30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷؎ یعنی تا قیامت جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب سے پہلے ہی لکھا جاچکا ہے بار بار ہر واقعہ کی تحریر نہیں ہوتی۔ہم مسئلہ تقدیر میں عرض کرچکے ہیں تقدیر تین قسم کی ہے:مبر م،معلق اور معلق مشابہ مبرم۔تقدیر مبرم میں ترمیم تبدیلی ناممکن ہے مگر تقدیر معلق میں یہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے، تقدیر مبرم علم الٰہی سے اور معلق لوح محفوظ کی تحریر،اس کے متعلق قرآن کریم فرماتاہے:"یَمْحُوا اللہُ مَا یَشَآءُ وَیُثْبِتُ وَعِنۡدَہٗۤ اُمُّ الْکِتٰبِ"۔ خیال رہے کہ تدبیر بھی تقدیر میں آچکی ہے لہذا تدبیر سے غافل نہ رہو مگر اس پر اعتماد نہ کرو نظر الله کی قدرت و رحمت پر رکھو۔
|
5303 -[9] وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةِ اللَّهِ وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ سُخْطُهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ انسان کی نیک بختی سے ہے اس کا الله کے فیصلہ سے راضی ہونا ۱؎ اور انسان کی بدبختی اس کا الله سے خیر مانگنا چھوڑ دینا ہے ۲؎ انسان کی بدبختی سے ہے کہ اس کا اپنے متعلق الله کے فیصلہ سے ناراض ہونا ہے ۳؎ (احمد،ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ یعنی سعادت،شقاوت ایک غیبی چیز ہے مگر ان دونوں کی علامات ہیں جو بندہ الله تعالٰی کی رضا پر راضی اس کی قضا پر سرجھکائے رہے سمجھ لو کہ ان شاءاﷲ یہ سعید ہے،اس کا خاتمہ اچھا ہونے والا ہے اس کے برعکس ہو تو علامت بدبختی کی ہے۔
۲؎ حضرت انس نے مرفوعًا روایت فرمایا کہ جو استخارہ کرے گا نقصان نہ اٹھائے گا،جو مشورہ کرے گا وہ شرمندہ نہ ہوگا،جو درمیانی خرچ رکھے گا وہ فقیر نہ ہوگا۔(طبرانی،مرقات)بعض علماء فرماتے ہیں کہ چار شخص چار نعمتوں سے محروم نہ ہوں گے: شکر گزار بندہ زیادتی نعمت سے محروم نہیں ہوتا،توبہ کرنے والا بندہ قبولیت سے، استخارہ کرنے والا خیر سے،مشورہ کرنے والا درستی سے محروم نہیں۔
۳؎ یعنی جو الله کے حکم سے ناراض ہے اس کی شکایتیں کرتا رہے وہ بدنصیب ہے ۔خیال رہے کہ مصیبتوں کو دفع کرنے کے لیے تدبیریں کرنا برا نہیں بلکہ اس کا حکم ہے،رب کے فیصلے سے ناراض ہوکر اس کی شان میں بکواس کرنا برا ہے جیسا کہ بعض جاہلوں کا طریقہ ہے۔
|
5304 -[10] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن جَابر أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قبل نجد فَلَمَّا قَفَلَ مَعَهُ فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ فَنَزَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ وَنِمْنَا نَوْمَةً فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا وَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ عَلَيَّ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلتا. قَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللَّهُ ثَلَاثًا " وَلَمْ يُعَاقِبْهُ وَجلسَ. 5305 -[11] وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيِّ فِي «صَحِيحِهِ» فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: «اللَّهُ» فَسَقَطَ السيفُ من يَده فَأخذ السَّيْفَ فَقَالَ: «مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟» فَقَالَ: كُنْ خَيْرَ آخِذٍ. فَقَالَ: «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» . قَالَ: لَا وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَأَتَى أَصْحَابَهُ فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ.هَكَذَا فِي «كتاب الْحميدِي» و «الرياض» |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ نجد کی طرف جہاد کیا ۱؎ تو جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم واپس ہوئے تو وہ بھی حضور کے ساتھ واپس ہوئے ایک بہت خار دار درختوں والے جنگل میں انہیں دوپہری آئی ۲؎ تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم اترے اور لوگ درختوں سے سایہ لینے کے لیے الگ الگ ہوگئے رسول الله صلی الله علیہ و سلم بھی ایک خار دار درخت کے نیچے اترے اس سے اپنی تلوار لٹکادی ہم کچھ سوئے تھے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہم کو پکارنے لگے۳؎ آپ کے پاس ایک دیہاتی تھا تو فرمایا کہ اس شخص نے مجھ پر میری تلوارسونت لی میں سورہا تھا میں جاگا تو تلوار اس کے ہاتھ میں پڑی تھی۴؎ بولا مجھ سے آپ کو کون بچائے گا تو میں نے تین بار کہا الله ۵؎ حضور نے اس سے بدلہ نہ لیا وہ بیٹھ گیا ۶؎ (مسلم،بخاری) ابوبکر اسماعیل کی صحیح روایت میں یوں ہے کہ وہ بولا آپ کو مجھ سے کون بچائے گا میں نے کہا الله تو اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی ۷؎ تو تلوار رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے لے لی پھر فرمایا تجھے مجھ سے کون بچائے گا وہ بولا آپ بہترین پکڑ فرمانے والے ہو ۸؎ فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اﷲ کا رسول ہوں وہ بولا نہیں لیکن میں آپ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ نہ آپ سے جنگ کروں گا اور نہ آپ سے لڑنے والی قوم کے ساتھ رہوں گا ۹؎ تو حضور نے اس کا راستہ چھوڑ دیا ۱۰؎ وہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا بولا میں تمہارے لوگوں میں سب سے بہترین کے پاس سے آرہا ہوں ۱۱؎ کتاب حمیدی اور ریاض میں یوں ہی ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع