30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یہ واقعہ مکہ معظمہ بلکہ غار حرا کا ہے۔(مرقات)وہاں ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غیبی آواز آسمان کی جانب سے سنی تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ اس آواز میں یا تو الفاظ تھے نہیں یا تھے تو معمولی تھے اس لیے حضور نے اسے آواز فرمایا کلام نہ کہا۔
۳؎ جئثت بنا ہے جائثۃ سے بمعنی گھبراہٹ ڈر،جئثت مجہول فرمانے میں اسطرف اشارہ ہے کہ یہ رعب رب کی طرف سے میرے دل میں ڈالا گیا،یہ رعب اس کلام الٰہی کا تھاجو حضور پر پہلے نازل ہوا تھا۔خیال شریف یہ ہوا کہ پھر کوئی آیت نازل ہوگی دل میں بے قراری اور رعب پیدا ہوگیا۔حضرت جبریل اس وقت بھی شکل انسانی میں تھے ان سے رعب ہونے کی وجہ ہی کوئی نہیں اپنی صورت میں تو صرف دو بار حاضر ہوئے۔
۴؎ ھوی کے معنی ہیں زمین پر لپٹ جانا اوندھے لیٹ کر اپنے ہاتھ پاؤں زمین پر چمٹا دینا۔
۵؎ مدثر بنا ہے دثار سے،عربی میں شعار نیچے والے کپڑے کو کہتے ہیں جو جسم سے ملا ہوا ہو،دثار اوپر والے کپڑے کو، مدثر کے معنی ہوئے چادر کمبل اوڑھنے والے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں اے بشریت کی چادر اوڑھ کر مخلوق کے سامنے جانے والے۔نورمطلق نے بشریت کی چادر اوڑھی تب مخلوق آپ سے فیض لے سکی ہے۔شعر
لباس آدمی پہنا جہاں نے آدمی جانا مزمل بن کے آئےتھے ہویدا بن کے نکلیں گے
یہاں مرقاۃ نے اس کے معنی کیے اے نبوت کی عبا اوڑھنے والے،رسالت کا بوجھ اٹھانے والے۔اس کی اور بہت نفیس نفیس تفسیریں ہمارے حاشیہ قرآن نور العرفان فی تفسیر القرآن میں ملاحظہ کرو وہاں لکھا ہے کہ اپنی چادر کرم میں اپنی امت کو چھپانے والے۔
۶؎ یعنی پیارے اٹھو تاکہ دنیا تمہارے سہارے اٹھے۔خیال رہے کہ سورۂ مزمل میں بھی ہے"یٰۤاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا"وہاں قیام سے مراد ہے نماز میں کھڑا ہونا اوریہاں قیام سے مراد ہے نبوت کی تبلیغ کے لیے اٹھنا یا وہاں نبوت کے لیے اٹھنا مراد ہے یہاں رسالت و تبلیغ کے لیے اٹھنا مراد ہے۔(مرقات)
۷؎ یعنی اپنے جسم کے کپڑے پاک و صاف رکھو۔معلوم ہوا کہ پاکیزگی کا حکم پہلے آیا نماز کا حکم بہت بعد میں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ کپڑوں سے مراد ہے نفس کے صفات،انہیں پاک کرنے سے مراد ہے برائیوں سے دور رکھنا۔(اشعہ)
|
5844 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ».قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا. |
روایت ہے جناب عائشہ سے کہ حارث ابن ہشام نے ۱؎ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے پوچھا عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم آپ پر وحی کیسے آتی ہے ۱؎ تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ کبھی تو میرے پاس جھانج کی سی جھنکار آتی ہے۳؎ وہ مجھ پر بہت گراں ہوتی ہے۴؎ تو وہ مجھ سے ختم ہوتی ہے حالانکہ میں نے اس سے وہ یادکرلیا ہوتا ہے ۵؎ جو اس نے کہا اور کبھی میرے سامنے فرشتہ مرد کی شکل میں آتا ہے مجھ سے بات کرتا ہے ۶؎ جو وہ کہتا ہے محفوظ کرلیتا ہوں۷؎ جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور انور کو دیکھا کہ آپ پر سخت ٹھنڈے دن میں وحی نازل ہوتی تھی تو ختم ہوتی تھی اس حالت میں کہ آپ کی پیشانی پسینہ سے نچڑتی ہوتی تھی ۸؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع