30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۸؎ حضرت عکاشہ مشہور صحابی ہیں،بدر اور بعد بدر تمام غزوات میں شریک ہوئے،بدر میں آپ کی تلوار ٹوٹ گئی تو حضور انور نے آپ کو کھجور کی چھڑی عنایت فرمائی جو آپ کے ہاتھ میں پہنچتے ہی تلوار بن گئی،حضور نے آپ کو جنت کی بشارت دی،۴۵ پینتالیس سال عمر پائی،خلافت صدیقی میں وفات ہوئی،آپ سے حضرت ابوہریرہ عبدالله ابن عباس اور خود آپ کی بہن ام قیس بنت محصن نے روایات لی ہیں،آپ کا کھڑا ہونا عرض معروض کے لیے تھا۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کرنا سنت صحابی ہے۔
۹؎ بعض روایات میں ہے کہ فرمایا انت منھم،ہوسکتا ہے کہ دعا بھی دی ہو اور بشارت بھی۔اس دعا سے معلوم ہوا کہ حضرت عکاشہ اس جماعت میں حضور کی دعا کی برکت سے داخل ہوئے ۔(مرقات)
۱۰؎ یہ دوسرے صاحب حضرت سعد ابن عبادہ تھے ۔(اشعہ و مرقات)اسی جواب عالی سے معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کو سب کے انجام سب کے مقام و درجات کی خبر ہے کہ ایک صاحب کے لیے دعا فرمائی خبر تھی کہ یہ ان میں سے ہیں دوسرے کے لیے خبر تھی یہ ان میں سے نہیں،اب جواب کا مطلب یہ نہیں کہ جنت میں اب کوئی سیٹ خالی نہیں رہی یا وہ جماعت پوری ہوچکی تم کیسے داخل ہوؤگے،مطلب یہ ہی ہے کہ تم اس جماعت سے نہیں تمہارے لیے دعا کیسے کی جائے۔
|
5297 -[3] وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم «عجبا لأمر الْمُؤمن كُله خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ» رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت صہیب سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے تعجب ہے مرد مسلمان پر کہ اس کے سارے کام خیر ہیں ۲؎ یہ بات کسی کو حاصل نہیں ہوتی سواء مرد مؤمن کے کہ اگر اسے راحت پہنچے تو شکر کرے تو اس کے لیے راحت خیر ہو اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرے تو صبر اس کے لیے بہتر ہے ۳؎ (مسلم) |
۱؎ آپ صہیب ابن سنان ہیں،حضرت عبداﷲ ابن جدعان کے آزاد کردہ ، آپ کی کنیت ابو یحیی ہے،اصلی باشندے موصل کے ہیں مگر رومیوں نے آپ کو قید کرکے روم پہنچا دیا،پھر مکہ معظمہ میں آپ فروخت ہوکر آئے،مکہ میں ہی ایمان لائے،اﷲ کی راہ میں بہت ستائے گئے،آپ کے متعلق یہ آیت اتری"وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشْرِیۡ نَفْسَہُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللہِ"نوے سال کی عمر ہوئی، ۸۰ھ میں وفات پائی،جنت البقیع میں دفن ہوئے ۔(مرقات)
۲؎ یعنی مؤمن کے لیے دنیا میں خیر بھی خیر ہے،شر بھی خیر،راحت و آرام بھی خیر ہے، مصیبت و آلام بھی خیر،وہ ہر طرح نفع میں ہے۔
۳؎ یعنی مؤمن نعمتیں پا کر شاکر بن جاتا ہے اور مصیبتیں پا کر صابر بن جاتا ہے۔ خیال رہے کہ شکر و صبر دونوں تین قسم کے ہوتے ہیں: دلی،قولی،عملی،یعنی جنانی،لسانی،ارکانی۔مالدار کا زکوۃ نکالنا عملی شکر ہے،یہ ہی حال صبر کا ہے۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ امیری،فقیری دو سواریاں ہیں مجھے پرواہ نہیں کہ کس سواری پر سوار ہوجاؤں ۔(مرقات)
فقر و شاہی واردات مصطفی است
کافر فقیر ہو تو رب کی شکایتیں کرکے کافر رہتا ہے،امیر ہو تو فخر و تکبر کرکے اپنا کفر اور زیادہ کرلیتا ہے،مؤمن کا ہر حال اچھا۔
|
5298 -[4] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ واستعن بِاللَّه ولاتعجز وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا وَلَكِنْ قُلْ قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عمل الشَّيْطَان»رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ قوی مسلمان کمزور مسلمان سے اچھا ہے اور الله کو پیارا ہے ۱؎ بھلائی سب میں ہے ۲؎ اس پر حرص کرو جو تمہیں نفع دے اور اﷲ سے مدد مانگو عاجز نہ ہو۳؎ اور اگر تمہیں کچھ تکلیف پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں وہ کام کرلیتا تو ایسا ہوجاتا ۴؎ لیکن کہو کہ الله نے یہ ہی مقدر کیا تھا جو اس نے چاہا کیا کیونکہ ا گر مگر شیطان کام کھولتا ہے۵؎( مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع