دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

 

کتاب الرقاق

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎   رقاق جمع ہے رقیق کی بمعنی نرمی و پتلی چیز جیسے صغیر کی جمع صغار،کبیر کی جمع کبار اور کریم کی جمع کرام اور رقیقہ کی جمع رقائق آتی ہے جیسے دقیقۃ اور حقیقۃ کی جمع دقائق اور حقائق ہے،اسی کا مقابل ہے غلیظ۔یہاں رقاق سے مراد حضور کے وہ کلمات طیبہ جو تاقیامت مسلمانوں کے دل نرم کردیں جیسے لوہا  نرم ہوکر اوزار اور سونا نرم ہوکر زیور اورمٹی نرم ہوکر کھیت یا باغ،آٹا نرم ہوکر روٹی وغیرہ بنتے ہیں ایسے ہی انسان دل کا نرم ہوکر ولی،صوفی،عارف وغیرہ بنتا ہے۔دل کی نرمی الله  کی بڑی نعمت ہے،یہ نرمی دل بزرگوں کی صحبت اور ان کے پاک کلمات سے نصیب ہوتی ہے۔

5155 -[1]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

 روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله  عنھما سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم نے دو۲ نعمتیں ہیں جن میں بہت لوگ گھاٹے میں ہیں تندرستی اور فراغت ۱؎ (بخاری)

۱؎ یعنی تندرستی  اور عبادت کے لیے موقعہ مل جانا الله  کی بڑی نعمتیں ہیں مگر تھوڑے لوگ ہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اکثر لوگ انہیں دنیا کمانے میں صرف کرتے ہیں حالانکہ دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ محنت سے جوڑنا،مشقت سے اس کی حفاظت کرنا،حسرت سے چھوڑنا۔خیال رہے کہ فراغت اور بیکاری میں فرق ہے۔فراغت اچھی چیز ہے،بیکاری بری چیز۔فرمایا نبی صلی الله  علیہ وسلم نے کہ جنتی لوگ کسی چیز پر حسرت نہ کریں گے سوائے ان ساعتوں کے جو انہوں نے دنیا میں الله  کے ذکر کے بغیر صرف کردیں۔(مرقاۃ)

5156 -[2]

وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يجعلُ أحدُكم إصبعَه فِي اليمِّ فَلْينْظر بِمَ يرجع» . رَوَاهُ مُسلم

 روایت ہے حضرت مستورد ابن شداد سے  ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اﷲ کی قسم نہیں ہے دنیا  آخرت کے مقابل مگر ایسی جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ انگلی کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۲؎(مسلم)

۱؎  آپ بہت کم سن صحابی ہیں،حضور صلی الله  علیہ وسلم کی وفات کے وقت بالکل نو عمر تھے مگر حضور صلی الله  علیہ وسلم کا کلام شریف یاد رکھا،روایت کیا،مصر میں قیام رہا۔(اکمال،اشعہ)

۲؎ یہ بھی فقط سمجھانے کے لیے ہے ورنہ فانی اور متناہی کو باقی غیر فانی غیر متناہی سے وجہ نسبت بھی نہیں جو بھیگی اونگلی کی تری کو سمندر سے ہے۔ خیال رہے کہ دنیا وہ ہے جو الله  سے غافل کر دے۔عاقل عارف کی دنیا تو  آخرت کی کھیتی ہے اس کی دنیا بہت ہی عظیم ہے۔غافل کی نماز بھی دنیا ہے جو وہ نام نمود کے لیے کرتا ہے۔عاقل کا کھانا پینا،سونا جاگنا بلکہ جینا مرنا بھی دین ہے کہ حضورصلی الله  علیہ وسلم کی سنت ہے۔مسلمان اس لیے کھائے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن