دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

5847 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ وَجُمِعَ قُرَيْشٌ فِي مَجَالِسِهِمْ إِذْ قَالَ قَائِلٌ: أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى جَزُورِ آلِ فُلَانٍ فَيَعْمِدُ إِلَى فَرْثِهَا وَدَمِهَا وَسَلَاهَا ثُمَّ يُمْهِلُهُ حَتَّى إِذَا سَجَدَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَثَبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا فَضَحِكُوا حَتَّى مَالَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنَ الضَّحِكِ فَانْطَلَقَ مُنْطَلِقٌ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى وَثَبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا حَتَّى أَلْقَتْهُ عَنْهُ وَأَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَسُبُّهُمْ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ» ثَلَاثًا - وَكَانَ إِذَا دَعَا دَعَا ثَلَاثًا وَإِذَا سَأَلَ سَأَلَ ثَلَاثًا -: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَام وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَعُمَارَةَ بن الْوَلِيد» . قَالَ عبد الله: فو الله لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأُتْبِعَ أَصْحَابُ القليب لعنة» .

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں جب کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کعبہ کے پاس نماز پڑھتے تھے ۱؎ اور قریش کی ایک جماعت اپنی مجلسوں میں تھی کہ ایک بولا ۲؎ تم میں کون شخص فلاں قبیلہ کے ذبیحہ اونٹ کیطرف جائے گا اور اس کی لید اور ا س کے خون اس کی اوجڑی لائے حضور کو مہلت دے حتی کہ جب آپ سجدہ کریں تو اسے آپ کے کندھوں کے بیچ رکھ دے۳؎ تو ان میں سے بڑا بدبخت گیا پھر جب حضور نے سجدہ کیا تو وہ آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا۴؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم سجدہ میں ٹھہرے رہے ۵؎ کفار ہنسے حتی کہ بعض بعض پر گرنے لگے ہنسی کی وجہ سے ۶؎ پھر کوئی جانے والا جناب فاطمہ کے پاس گیا ۷؎ وہ دوڑتی آئیں ۸؎  اور نبی صلی الله علیہ و سلم سجدہ میں رہے حتی کہ انہوں نے آپ سے یہ گندگی ہٹا دی اور آپ ان پر متوجہ ہوئیں انہیں برا کہتی تھیں ۹؎ پھر جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے نماز پوری فرمالی تو عرض کیا الٰہی ان قریشیوں کو پکڑ لے تین بار فرمایا ۱۰؎ اور آپ جب دعا مانگتے تو تین بار مانگتے تھے اور جب سوال کرتے تو تین بار کرتے تھے ۱۱؎  الٰہی پکڑ لے ابوجہل کو۱۲؎ عتبہ ابن ربیعہ کو شیبہ ابن ربیعہ کو۱۳؎ اور ولید ابن عتبہ کو اور امیہ ابن خلف کو اور عقبہ ابن ابی معیط کو اور عمارہ ابن ولیدکو۱۴؎ جناب عبدالله فرماتے ہیں کہ الله کی قسم میں نے انہیں بدر کے دن پچھڑا ہوا دیکھا ۱۵؎ پھر وہ بدر کے جھیرے کی طرف کھینچ کر پھینکے گئے ۱۶؎ پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان جھیرے والوں پر لعنت ڈالی گئی ۱۷؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ غالب یہ ہے کہ یہ نماز وہ نماز تھی جو حضور انور اپنے الہام سے پڑھا کرتے تھے،یہ نماز پنج گانہ میں سے نہ تھی کیونکہ یہ واقعہ جب کا ہے جب جناب فاطمہ بہت چھوٹی بچی تھی اور ابھی حضور انور کو معراج نہیں ہوئی تھی نماز پنجگانہ معراج میں عطا ہوئی ہے۔

۲؎  یہ بولنے والا ابوجہل تھا جیساکہ روایات میں ہے،بعض نے کہا کہ کوئی اور تھا۔(مرقات)

۳؎  یعنی وہ تو یہ حرکت کرے اور ہم لوگ تماشا کے طور پر ہنسی مذاق کریں۔معلوم ہوا کہ حضرات انبیاءکرام سے ہنسی کرنا کفار کا پرانا دستور ہے،ان حضرات کےکسی عمل شریف کا مذاق اڑانا کفر ہے،ان کی ہر ادا کا ادب و احترام ایمان کا رکن ہے۔

۴؎  یہ حرکت کرنے والا عقبہ ابن ابی معیط تھا،بعض نے کہا کہ ابوجہل خود تھا۔

۵؎  چونکہ اس وقت تک نماز کے احکام طہارۃ وغیرہ نہیں آئے تھے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست پڑ جانے کے باوجود سجدہ جاری رکھا،یہ نماز وہ نہ تھی جو اسلام میں بعد معراج جاری ہوئی یا ممکن ہے کہ سر مبارک اس لیے نہ اٹھایا کہ فرش کعبہ پر یہ نجاستیں نہ گریں۔جب جناب فاطمہ نے یہ چیزیں پھینک دیں تو کپڑے پاک کرکے نماز دوبارہ پڑھی ہو لہذا اب اگر دوران نماز نمازی پر نجاست گر جاوے تو نماز ٹوٹ جاوے گی دوبارہ پڑھنی ہوگی،بعض آئمہ کے ہاں اگر دوران نماز نمازی پر نجاست گرجاوے تو نماز ہوجاتی ہے اول سے کپڑے بدن پاک ہونا چاہئیں درمیان میں پاک رہنا ضروری نہیں انکے قول پر حدیث بالکل ظاہر ہے۔

۶؎  یہ ہنسی صرف کفر ہی نہ تھی بلکہ عذاب الٰہی کا پیش خیمہ تھی ان لوگوں کو ایمان کی توفیق نہ ملی حتی کہ جنگ بدر میں سارے کفر پر مارے گئے۔

۷؎  اس وقت حضرت ابوبکر صدیق یا علی مرتضیٰ یا اور کوئی صحابی موجود نہ تھے کفار میں سے کوئی نرم دل کافر جو بدنصیبوں کا مقابلہ کرکے حضور انور کی یہ تکلیف دور نہ کرسکتا تھا وہ دوڑا ہوا جناب فاطمہ کے پاس پہنچا کہ ایسے موقعہ پر چھوٹے بچے بے تکلف وہ کام کرلیتے ہیں جو بڑوں سے نہیں ہوتے اور اگر مسلمان نے خبر دی ہے تو وہ بھی یہی وجہ تھی کہ اس مسلمان کے یہ پلیدی ہٹانے پر جنگ کا خطرہ تھا وہ اکیلا ان سب سے لڑ نہ سکتا تھا اس لیے اس نے یہ ترکیب نکالی۔اشعۃ اللمعات نے کہا کہ یہ خبر دینے والے حضرت عبدالله ابن مسعود تھے۔

۸؎  اس وقت حضرت فاطمہ بہت چھوٹی بچی تھیں اسی لیے آپ دوڑتی ہوئی آئیں بچے جب بھی چلتے ہیں تو دوڑتے ہوئے چلتے ہیں۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضرت خاتون جنت فاطمہ زہرا کی ولادت پاک کے وقت حضور انور کی عمر شریف اکتالیس سال تھی۔

۹؎  خیال رہے کہ عربی میں شتم کہتے ہیں گالی کو،سب کہتے ہیں برا کہنے ملامت کرنے کو۔حضرت فاطمہ کی زبان شریف پر گالی کبھی نہیں آئی ہاں آپ نے اس وقت کفار کو ملامت کی سب کے یہ ہی معنی ہیں۔

۱۰؎ قریش سے مراد قوم قریش نہیں،قریش تو خود حضور انور جناب صدیق و فاروق عثمان و علی بھی ہیں۔مراد یہ قریشی لوگ ہیں جنہوں نے مذکورہ بے ادبی گستاخی کی،اگلی عبارت اسی کی تفصیل ہے۔نماز پوری فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور نے فورًا نماز نہیں توڑ دی بلکہ بقیہ رکعات پوری فرمالیں،اس کی تحقیق ابھی کی گئی کہ اس وقت نماز میں طہارت کے بلکہ خود نماز کے احکام نہیں آئے تھے۔

۱۱؎  سنت یہ ہی ہے کہ دعا مانگے تو تین بار،رب سے کچھ سوال کرے تو تین بار،سوال سے مراد بھی دعا ہی ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن