30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5309 -[15] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ قَلْبَ ابْنِ آدَمَ بِكُلِّ وَادٍ شُعْبَةٌ فَمَنْ أَتْبَعَ قَلْبَهُ الشُّعَبَ كُلَّهَا لَمْ يُبَالِ اللَّهُ بِأَيِّ وَادٍ أَهْلَكَهُ وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ كَفَاهُ الشّعب» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ انسانی دل کی ہر جنگل میں ایک شاخ ہے ۱؎ تو جو اپنے دل کو ان تمام شاخوں کے پیچھے ڈال دے ۲؎ الله پرواہ نہیں کرے گا کہ کسی جنگل میں اسے ہلاک کردے ۳؎ اور جو اﷲ پر بھروسہ کرے الله اسے گھاٹیوں سے بچائے گا ۴؎ (ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی انسان کا دل ایک ہے مگر اس کے لیے فکریں غم بہت ہیں روٹی کپڑا،مکان،بیماریوں میں علاج آپس کی مخالفتیں وغیرہ وغیرہ فکروں غموں کے جنگل ہیں جن سے ہر ایک کا تعلق انسان کے دل سے ہے۔
۲؎ اس طرح کہ اپنے دل میں ہر فکر و غم کو جگہ دے دے آخرت کی فکر وں سے نکل جاوے ہر فکر کے پیچھے بھاگا پھرے۔
۳؎ مطلب یہ ہے کہ ایسے دنیا دار کی طرف الله تعالٰی توجہ کرم نہ کرے گا،اسے ان غموں سے آزاد نہ کرے گا،مرتے وقت تک وہ انہیں میں گرفتار رہے گا،آخر اسی حال میں مرجائے گا،عام دنیا داروں کا یہ ہی حال دیکھا جاتا ہے،الله تعالٰی ایسی زندگی سے محفوظ رکھے،رب تعالٰی فرماتا ہے کہ دنیا دار مالداروں کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھو کیونکہ"یُرِیۡدُ اللہُ اَنۡ یُّعَذِّبَہُمۡ بِہَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْہَقَ اَنۡفُسُہُمْ وَہُمْ کٰفِرُوۡنَ"۔
۴؎ ایسے متوکل مؤمن پر رنج و غم اولًا آئیں گے نہیں اگر آئیں گے تو پانی کی طرح بہہ جائیں گے،اگر کچھ ٹھہر بھی گئے تو دل ان کا اثر نہیں لیتا دل الله کی یاد میں مخمور رہتا ہے۔ ؎
ترا درد مرا درماں ترا غم مری خوشی ہے مجھے درد دینے والے تیری بندہ پروری ہے
اسے فتنہائے محشر نہ جگاسکیں گے ہر گز ترا نام لیتے لیتے جسے نیند آگئی ہے
|
5310 -[16] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: لَوْ أَنَّ عَبِيدِي أَطَاعُونِي لَأَسْقَيْتُهُمُ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمُ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ وَلَمْ أُسْمِعْهُمْ صَوْتَ الرَّعدِ ". رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہیں عظمت و جلالت والا رب فرماتا ہے کہ اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں رات میں ان پر بارش برسایا کروں ۱؎ اور دن میں دھوپ نکالا کروں ۲؎ اور انہیں گرج کی آواز بھی نہ سناؤں ۳؎ (احمد) |
۱؎ اس طرح کہ انہیں بادل کی گرج بجلی کی کڑک و چمک کی خبر بھی نہ ہوا کرے کہ ان آوازوں میں کچھ نہ کچھ خوف ضرور ہوتا ہے، یہ فرمان عالی مثال کے طور پر ہے۔مطلب یہ ہے کہ انہیں کسی قسم کا خوف نہ دکھاؤں۔
۲؎ یعنی ہمیشہ دن میں دھوپ ہی نکالا کروں کبھی دن میں بارش نہ بھیجوں تاکہ انہیں آمدورفت کام کاج میں دشواری اور حرج نہ ہو۔
۳؎ نہ دن میں گرج کی آواز سناؤں نہ رات میں،دوسرے ڈرو خوف کا تو ذکر ہی کیا ہے۔غرضکہ ہر طرح انہیں آرام چین بے خوفی کی زندگی عطا کروں مگر بندوں کا حال یہ ہے کہ تھوڑا سا آرام پا کر سرکش ہوجاتے ہیں اگر اتنا آرام ملے تو ان کا کیا حال ہو اس لیے دنیا میں مصیبتیں تکلیفیں آتی رہتی ہیں،یہ تکلیف مصیبتیں ہم کو بندہ بنا کر رکھتی ہیں، فرعون نے آرام پا کر دعویٰ خدائی کیا ڈوبنے لگا تو بندہ بنا۔
|
5311 -[17] وَعَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ خَرَجَ إِلَى الْبَرِيَّةِ فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَى فَوَضَعَتْهَا وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ ثُمَّ قَالَتْ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا فَنَظَرَتْ فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدِ امْتَلَأَتْ. قَالَ: وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا. قَالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ قَالَ: أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا؟ قَالَتِ امْرَأَتُهُ: نَعَمْ مِنْ رَبِّنَا وَقَامَ إِلَى الرَّحَى فَذُكِرَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا لَمْ تَزَلْ تَدور إِلَى يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنے گھر والوں کے پاس گیا ۱؎ جب ان کی محتاجی دیکھی تو جنگل کی طرف نکل گیا ۲؎ جب اس کی بیوی نے یہ دیکھا تو وہ چکی کی طرف اٹھی اسے رکھا ۳؎ اور تنور کی طرف گئی اسے جھونک دیا ۴؎ پھر بولی الٰہی ہمیں روزی دے ۵؎ تو پیالہ بھر گیا ۶؎ روای کہتے ہیں کہ وہ عورت تنور کی طرف گئی تو اسے بھرا ہوا پایا ۷؎ فرماتے ہیں کہ پھر خاوند لوٹا بولا کیا تم نے میرے پیچھے کچھ پایا ۸؎ اس کی بیوی نے کہا کہ ہاں اپنے رب کی طرف سے اور وہ شخص چکی طرف اٹھا ۹؎ یہ واقعہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا گیا ۱۰؎ تو فرمایا کہ یقینًا اگر وہ شخص اسے نہ اٹھاتا تو چکی قیامت تک گھومتی رہتی ۱۱؎ (احمد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع