30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یہ حضور انور پر چوتھی قسم کی وحی آئی،پہلی وحی"اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ"،دوسری وحی"یٰۤاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنۡذِرْ"، تیسری وحی"مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی"پوری سورت چوتھی وحی یہ اس ترتیب میں اور روایات بھی ہیں۔پہلی وحی میں ذکر الله کا حکم،دوسری وحی میں حضور کی محبوبیت کااظہار،تیسری وحی میں تہذیب اخلاق پاکیزگی صفائی کا حکم،چوتھی وحی میں عزیزوں کو تبلیغ۔خیال رہے کہ یہ تربیت بہت ہی شاندار ہے پہلے اپنے اصلاح،پھر اپنی قریبی عزیزوں کی اصلاح، پھر دوسروں کی درستی،یہ ہی ترتیب جہاد میں تھی کہ پہلے قریبی کافروں پر پھر دور والوں پر،رب فرماتا ہے:"قٰتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الْکُفَّارِ"اب بھی یہ ترتیب چاہیےکہ پہلے اپنے نفس کی اصلاح،پھر قریبی عزیزوں کی، پھر دوسروں کی۔
۲؎ صوفیاء فرماتے ہیں کہ پہلی تبلیغ صفا پہاڑ پر چڑھ کر فرمائی نہ کہ بیت الله شریف میں۔اس میں اشارۃً اپنا مقام بتایا کہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر انسان دور دور کی چیز دیکھ لیتا ہے اور پہاڑ کے دونوں طرف کی خبر رکھتا ہے حضور انور انسانیت کے اعلٰی درجہ پر ہیں اور اس مقام پر ہیں جہاں کونین نظر آتے ہیں فرش پر بھی نظر رکھتے ہیں عرش پر مخلوق کی بھی خبر رکھتے ہیں،خالق کی ذات و صفات سے بھی خبردار ہیں۔شعر
ادھر الله سےواصل ادھردنیا میں ہیں شاغل خواص اس برزخ کبریٰ میں ہے حرف مشدد کا
حضور کی زبان مخلوق کی طرف ہے کان خالق کی طرف حضور کا ایک ہاتھ لینے والا رب کی طرف ہے دوسرا ہاتھ دینے والا ہم بھکاریوں کی طرف۔جب رب اپنے بندوں سے کچھ کہتا ہے تو حضور کی معرفت تو ہم جب رب تعالٰی سے کچھ کہیں تو حضور کی معرفت حضور برزخ کبریٰ ہیں خالق و مخلوق کے درمیان اللہم صل وسلم وبارك علیہ۔
۳؎ یہ آواز سارے مکہ میں پہنچ گئی ہر کان نے سن لی یہ بھی حضور کا معجزہ ہے ورنہ پہاڑ کی آواز نیچے نہیں پہنچتی حضرت ابراہیم کی پکار تمام ارواح کو سنا دی گئی۔
۴؎ یہاں حدیث مختصر لائی گئی،اس تبلیغ کی ابتداء یوں فرمائی کہ ارشاد فرمایا کیف انا فیکم اے اہل مکہ تم میں میں نے اپنی عمر گزاری تم نے میرے شب و روز دیکھے بتاؤ میں تم میں کیسا ہوں،سب نے یک زبان سے کہا کہ صادق الوعد ہیں امین ہیں،تب فرمایا کہ اگر میں تم کو یہ خبر دوں الخ۔جس سے پتہ لگا کہ ایمان کا پہلا رکن حضور انور کو جاننا پہچاننا ماننا ہے باقی ارکان بعد کے ہیں اسی لیے کافر کو کلمہ پڑھا کر مسلمان کرتے ہیں قرآن مجید نماز وغیرہ سب بعد کی چیزیں ہیں۔
۵؎ یعنی اگر تمہاری آنکھیں کہتی ہیں کہ اس میدان میں ایک چیونٹی بھی نہیں مگر میری زبان کہے کہ یہاں لشکر جرار ہے جو عنقریب تم پر حملہ آور ہوگا تو بتاؤ اپنی آنکھوں کو مانو گے یا میری زبان کی۔اس میں حضور انور نے اپنے علوم غیبیہ کا ان کفار سے اقرار کرایا،نبی کہتے ہی اسے ہیں جو غیبی خبریں دے جیسے رب تعالٰی نے آدم علیہ السلام کے علوم فرشتوں کو دکھائے پھرانہیں سجدے کا حکم دیا،علم غیب نبی ماننا سب سے مقدم ہے۔
۶؎ یعنی ہم نے آپ کا بچپن جوانی پختہ سال دیکھی ہے آپ کی زبان پر کبھی جھوٹ نہیں آتے دیکھا ہماری آنکھ جھوٹی ہوسکتی ہے مگر آپ کی زبان جھوٹی نہیں ہوسکتی،یہ ہے دشمنوں کی گواہی۔خیال رہے کہ الله تعالٰی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح اپنے محبوب کو مکہ معظمہ سے باہر نہیں رکھا تاکہ کفار مکہ فرعون کی طرح یہ نہ کہہ سکیں کہ آپ باہر سے علم پڑھ کر جادو سیکھ آئے ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع