے پکارا عرض کیا کہ الله نے آپ کی قوم کا کلام اور جو انہوں نے آپ کو جواب دیا سن لیا آپ کی خدمت میں پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے ۹؎ تاکہ آپ ان کفار کے متعلق جو چاہیں حکم دیں۱۰؎ فرمایا کہ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے پکارا مجھے سلام کیا پھر کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۱۱؎ الله نے آپ کی قوم کا کلام سن لیا میں پہاڑوں کافرشتہ ہوں مجھے آپ کے رب نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے اپنے فیصلے کا حکم دیں۱۲؎ اگر آپ چاہیں تو میں ان لوگوں پر دو اخشب پہاڑ ملادوں۱۳؎ تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا بلکہ میں امیدکرتا ہوں کہ الله تعالٰی ان کی پیٹھوں میں سے ایسے لوگ پیدا کرے جو ایک الله کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں ۱۴؎ (مسلم، بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع