دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

باب التوکل و الصبر

توکل اور صبر کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  توکل بنا ہے وکل سے یا وکول سے جس کے معنی ہیں اپنا کام دوسرے کے سپرد کردینا،اسی سے ہے وکیل۔اصطلاح میں توکل یہ ہے کہ اپنی عاجزی کا اظہار دوسرے پر بھروسہ کرنا،اسی سے ہے تکلان۔شریعت میں تو کل کے معنی ہیں اپنے کام حوالہ بہ خدا کردینا۔توکل دو قسم کا ہے : توکل عوام، اسباب پر عمل کرکے نتیجہ خدا کے حوالے کردینا ۔توکل خواص،اسباب چھوڑ کر مسبب الاسباب پر نظرکرنا۔ صبر کے معنی ہیں روکنا،شریعت میں صبر ہے مصیبت میں اپنے کوگھبراہٹ سے روکنا راضی بہ رضا رہنا۔صبر کی بہت قسمیں ہیں: عبادت پر صبر،گناہو ں سے صبر،مصیبت میں صبر،یہ تینوں صبر بہت اچھے ہیں،یہاں تیسرے معنی کا صبر مراد ہے جیساکہ آئندہ احادیث سے معلوم ہوگا۔یہ تیسری قسم کا صبر کئی طرح ہے عوام کا صبر اور ہے،خواص الخواص کا اور،خواص کا کچھ اور۔

5295 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میری امت میں سے ستر ہزار بغیر حساب جنت میں جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو منتر جنتر نہیں کرتے ۱؎  فال کے لیے چڑیاں نہیں اڑاتے ۲؎  اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۳؎ ( مسلم، بخاری)

۱؎ یعنی کفار کے چھوچھا سے بچتے ہیں ورنہ قرآنی آیات،دعاء ماثورہ سے دم کرنا سنت ہے بلکہ نامعلوم منتر پڑھنا ہی گناہ ہے جس کے معنی کی خبر نہ ہو کیونکہ ممکن ہے کہ ان الفاظ کے شرکیہ معانی ہوں لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے۔

۲؎  اہلِ عرب جب کسی کام کو جاتے تو چڑیوں سے فال لیتے تھے کہ کوئی چڑیا دیکھتے تو اسے اڑاتے اگر داہنی طرف اڑ جاتی تو کہتے کہ ہمارا کام ہو جاوے گا،اگر بائیں طرف اڑتی تو کہتے کہ ہمارا کام نہ ہوگا واپس لوٹ آتے یہ حرام ہے۔

۳؎  توکل کے معانی ابھی عرض ہوئے۔یہاں شاید خواص کا توکل مراد ہے یعنی ترک اسباب اور نظر برمسبب الاسباب۔

5296 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي فَقِيلَ هَذَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ ثُمَّ قِيلَ لِي انْظُرْ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَقِيلَ لِي انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفق فَقيل: هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ ولايسترقون وَلَا يَكْتَوُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» . ثُمَّ قَامَ رجل فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَقَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ.

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں ایک دن رسول الله صلی الله علیہ و سلم تشریف لائے تو فرمایا کہ مجھ پر امتیں پیش کی گئیں  ۱؎ تو نبی گزرنے لگے جن کے ساتھ صرف ایک شخص تھا کوئی نبی کہ ان کے ساتھ دو شخص تھے اور کوئی نبی کہ ان کے ساتھ جماعت تھی اور کوئی نبی کہ ان کے ساتھ ایک بھی نہ تھا۲؎ پھر میں نے بڑی جماعت دیکھی جس نے کنارہ آسمان گھیر رکھے تھے میں نے امید کی کہ یہ میری امت ہو ۳؎ تو مجھ سے فرمایا گیا کہ یہ موسیٰ ہی کی اپنی قوم ہے ۴؎ پھر مجھ سے فرمایا کہ دیکھئے میں نے بہت بڑی خلقت دیکھی جس نے کنارہ آسمان گھیرے ہوئے تھا پھر مجھ سے کہا گیا ادھر اور ادھر دیکھئے میں نے بہت بڑی خلقت دیکھی جس نے کنارے گھیرے ہوئے تھے ۵؎ کہا گیا یہ ہے آپ کی امت اور ان کے ساتھ ان کے آگے ستر ہزار وہ ہیں جو بلا حساب جنت میں جائیں گے ۶؎ وہ وہ ہیں جو نہ تو پرندے اڑاتے ہیں،نہ منتر جنتر کرتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۷؎ حضرت عکاشہ ابن محصن کھڑے ہوگئے ۸؎  بولے حضور اﷲ سے دعا کریں کہ مجھے ان میں سے کرے، فرما یا الٰہی انہیں ان میں سے کردے ۹؎ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا بولا دعا کیجئے الله مجھے ان میں سے کرے،فرمایا اس دعا میں تم پر عکاشہ سبقت لے گئے ۱۰؎ (مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن