30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5293 -[10] وَعَن عبدِ الله بنِ شدَّادٍ قَالَ إِنَّ نَفرا من بني عذرةثلاثة أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَكْفِينِيهِمْ؟» قَالَ طَلْحَةُ: أَنَا. فَكَانُوا عِنْدَهُ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا فَخَرَجَ فِيهِ أَحَدُهُمْ فَاسْتُشْهِدَ ثُمَّ بَعَثَ بَعْثًا فَخَرَجَ فِيهِ الْآخَرُ فَاسْتُشْهِدَ ثُمَّ مَاتَ الثَّالِثُ عَلَى فِرَاشِهِ. قَالَ: قَالَ طَلْحَةُ:فَرَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ فِي الْجَنَّةِ وَرَأَيْتُ الْمَيِّتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَمَامَهُمْ وَالَّذِي اسْتُشْهِدَ آخِرًا يَلِيهِ وَأَوَّلَهُمْ يَلِيهِ فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: «وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ؟ لَيْسَ أَحَدٌ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَام لتسبيحه وتكبيره وتهليله» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن شداد سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ بنی عذرہ کے تین شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ مسلمان ہوگئے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا انہیں ہماری طرف سے کوئی سنبھالے گا ۲؎ جناب طلحہ بولے میں،تو وہ ان کے پاس رہے پھر نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تو ان میں سے ایک اس لشکر میں گیا وہ شہید ہوگیا ۳؎ پھر اور لشکر بھیجا تو ان میں دوسرا گیا تو وہ شہید کردیا گیا پھر مرگیا تیسرا اپنے بستر پر۴؎ راوی کہتے ہیں کہ جناب طلحہ نے فرمایا کہ میں نے ان تینوں کو جنت میں دیکھا ۵؎ اور اپنے بستر پر مرنے والے کو ان سب کے آگے دیکھا اور جو پیچھے شہید ہوا تھا اسے اس کے قریب دیکھا اور پہلے کو اس کے قریب دیکھا۶؎ میرے دل میں اس سے کچھ آگیا ۷؎ تب پہلے نبی صلی الله علیہ وسلم سے یہ عرض کیا تو فرمایا کہ تم نے اس میں سے کس چیز پر تعجب کیا الله کے نزدیک اس مؤمن سے کوئی افضل نہیں جسے اسلام میں زیادہ عمر دی جاوے ۸؎ اس کی تسبیح اس کی تکبیر اس کے کلمہ کی وجہ سے ۹؎ |
۱؎ آپ تابعی ہیں،آپ کے والد شداد ابن اوس صحابی ہیں،حضرت میمونہ رضی الله عنہا آپ کی خالہ ہیں،بڑے عالم متقی تھے، حضرت عمر،علی،معاذ ابن جبل،ابن عباس سے روایات لی ہیں رضی الله عنہ بلکہ اپنے والد،اپنی خالہ سے بھی روایات لی ہیں۔
۲؎ یعنی ان نو مسلم فقراء کا کھانا کپڑا وغیرہ ہمارے ذمہ ہے جو ہماری طرف سے ان کا خرچ برداشت کرے تا قیامت ہم جیسے فقیروں کا گزارہ حضور کے دروازے سے ہوتا رہے گا،دنیاوی وسیلے انہیں کے کرم کا مظہر ہیں۔
۳؎ یعنی یہ تینوں حضرات جناب ابو طلحہ کے مہمان دائمی رہے حتی کہ ایک جہاد میں ان تینوں میں سے ایک شخص شہید ہوگیا۔
۴؎ یہ تیسرے صاحب یا تو ان دو جہاد میں گئے ہی نہ تھے یا گئے تھے مگر شہید نہیں ہوئے تھے بعد میں بیماری سے اپنے بستر پر فوت ہوئے مگر تھے جہاد کے لیے بالکل تیار یعنی مرابط فی سبیل الله یہ قیود بہت خیال میں رہیں۔(مرقات)
۵؎ خواب میں دیکھایا کشف سے۔(مرقات)یہ حدیث الہام اولیاء،کشف اولیاء کی دلیل ہے،بعض حضرات کشف قبور کرلیتے ہیں اس کا ماخذ بھی یہی ہوتا ہے۔
۶؎ یعنی انہیں جنت میں اس طرح دیکھا کہ تیسرے صاحب جو شہید نہ ہوئے تھے ان میں نمبر اول تھے،دوسرے شہید نمبر دوم ہیں اور پہلے شہید نمبر سوم ہیں یہ اولیت آخریت درجہ اور مرتبہ کی تھی کہ جیسا درجہ انہیں ملا تھا ویسا ہی انہوں نے دیکھا۔
۷؎ یعنی یہ ترتیب دیکھ کر مجھے ایسا سوال یا اشکال پیدا ہوا جس کو میں خود حل نہ کرسکا کہ غیر شہید تو نمبر اول اور شہداء اس کے ماتحت۔
۸؎ مقصد یہ ہے کہ دوسرے شہید کو پہلے شہید سے کچھ زیادہ عمر مل گئی اور تیسرے صاحب کو ان دونوں سے زیادہ عمر ملی،چونکہ انہیں ذکر الله،عبادت،اطاعت کا موقعہ زیادہ ملا اس لیے یہ دونوں اس پہلے شہید سے افضل ہوئے اور ان دونوں میں یہ تیسرے صاحب دوسرے شہید سے اعلٰی ہوئے۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ یہ تیسرے صاحب بھی شہادت جہاد کے لیے تیار تھے اس لیے انہیں حکمی شہادت تو مل گئی ذکر الله میں بڑھ گئے لہذا ان کا درجہ زیادہ ہوگیا۔
۹؎ معلوم ہوا کہ مسلمان کی زندگی کا ہر دن بلکہ ہر ساعت اس کی نیکیاں بڑھ جانے کا ذریعہ ہے الله تعالٰی ایسی زندگی نصیب فرمائے۔
|
5294 -[11] وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ عَبْدًا لَوْ خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمَ وُلِدَ إِلَى أَنْ يَمُوتَ هَرَمًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَحَقَّرَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَوَدَّ أَنَّهُ رُدَّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ من الْأجر والثَّواب رَوَاهُمَا أَحْمد |
روایت ہے حضرت محمد ابن ابو عمیرہ سے ۱؎ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے تھے،حضور نے فرمایا کہ اگر کوئی بندہ اپنی پیدائش کے دن سے اپنے چہرے کے بل گر جاوے حتی کہ الله کی اطاعت میں بوڑھا ہوکر مرجاوے ۲؎ تو اس دن اس عبادت کو حقیر سمجھے گا ۳؎ اور تمنا کرے گا کہ دنیا میں لوٹایا جاوے تاکہ اجروثواب اور زیادہ کرے۴؎ دونوں حدیثیں احمد نے روایت کیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع