دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

5844 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ».قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.

روایت ہے جناب عائشہ سے کہ حارث ابن ہشام نے ۱؎  رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے پوچھا عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم آپ پر وحی کیسے آتی ہے ۱؎  تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ کبھی تو میرے پاس جھانج کی سی جھنکار آتی ہے۳؎ وہ مجھ پر بہت گراں ہوتی ہے۴؎ تو وہ مجھ سے ختم ہوتی ہے حالانکہ میں نے اس سے وہ یادکرلیا ہوتا ہے ۵؎  جو اس نے کہا اور کبھی میرے سامنے فرشتہ مرد کی شکل میں آتا ہے مجھ سے بات کرتا ہے ۶؎ جو وہ کہتا ہے محفوظ کرلیتا ہوں۷؎ جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور انور کو دیکھا کہ آپ پر سخت ٹھنڈے دن میں وحی نازل ہوتی تھی تو ختم ہوتی تھی اس حالت میں کہ آپ کی پیشانی پسینہ سے نچڑتی ہوتی تھی ۸؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  اس سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے وحی"اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ"اور دوسری وحی"یٰۤاَیُّہَا الْمُدَّثِّر"ان دونوں کے درمیان فاصلہ وہ ہے جو ہم پہلے عرض کرچکے ہیں یعنی چھ ماہ یا کم و بیش۔حارث ابن ہشام بھائی ہیں ابوجہل کے جس کا نام عمرو ابن ہشام تھا، حارث صحابی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے ان کے لیے جناب ام ہانی نے امان لی تھی،شام میں رہے، جنگ یرموک میں    ۱۵ھ؁  میں عہد فاروقی میں شہید ہوئے،انہیں حضور نے فتح مکہ کے دن ایک سو اونٹ تالیف قلب کے لیے عطا فرمائے۔(اکمال)

۲؎  غالب یہ ہے کہ حارث کے اس سوال کے وقت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ موجود تھیں اور ہوسکتا ہے کہ حارث نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو یہ واقعہ سنایا ہو۔(مرقات)

۳؎  صلصلہ یا تو  مسلسل آواز کو کہتے ہیں یا وہ آواز جو لوہے کو لوہے سے لگنے سے مسلسل پیدا ہو۔جرس وہ گھنگرو وغیرہ ہیں جو جانور کے گلے یا پاؤں میں باندھ دیئے جائیں جب وہ دوڑے تو  مسلسل جھنکار پیدا ہو۔یہ مثال سمجھانے کے لیے دی گئی ہے یعنی وحی ایک بار اور مسلسل آواز میں ہوتی ہے جو بغیر غور سمجھ میں نہیں آتی کہ کیا کہا جارہا ہے۔

۴؎  کیونکہ اسے سمجھنا اس میں غور کرنا پھر اسے یاد رکھنا بیک وقت یہ تین کام کرنا پڑتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت میں فرشتہ نہیں آتا تھا بلکہ کان میں غیبی آواز گھنگرو کی جھنکار کی طرح آتی تھی مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کویقین ہوتا تھا کہ یہ وحی الٰہی ہے۔

۵؎  یعنی قدرتی طور پر وہ مجھے یاد بھی ہوجاتی اور میں اس کا معنی مقصد مطلب اسرار سب کچھ سمجھ بھی لیتا ہوں،یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے"اِنَّ عَلَیۡنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ"حتی کہ فرمایا "ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا بَیَانَہٗ"یہ سارے کام رب تعالٰی کے ذمہ کرم پر تھے۔

۶؎  چنانچہ اکثر حضرت جبریل دحیہ کلبی کی شکل میں آتے تھے،کبھی اجنبی شخص کی شکل میں،کبھی دوسرے لوگ بھی انہیں دیکھتے تھے کبھی نہیں مگر آواز سنتے تھے۔خیال رہے کہ فرشتے لڑکوں کی شکل میں صرف حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے وہ بھی ایک بار اور کبھی عورتوں کی شکل میں نہ آئے۔یہ بھی خیال رہے کہ اگر فرشتے وحی لے کر نہ آئیں کسی اور مقصد کے لیے آئیں تو ممکن ہے کہ نبی اولًا انہیں نہ پہنچانیں جیسے ابراہیم علیہ السلام فرشتوں کے لیے بھنا بچھڑا گھر میں سے لےکر آئے تھے انہیں مہمان سمجھ کر مگر یہ ناممکن ہے کہ فرشتہ وحی لائے اور نبی نہ پہچانیں کہ اس صورت میں وحی مشکوک ہوجاویں گی،انہیں یقین ہوتا ہے کہ یہ فرشتہ ہے اور جو کچھ کہہ رہا ہے وہ وحی الٰہی ہے۔

۷؎ یعنی اس فرشتے کے الفاظ دماغ میں اس کے کلام کے مضامین دل میں محفوظ کرلیتا ہوں یہ حفاظت رب کی طرف سے ہے۔

۸؎  ظاہر یہ ہے کہ حضور کی یہ حالت شریفہ دونوں قسم کی وحی میں ہوتی تھی اور یہ حالت حضور انور پر اس کلام شریف کی عظمت اس کی تجلی کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ فرشتہ کی وجہ سے  اور حالت شریف صرف تبلیغی وحی آنے پر ہوتی تھی ویسے جب بھی فرشتے آتے تو حضور انور بے تکلف ان سے کلام فرماتے تھے جس کی بہت سی احادیث ہیں۔تبلیغی وحی کی شان ہی اور تھی یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ کبھی جناب جبریل کی ملکیت حضور کی بشریت پر غالب آتی تو جھانج کی سی آواز محسوس فرماتے اور کبھی حضور انور کی بشریت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن