30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الم تسمع الله سبحانہ و من یتق الله یجعل لہ
|
5307 -[13] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:(إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ)رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حسن صَحِيح |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے یہ آیت پڑھائی میں ہوں روزی رساں بڑی قوت والا ۱؎ (ابوداؤد،ترمذی)اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ |
۱؎ یہ قرأۃ شاذہ ہے،قرأۃ متواترہ یہ ہے"اِنَّ اللہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیۡنُ"متین کے معنی ہیں شدید،یہ شاذہ قرأت ہے۔
|
5308 -[14] وَعَن أنسٍ قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ فَشَكا المحترف أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث صَحِيح غَرِيب |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں دو بھائی تھے ۱؎ جن میں سے ایک نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں آتا تھا ۲؎ اور دوسرا کوئی پیشہ کرتا تھا ۳؎ تو کماؤ پیشہ والے نے نبی صلی الله علیہ و سلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی ۴؎ تو فرمایا شاید تجھے اس کی برکت سے روزی مل رہی ہے ۵؎ (ترمذی اور فرمایا یہ حدیث صحیح غریب ہے) |
۱؎ غالبًاسگے بھائی تھے جن کا کھانا پینا مشترک تھا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲؎ یہ شخص اپنے کو خدمت دین کے لیے وقف کرچکا تھا حضور کے پاس علم دین سیکھنے آتا تھا۔یہ رسم آج تک چلی آرہی ہے کہ بعض لوگ اپنے کو علم دین کے لیے وقف کردیتے ہیں اور مسلمان ان کا خرچہ اٹھاتے ہیں،اصحاب صفہ بھی ایسے ہی لوگ تھے رضی الله عنہم۔
۳؎ مرقات نے فرمایا کہ وہ طالب علم غیر شادی شدہ تھا اور یہ کمانے والا بال بچوں والا تھا اس طالب علم کا خرچہ یہ کماؤ بھائی ہی اٹھاتا تھا۔معلوم ہوا کہ طالب علم کی خدمت کرنا خرچہ دینا بہت بڑی عبادت ہے۔
۴؎ اور عرض کیا حضور اس کو طلب علم سے منع فرمادیں اور اسے کمائی کرنے کا حکم دے دیں تاکہ یہ اپنی دنیا سنبھال لے اس کی شادی وغیرہ کا انتظام ہوسکے مجھ سے اس کا بوجھ اتر جائے۔
۵؎ یعنی تو اسے علم دین سیکھنے دے اس کا خرچہ تو برداشت کیے جا الله تعالٰی اس کا رزق تیرے دستر خوان پر بھیجے گا،تجھے برکتیں ہوں گی۔اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ بعض لوگوں کا اپنے کو علم دین کے لیے وقف کردینا سنت صحابہ ہے ۔عالم دین بننا فرض کفایہ ہے،بقدر ضرورت علم دین سیکھنا ہر مسلمان پر فرض عین ہے۔دوسرے یہ کہ ان طالب علموں کا خرچ مسلمانوں کو اٹھانا چاہیے ان شاءالله اس میں بڑی برکت اور بڑا ثواب ہے۔تیسرے یہ کہ اپنے غریب قرابت داروں کی مددکرنا بڑی برکت کا باعث ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیۡنَ وَ ابْنَ السَّبِیۡلِ"اور جب ایک شخص غریب بھی ہو،قرابت دار بھی اور طالب علم بھی اس پر خرچہ کرنا نور علی نور ہے۔خیال رہے کہ حضور انور کا لعل فرمانا شک کے لیے نہیں،کریموں کی شاید بھی یقینی بلکہ حق الیقینی ہوتی ہے۔حدیث شریف میں ہے وھل ترزقون الا بضعفاءکم وہ حدیث اس فرمان عالی کی شرح ہے۔
|
5309 -[15] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ قَلْبَ ابْنِ آدَمَ بِكُلِّ وَادٍ شُعْبَةٌ فَمَنْ أَتْبَعَ قَلْبَهُ الشُّعَبَ كُلَّهَا لَمْ يُبَالِ اللَّهُ بِأَيِّ وَادٍ أَهْلَكَهُ وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ كَفَاهُ الشّعب» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ انسانی دل کی ہر جنگل میں ایک شاخ ہے ۱؎ تو جو اپنے دل کو ان تمام شاخوں کے پیچھے ڈال دے ۲؎ الله پرواہ نہیں کرے گا کہ کسی جنگل میں اسے ہلاک کردے ۳؎ اور جو اﷲ پر بھروسہ کرے الله اسے گھاٹیوں سے بچائے گا ۴؎ (ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع