30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۸؎ اخذ کے معنی ہیں پکڑ کرنے والا، بدلہ لینے والا یا تلوار پکڑنے والا یعنی آپ مجھے اس حرکت کا بہترین بدلہ دیجئے کہ خطا میں نے کرلی ہے عطا آپ کردو، گناہ میں نے کرلیا معافی آپ دے دیجئے،جس لائق میں تھا وہ میں نے کرلیا جو آپ کی شان عالی کے لائق ہے وہ آپ کرو،پھل والے درخت کو پتھر مارتے ہیں تو وہ ان پر پھل گراتا ہے۔
۹؎ یعنی میں منافق نہیں ہوں کہ دل میں کفر رکھوں اور زبان سے کلمہ پڑھ دوں،ہاں اتنا وعدہ ہے کہ کبھی آپ سے مقابل نہ آؤں گا آپ کے سامنے میری آنکھ نہ اٹھے گی۔
۱۰؎ یعنی اس سے فرمایا جا تجھے اجازت ہے ہم تجھے معافی دیتے ہیں،حضور نے اسے اپنے دامن کرم میں بلایا تھا مگر وہ آیا نہیں۔ ؎
کرکے تمہارے گناہ مانگیں تمہاری پناہ تم کہو دامن میں آ تم پہ کروڑوں درود
اے میرے رب جب تیرے بندہ محمد مصطفی صلی الله علیہ و سلم کے رحم خسروانہ عنایت شاہانہ کا یہ حال ہے تو مولٰی تو تو ان کا رب ہے،ارحم الراحمین ہے،تیرے کرم و عفو و سخا کا کیا پوچھنا میرے مولٰی انہیں رؤف رحیم محبوب کا صدقہ ہم مجرموں سے درگزر فرما معافی دے دے۔ ؎
مہ فشاند نورسگ عوعو کند ہر کے برطینت خودمی کند
جب چاند چمکتا ہے تو کتا اس پر بھونکتا ہوا حملہ کرتا ہوا اچھلتا ہے تو چاند اس کے کھلے ہوئے منہ میں نور ڈال دیتا ہے،حضور چاند ہیں اس دشمن کو بھی ایمان دے رہے ہیں۔
۱۱؎ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بدن تو آزاد ہوگیا مگر دل مقید ہوگیا کیا تعجب ہے کہ بعد میں اسے ایمان بھی نصیب ہوگیا ہو۔والله ورسولہ اعلم!
|
5306 -[12] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آيَةً لَو أخَذ النَّاسُ بهَا لكفتهم:(من يتق الله يَجْعَل لَهُ مخرجاويرزقه من حيثُ لَا يحتسبُ)رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه والدارمي |
روایت ہے حضرت ابوذر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر لوگ اسے اختیار کرلیں تو وہ انہیں کافی ہو ۱؎ کہ جو الله سے ڈرے گا ۲؎ تو الله اس کے لیے چھٹکارا بنادے گا اور بے گمان جگہ سے اسے روزی دے گا ۳؎ (احمد،ابن ماجہ،دارمی) |
۱؎ یعنی اگر اس آیت کریمہ پر تمام دنیا عمل کرے دین و دنیا کے رنج و غم سے اور فکروں سے آزاد ہوجاوے،یہ ایک آیت سب کے لیے کافی ہے۔
۲؎ یہاں تقویٰ سے مراد تقویٰ عامہ ہے یعنی الله رسول کے احکام پر عمل کرنا اور جن چیزوں سے انہوں نے منع فرمایا ہے ان سے بچے رہنا تقویٰ ہے،الله کی بڑی نعمت ہے جس پر اس کا کرم ہوتا ہے اسے تقویٰ نصیب ہوتا ہے۔
۳؎ ا ﷲ تعالٰی نے اس آیت میں تقویٰ پر وعدے فرمائے ایک تو ہر مشکل و مصیبت سے نجات ملنا اور غیب سے روزی عطا ہونا۔ خیال رہے کہ مصیبت و بلا اور چیز ہے رب تعالٰی کا امتحان کچھ اور،مصیبت سے نجات ملنا چاہیے مگر امتحان میں کامیابی ہونی چاہیے۔ حضرت حسین امام المتقین ہے کربلا میں اﷲ نے آپ کو ایسی کامیابی عطا فرمائی جس کی مثا ل نہیں۔شعر
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
لہذا اس آیت کریمہ پر یہ اعتراض نہیں کہ جناب حسین یا امام احمد بن حنبل متقی تھے مگر ان سے مصیبت نہ ٹلی،وہ مصیبت نہ تھی آزمائش تھی۔جو شخص اس آیت کریمہ کو ورد میں رکھے اسے دست غیب نصیب ہوجاتاہے ۔ ایک شاعر کہتا ہے
اذا المرء امسی حلیف التقی فلم یخشی من طارق حلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع