30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پڑھنے والے تم ہو سننے والا میں ہوں تاکہ نزول قرآن اور وحی الٰہی کے معنی درست ہوں۔وحی قولی کے معنی ہی یہ ہیں کہ فرشتہ کہے نبی سنے۔اس فرمان عالی میں اپنا منصب حضرت جبریل علیہ السلام کی خدمت اور قرآن کے درجے کا متعین فرماناہے۔
۹؎ غط کے معنی ہیں دبانا،نچوڑنا،اس پر طاقت صرف کرنا۔یہاں مراد ہے گلے لگا کر خوب زور سے دبانا،یہ معانقہ فیض ربانی سینہ نبوی تک پہنچانے کیے لیے تھا۔بعض مشائخ مصافحہ سے معانقہ سے بلکہ نظر سے توجہ باطنی دیتے ہیں اس کی اصل یہ حدیث ہے۔ معلوم ہوا کہ حال قال سے پہلے ہے قال زبان سے حال توجہ سے دیا جاتا ہے۔
۱۰؎ اس عبارت کے معنی یہ نہیں کہ مجھے مشقت پہنچی ورنہ عبارت یوں ہوتی بلغنی الجھد۔یہاں لفظ منی سے معلوم ہوتاہے کہ میری طرف سے حضرت جبریل علیہ السلام کو مشقت پہنچی کہ انہوں نے سارا ملکی زور ختم کردیا۔الجہد یا تو بلغ کا فاعل ہے اور مرفوع ہے تو بلغ کا مفعول پوشیدہ ہے،بلغہ یا یہ مفعول ہے اور منصوب تو بلغ کا فاعل ھو پوشیدہ ہے یعنی جبریل کو میری طرف سے مشقت پہنچی یا وہ مشقت کو پہنچے کہ انہوں نے بہت ہی محنت سے وہ امانت فیض مجھ کو سونپی۔
۱۱؎ فیض کی امانت آہستہ تین بار ادا کی۔اس سے معلوم ہوا کہ فیض رسانی آہستگی سے ہوتی ہے۔یہ اس آیت کے نزول کی تمہید ہے جو اس وقت آنے والی ہے تاکہ اس کے حروف کا نزول کان پر ہو،اس کے فیض و نور کا نزول دل پاک پر اس عظیم مہمان کے لیے یہ گھر تیار کیا گیا۔مرقات نے فرمایا کہ پہلی بار جو ارشاد ہوا ما انا بقارئ وہاں ما نافیہ ہے اور اب تیسری بار جو فرمایا ما انا بقارئ اس میں ما استفہامیہ ہے یعنی اب بتاؤ میں کیا پڑھوں۔(مرقات)
۱۲؎ قوی یہ ہے کہ یہاں قلم سے مراد وہ پہلا قلم قدرت ہے جس نے لوح محفوظ پر تاقیامت سارے واقعات لکھے پھر لوح محفوظ کی اس تحریر کے ذریعہ فرشتوں نبیوں ولیوں کو سب کچھ بتایا سکھایا اس لیے اسے کتاب مبین کہتے ہیں یعنی مقبولوں پر اولین و آخرین کے علوم روشن کرنے والی۔اور ہوسکتا ہے کہ قلم سے مراد یہ ہی دنیاوی قلم ہوں یعنی اس قلم کے ذریعہ سینہ کے علوم محفوظ کیے جس سے اگلوں کے علوم پچھلوں نے سیکھے مگر پہلے معنی قوی بھی ہیں لذیذ بھی۔(اشعہ)یا قلم سے مراد حضور صلی الله علیہ و سلم کی زبان ہے جو رب کا قلم ہے جس کے ذریعہ تاقیامت ولیوں عالموں کو علوم سکھائے گئے،اس کی بہت نفیس تفسیریں ہمارے حاشیہ قرآن میں دیکھو۔
۱۳؎ قوی یہ ہے کہ الانسان سے مراد انسانیت کی جان حبیب الرحمن حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ و سلم ہیں اور مالم یعلم سے مراد ہے سارے علوم غیبیہ۔اس کی اور بہت تفسیریں ہیں دیکھو ہمارا حاشیۃ القرآن یہاں بیان کی گنجائش نہیں۔ خیال رہے کہ یہاں بسم الله شریف کا ذکر نہیں۔معلوم ہوا کہ بسم الله ہر سورت کا جز نہیں اور نہ ہر صورت کے اول اتری یہ ہی امام اعظم کا مذہب ہے اور سب سے پہلی صورت اقراء شریف ہے۔سب سے اعلیٰ عبادت الله کا ذکر اس کا نام جپنا ہےکہ قرآن مجید میں پہلے اسی کا حکم دیا گیا۔
۱۴؎ یہ دل کانپنا اس فیض ربانی کا اثر تھا جو آج عطا ہوا تھا۔بعض مشائخ جب اپنے مرید کو سینے سے لگاکر توجہ دیتے ہیں تو وہ مرید بے ہوش ہوجاتا ہے گر پڑتا ہے یہ توجہ اگر پہاڑوں پر ڈالی جاتی تو پھٹ جاتا یہ تو حضور کا قوت والا دل ہے جو ٹھہرا رہا،رب فرماتا ہے:"لَوْ اَنۡزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیۡتَہٗ خٰشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللہِ"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع