30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
"اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ"کلام الٰہی ہے۔بی بی خدیجہ اور ورقہ مکہ بلکہ عرب میں بڑے معزز علماء میں سے مانے جاتے تھے۔منشاء الٰہی یہ تھا کہ پہلے ان دونوں سے حضور انور کی نبوت کی گواہی دلوائی جائے پھر تبلیغ اسلام کا حکم حضور کو دیا جاوے اس لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم پہلے ان دونوں کے پاس تشریف لے گئے،یہ تشریف لے جانا اپنے جاننے کے لیے نہ تھا بلکہ لوگوں کو بتانے سمجھانے کے لیے تھا۔
۲۳؎ عربی میں بکری کے دو سالہ بچہ کو اور اونٹ کے پانچ سالہ بچہ کو جذع کہتے ہیں،اس عمر میں وہ دونوں قوی جوان ہو جاتے ہیں اس لیے ہر قوی جوان کو جذع کہنے لگے وہ ہی معنی یہاں ہیں۔فیھا میں ھا ضمیر مدت نبوت کو یا مدت نبوت تبلیغ کی طرف ہے یعنی جب آپ کو تبلیغ کا حکم دیا جاوے گا اس وقت میں جوان ہوتا تو آپ کی خدمت کرتا۔
۲۴؎ معلوم ہوتا ہے کہ ورقہ نے حضور انور کے سارے پیش آنے والے واقعات گذشتہ کتابوں میں پڑھے تھے۔خیال رہے کہ اپنی نبوت کا علم ورقہ کے بتانے سے نہیں ہوا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو تو بچپن شریف میں پتھر درخت بایں الفاظ سلام کرتے تھے السلام علیك یارسول الله جیساکہ باب المعجزات میں آوے گا۔والدہ ماجدہ آمنہ کی بشارتیں،جناب حلیمہ کی حکایتیں اپنے متعلق حضور سن چکے تھے،آپ اپنی نبوت سے اس وقت خبردار تھے جب کہ دنیابھی نہیں بنی تھی دیکھو کتاب نشر الطیب مصنفہ مولوی اشرف علی تھانوی۔یہ سب کچھ انتظام لوگوں کو سنانے کا ہو رہا ہے کہ لوگ ورقہ کی زبان سے سن لیں اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے عالی صفات اعلٰی واقعات سے خبردار ہو جائیں۔
۲۵؎ خیال رہے کہ یہاں نکالنے سے مراد ہے اتنا تنگ کرنا کہ حضور مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں نہ کہ خود نکالنا کفار مکہ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنا چاہتے تھے نہ کہ نکالنا وہ تو قتل کے لیے ڈھونڈتے پھرے۔حضور انور کا ان سے یہ پوچھنا بھی اسی لیے تھا کہ لوگ ورقہ کی زبان سے ہجرت کی خبر سن لیں اور ہجرت کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی دلیل سمجھیں۔
۲۶؎ اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ قریبًا سارے نبیوں نے ہجرت کی الا ماشاءالله۔خیال رہے کہ دشمنی سارے نبیوں سے کی گئی ہجرت اور جہاد اکثر نبیوں نے کیے۔خیال رہے کہ حضور انور سے پہلے بعض لوگ اصلی عیسائیت پر قائم تھے مگر خال خال وہ بھی پہاڑوں غاروں میں چھپے چھپائے،جناب ورقہ اور سلمان فارسی جیسے لوگوں نے انہیں راہبوں سے یہ علوم حاصل کیے تھے،انہیں علوم کی برکت سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو جانا پہچانا تھا۔
۲۷؎ مؤزر بنا ہے ازر سے بمعنی پشت اور پشت پناہی و قوت،رب فرماتا تھا"اشْدُدْ بِہٖۤ اَزْرِیۡ"مؤزر بمعنی مضبوط و قوی۔
۲۸؎ یعنی"اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ"پہلی وحی کے نزول سے کچھ دن بعد ہی ورقہ کا انتقال ہوگیا اور صرف یہ ہی ایک وحی آکر بند ہوگئی،کتنے روز بند رہی اس میں بہت گفتگو ہے۔غالب یہ ہے کہ چھ ماہ بند رہی اسی دوران میں حضرت جبریل آتے تھے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تھے مگر وحی نہ لاتے تھے۔(اشعہ)مرقات نے فرمایا کہ"اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ"پہلی وحی ہے اور "یٰۤاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنۡذِرْ"دوسری وحی ان دونوں کے درمیان کچھ دنوں کا فاصلہ ہے۔وحی بند ہونے میں بڑی حکمتیں تھیں قلب پاک کو سکون بخشنا،حضور کو شوق وحی زیادہ کرنا وغیرہ۔(مرقات)
|
5842 -[6] وَزَادَ الْبُخَارِيُّ: حَتَّى حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مرَارًا كي يتردَّى منْ رؤوسِ شَوَاهِقِ الْجَبَلِ فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا. فَيَسْكُنُ لذلكَ جأشُه وتقرُّ نفسُه |
بخاری نے یہ زیادتی کی کہ حتی کہ نبی صلی الله علیہ و سلم غمگین ہوئے جو روایت ہم کو پہنچی ہے ۱؎ اس میں ہے کہ آپ سخت غمگین بارہا صبح کے وقت گئے تاکہ اپنے کو اونچی پہاڑ کی چوٹی سے گرادیں۲؎ مگر جب کبھی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھتے تاکہ وہاں سے اپنے کو گرادیں تو حضرت جبریل حضور کے سامنے آتے کہتے اے محمدآپ الله کے سچے رسول ہیں اس سے آپ کا قلق جاتا رہتا اور آپ کا دل مطمئن ہوجاتا ۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع