دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5296 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي فَقِيلَ هَذَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ ثُمَّ قِيلَ لِي انْظُرْ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَقِيلَ لِي انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفق فَقيل: هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ ولايسترقون وَلَا يَكْتَوُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» . ثُمَّ قَامَ رجل فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَقَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ.

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں ایک دن رسول الله صلی الله علیہ و سلم تشریف لائے تو فرمایا کہ مجھ پر امتیں پیش کی گئیں  ۱؎ تو نبی گزرنے لگے جن کے ساتھ صرف ایک شخص تھا کوئی نبی کہ ان کے ساتھ دو شخص تھے اور کوئی نبی کہ ان کے ساتھ جماعت تھی اور کوئی نبی کہ ان کے ساتھ ایک بھی نہ تھا۲؎ پھر میں نے بڑی جماعت دیکھی جس نے کنارہ آسمان گھیر رکھے تھے میں نے امید کی کہ یہ میری امت ہو ۳؎ تو مجھ سے فرمایا گیا کہ یہ موسیٰ ہی کی اپنی قوم ہے ۴؎ پھر مجھ سے فرمایا کہ دیکھئے میں نے بہت بڑی خلقت دیکھی جس نے کنارہ آسمان گھیرے ہوئے تھا پھر مجھ سے کہا گیا ادھر اور ادھر دیکھئے میں نے بہت بڑی خلقت دیکھی جس نے کنارے گھیرے ہوئے تھے ۵؎ کہا گیا یہ ہے آپ کی امت اور ان کے ساتھ ان کے آگے ستر ہزار وہ ہیں جو بلا حساب جنت میں جائیں گے ۶؎ وہ وہ ہیں جو نہ تو پرندے اڑاتے ہیں،نہ منتر جنتر کرتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۷؎ حضرت عکاشہ ابن محصن کھڑے ہوگئے ۸؎  بولے حضور اﷲ سے دعا کریں کہ مجھے ان میں سے کرے، فرما یا الٰہی انہیں ان میں سے کردے ۹؎ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا بولا دعا کیجئے الله مجھے ان میں سے کرے،فرمایا اس دعا میں تم پر عکاشہ سبقت لے گئے ۱۰؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہ پیشی یا تو میثاق کے دن ہوئی یا کسی خوابی معراج میں یا جسمانی معراج ہیں،تیسرا احتمال زیادہ قوی ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے معراج میں جہاں اور چیزیں ملاحظہ فرمائیں وہاں ہی سارے نبی مع ان کی اپنی امتوں کے حال آنکھوں سے دیکھے۔معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کی نگاہ سے کوئی نبی اور ہر نبی کا کوئی امتی غائب نہیں،حضور صلی الله علیہ و سلم نے سب کو اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا ہے۔

۲؎ یعنی بعض نبی دنیا میں بھی گزرے جن کی بات ایک شخص نے بھی نہیں مانی وہ ہمارے سامنے اکیلے ہی پیش ہوئے،بعض نبی وہ جن کی دعوت صرف ایک نے یا دو نے یا جماعت نے قبول کی وہ نبی ہمارے سامنے اسی طرح ایک دو یا زیادہ کے ساتھ پیش ہوئے۔ معلوم ہوا کہ امت سے مراد امت اجابت ہے ۔

۳؎  یعنی اس جماعت کی یہ زیادتی دیکھ کر مجھے ا ندازہ ہوا  کہ  یہ میری امت ہوگی کیونکہ میرا دن قیامت تک ہے اور ہر زمانہ میں  لاکھوں  آدمی مسلمان ہیں۔

۴؎ یعنی یہ امت آپ کی نہیں  بلکہ موسیٰ علیہ السلام کی ہے جو ان پر ایمان لا ئے اور ایمان پر ہی مرے   مرتد نہ ہوئے۔ اس حدیث سے معلوم ہو ا کہ نبی کے   اندازہ  میں غلطی ہوسکتی ہے تبلیغی احکام میں غلطی نہیں ہوسکتی ورنہ شریعت محفوظ نہ رہے گی،یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور کو علم آہستگی سے دیا گیا۔ خیال رہے کہ یہ لوگ صرف سامنے ہی تھے مگر تھے بہت کہ تاحد نظر آدمی ہی آدمی تھے۔

۵؎  یعنی اس جماعت کی کثرت کا یہ حال تھا کہ آگے داہنے بائیں ہرطرف اس کثرت سے آدمی تھے کہ تاحد نظر آدمی ہی آدمی تھے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے اپنی ساری امت کو ملاحظہ فرمایا حضور سے کوئی شخص پوشیدہ نہیں۔

۶؎ مع ھولاء میں دو احتمال ہیں: ایک یہ کہ اسی جماعت میں یہ لوگ بھی ہیں جوبغیر حساب جنت میں جائیں گے۔ دوسرے یہ کہ ان کے علاوہ ستر ہزار وہ بھی ہیں جو بغیر حساب جنتی ہیں،پہلا احتمال زیادہ قوی ہے۔ستر ہزار سے مراد بے شمار لوگ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ خاص تعداد ہی مراد ہو، یعنی ساری امت میں ستر ہزار بے حساب جنتی ہیں۔اس دوسرے احتمال کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ فرمایا کہ ان ستر ہزار میں سے ہر شخص کے ساتھ ستر ستر ہزار ہوں گے،قرآن مجید میں ہے"یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ"۔اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت میں سب کا حساب نہ ہوگا بعض لوگ حساب سے مستثنٰی بھی ہوں گے۔

۷؎  اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ یہ بے حساب جنتی وہ ہیں جو ان اعمال کی وجہ سے بے حساب بہشت میں جائیں گے،ان کے علاوہ اور بہت سی قسم کے لو گ بے حساب جنتی ہیں جیسے نابالغ فوت شدہ بچے،دیوانے صدیقین وغیرہ۔خیال رہے کہ یہاں حساب سے محشر کا حساب مراد ہے نہ کہ قبر کا حساب۔قبر کے حساب سے تو بہت سے لوگ مستثنٰی ہیں،قبر کے حساب سے آٹھ قسم کے لوگ محفوظ رہیں گے حتی کہ جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں فوت ہوا بلکہ جو روزانہ موت کو یاد کرلیا کرے وہ بھی حساب سے محفوظ ہے،قبر میں ایمان کا حساب ہے محشر میں اعمال کا حساب۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن