دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

حضرت جبریل کی ملکیت پر غالب آتی تو وہ شکل انسانی میں آتے تھے،پہلی صورت میں حضور انور اپنی بشریت سے غائب بے نیاز ہوجاتے تھے،نیز یہ حالت کہ سردی میں پسینہ آجاوے یہ بھی پہلی قسم کی وحی میں ہوتا تھا جب جھانج کی سی آواز سنتے اور اپنی بشریت سے بے نیاز ہوتے تھے۔(اشعۃ اللمعات)

5845 -[9]

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذا نزل عَلَيْهِ الْوَحْيُ كُرِبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ. وَفِي رِوَايَة: نكَّسَ رأسَه ونكَّسَ أصحابُه رؤوسَهم فَلَمَّا أُتْلِيَ عَنْهُ رَفَعَ رَأْسَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ اس سے بڑے متفکرہوتے ۱؎  اور آپ کا چہرہ بدل جاتا اور ایک روایت میں ہے کہ آپ سرجھکالیتے اور آپ کے صحابہ اپنے سرجھکالیتے پھر جب ختم ہوتی تو اپنا سر اٹھاتے۲؎(مسلم)

۱؎ یہاں کرب بمعنی فکر مند ہونا نہایت موزوں ہیں،غمگین ہونے کے معنی مناسب نہیں حضور انور کو یہ فکر یا تو وحی کی شدت کی بنا پر ہوتی تھی یا اس کی تبلیغ کی ذمہ داریوں پر۔اس کے شکریہ ادا کرنے کی فکر کہ وحی ایک نعمت ہے اور نعمت کا شکر لازم ہے وہ بھی بقدر نعمت۔مرقاۃ میں یہاں فرمایا کہ یہ حال شریف ابتداءنبوت میں ہواکرتا تھا بعد میں نہیں۔والله اعلم !

۲؎  حضور انور تو اپنا سر شریف غور سے سننے کے لیے جھکا لیتے تھے،حاضرین بارگاہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام کے لیے سر جھکاتے تھے وجہ میں فرق تھا۔

5846 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ [وَأَنْذِرْ عشيرتك الْأَقْرَبين] خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا فَجَعَلَ يُنَادِي: «يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بني عدي» لبطون قُرَيْش حَتَّى اجْتَمعُوا فَجَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَخْرُجَ أَرْسَلَ رَسُولًا لِيَنْظُرَ مَا هُوَ فَجَاءَ أَبُو لَهَبٍ وَقُرَيْشٌ فَقَالَ: " أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خيَلاً تخرجُ منْ سَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ - وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ - أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟ " قَالُوا: نَعَمْ مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا. قَالَ: «فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٌ شديدٍ» . قَالَ أَبُو لهبٍ: تبّاً لكَ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا؟ فَنَزَلَتْ: [تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ]

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ آپ نے قریبی عزیزوں کو ڈرایئے ۱؎ تو نبی صلی الله علیہ وسلم باہر نکلے حتی کہ صفا پہاڑ پر چڑھے پھر پکارنے لگے کہ اے بنی فہر اے بنی عدی قریش کے قبیلوں کے نام لے کر حتی کہ وہ سب جمع ہوگئے ۲؎ حالت یہ ہوگئی کہ اگر کوئی آ نہ سکا تو اس نے اپنا قاصد بھیج دیا کہ جا کر دیکھے کہ کیا واقعہ ہے۳؎تو ابولہب بھی آیا اور قریش بھی۔تب فرمایا بتاؤ تو اگر میں تم کو خبردوں کہ ایک لشکر اس پہاڑ کے کنارے سے اور ایک روایت میں ہے کہ ا یک لشکر اس جنگل سے نکلے گا ۴؎ وہ تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے کیا تم میری تصدیق کرو گے ۵؎ سب بولے ہاں ہم نے آپ پر کبھی نہ آزمایا مگر سچ ہی ۶؎ فرمایا تو میں تمہارے لیے ڈرانے والا ہوں سخت عذاب کے آگے ۷؎  ابولہب بولا کہ ہلاکت ہو تمہارے لیے کیا تم نے ہم کو اسی لیے جمع کیا تھا ۸؎ تب یہ آیت نازل ہوئی  "تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ"۹؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن