30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ ایسے تشریف لائے جیسے سورج طلوع کرتا ہے کہ رات کو دن اندھیرے کو اجالا بنا دیتا ہے،سوتوں کو جگا دینا طلع فرمانا بہت ہی موزوں ہے۔
۳؎ یعنی حضور نے غسل کیا ہے جمال باکمال اور بھی نکھر گیا ہے،چہرہ انور پر خوشی کے آثار ہیں ۔اﷲ حضور کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے،رنج و غم کی ہوا بھی نہ لگائے کہ ان کی خوشی سے دنیا کی خوشی وابستہ ہے،ان کا جمال سب کی خوشی کا ذریعہ ہے۔
۴؎ کسی نے وجہ نہ پوچھی کہ اس خوشی کا سبب کیا ہے بلکہ اور گفتگو شروع ہوگئی اس میں مالداری کا ذکر بھی تھا کہ یہ اچھی ہے یا بری۔
۵؎ لاباس فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ فقر مع صبر افضل ہے غنی مع شکر سے،یہ بہت بڑی بحث ہے یعنی غنی جب خوف خدا کے ساتھ ہو تو اس میں حرج نہیں۔
۶؎ یعنی دنیا میں دل کا چین روح کا آرام اﷲ کی بڑی نعمت ہے،رب فرماتاہے:"وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ"وہاں دو جنتوں سے مراد ہے دنیا کی جنت یعنی دل کا چین اور آخرت کی جنت الله رسول کا دیدار،مال کی خوشی الله کے ذکر والوں کے قرب سے نصیب ہوتی ہے۔
۷؎ کیونکہ مالداری کا انجام حساب بلکہ کبھی عقاب ہے جس سے فقراء دور ہیں۔
|
5291 -[8] ( وَعَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ كَانَ الْمَالُ فِيمَا مَضَى يُكْرَهُ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَهُوَ تُرْسُ الْمُؤْمِنِ وَقَالَ لَوْلَا هَذِهِ الدَّنَانِيرُ لَتَمَنْدَلَ بِنَا هَؤُلَاءِ الْمُلُوكُ وَقَالَ مَنْ كَانَ فِي يَدِهِ مِنْ هَذِهِ شَيْءٌ فَلْيُصْلِحْهُ فَإِنَّهُ زَمَانٌ إِنِ احْتَاجَ كَانَ أَوَّلَ مَنْ يَبْذُلُ دِينَهُ وَقَالَ: الْحَلَالُ لايحتمل السَّرف. رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت سفیان ثوری سے فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانہ میں مال ناپسند تھا ۱؎ لیکن آج مال مؤمن کی ڈھال ہے۲؎ اور فرمایا اگر یہ اشرفیاں نہ ہوتیں تو یہ بادشاہ ہم کو رومال بنالیتے۳؎ اور فرمایا کہ جس کے پاس کچھ دولت ہو تو وہ اسے سنبھالے۴؎ بڑھائے کیونکہ یہ زمانہ وہ ہے کہ اگر کوئی محتاج ہوجاوے تو پہلی جو چیز خرچ کرتا وہ اس کا دین ہے ۵؎ فرمایا کہ حلال مال میں فضول خرچی کی گنجائش نہیں ۶؎ (شرح سنہ) |
۱؎ یعنی زمانہ رسالت میں زیادہ مال جمع کرنے کی کوشش کرنا ناپسند تھا اس وقت لوگوں پر حال کا غلبہ تھا۔مال کے لیے بہت دوڑ دھوپ اس میں نقصان دہ ہوتی تھی،اس کا یہ مطلب نہیں کہ زیادہ مال حرام یا مکروہ یا ناپسند تھا،مال سے زکوۃ،حج،قربانی،جہاد ہوتے ہیں۔اچھی چیزوں کا ذریعہ اچھا ہوتا ہے گویا اس زمانہ میں لوگوں کو زہد و قناعت مرغوب تھی۔
۲؎ یعنی اب اس زمانہ میں مال حلال بہت سے گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے کہ مؤمن کا اس کے ذریعہ چوری،حرام خوری،نام نمود،دکھاوا،محتاجی سے بچنے کا ذریعہ ہے۔
۳؎ یعنی اگر میرے پاس دولت نہ ہوتی تو مجھے حکام رومال کی طرح استعمال کرتے کہ اپنی گندگی مجھ سے صاف کرتے، مجھے پیسوں کا لالچ دے کر غلط فتویٰ لیتے اور میرے فتووں سے اپنے ظلم جائز کرا لیا کرتے،غریب مولوی کا علم امیروں کے پیسہ پر نچھاور ہوتاہے الا ماشاء اﷲ۔مندیل بنا ہے ندل سے بمعنی میل،مندیل میل دور کرنے کا آلہ یعنی رومال،مالدار کا مولٰی صرف اﷲ تعالٰی ہے غریب کا مولٰی ہر امیر ہے۔
۳؎ یعنی اپنے مال کو ضائع نہ ہونے دے اسے بڑھانے کی کوشش کرے،مال کی قدر کرے خصوصًا عالم دین کے لیے مال بہت ہی ضروری ہے کہ مالدار عالم کے وعظ میں تاثیر اور ہی ہوتی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع