دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۲؎ یعنی تین خبریں قسم سے بیان کرتا ہوں اور ایک خبر بغیر قسم کے۔خیال رہے کہ حضور انور کی خبر خواہ قسم سے ہو یا بغیر قسم بالکل حق اور درست ہے،حضور کی خبر کا درست ہونا ایسا ہی لازم و ضروری ہے جیسے الله تعالٰی کی خبر کا حق ہونا لازم ہے کہ رب تعالٰی کا جھوٹ بھی ناممکن ہے اور نبی کا جھوٹ بھی ناممکن اگرچہ وہ بالذات ہے یہ محال بالغیر جیسے رب تعالٰی کی قسمیں تاکید کے لیے ہوتی ہیں ایسے ہی حضور انور کی قسمیں تاکید کلام کے لیے ہیں۔

۳؎ یہاں صرف اقسم فرماکر قسم کھائی گئی و الله،بالله نہیں فرمایا یہ بھی قسم کا ایک طریقہ ہے۔صدقہ سے مراد ہر خیرات ہے فرضی ہو یا نفلی۔تجربہ شاہد ہے کہ خیرات سے مال بڑھتا ہے گھٹتا نہیں۔آزما کر دیکھ لو میرا رب سچا،اس کے رسول سچے صلی الله علیہ وسلم ۔صدقہ سے دنیا میں برکت آخرت میں ثواب ہے۔فقیر کا تجربہ تو یہ ہے کہ صدقہ والے مال کو عمومًا حاکم،حکیم،وکیل چور نہیں کھاتے دنیاوی نقصانات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔

۴؎ یہاں صبر سے مراد اخلاقی صبر ہے نہ کہ مجبوری کا صبر۔صبر،معافی،تحمل کی جو آیات منسوخ ہیں ان میں مجبوری کا صبر ہی مراد ہے، رب فرماتاہے:"فَاعْفُوۡا وَاصْفَحُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ"۔

۵؎ چنانچہ یوسف علیہ السلام نے اپنے دربار میں آئے ہوئے بھائیوں کو معافی دی،حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر تمام اہل مکہ کو معافی دے دی جن سے عمر بھر ظلم و ستم دیکھے تھے،دیکھ لو آج تک ان حضرات کی واہ واہ ہورہی ہے یہ ہے عزت بڑھنا۔شعر

صدقےاس انعام کےقربان اس احسان کے                              ہو رہی  دونوں  عالم  میں  تمہاری واہ واہ

۶؎ تجربہ شاہد ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں کے پاس اولًا تو مال جمع ہوتا ہی نہیں،اگر ہوجائے تو وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے جمع کرکے چھوڑ جاتے ہیں،انکے مال میں برکت نہیں ہوتی۔مرقات میں ان کی مثال اس کتے سے دی ہے جو منہ میں ٹکڑا لیے شفاف و صاف نہر پر گزرے اس میں اپنے عکس کو دیکھ کر سمجھے کہ یہ دوسرا کتا ہے اس سے ٹکڑا چھین لینے کے لیے اس پر منہ پھاڑ کر حملہ کرے اپنا ٹکڑا بھی کھو بیٹھے۔

۷؎ علم سے مراد علم دین ہے۔معلوم ہوا علم دین بھی اﷲ تعالٰی کی دنیاوی نعمتوں سے ایک اعلٰی نعمت ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ مال سانپ ہے علم دین تریاق،ہمیشہ تریاق کے ساتھ زہر مفید ہوتا ہے،بغیر تریاق ہلاک کردیتا ہے۔

۸؎ اگرچہ بحقہ میں سارے سلوک،صدقات داخل ہیں مگر چونکہ عزیزوں قرابت داروں کے حقو ق ادا کرنا بہترین عبادت ہے اور تمام صدقات میں اعلٰی و افضل اس لیے اس کا ذکر علیحدہ فرمایا گیا۔

۹؎ اس لیے کہ یہ شخص دین و دنیا دونوں جگہ سرخرو شاد آباد رہے گا کیونکہ وہ مال کمائے گا حکم الٰہی کے مطابق،خرچ کرے گا اسی کے مطابق،جمع کرے گا اسی فرمان کے ماتحت۔مال کی آمد،جمع،خرچ سب شریعت کے مطابق چاہیے۔

۱۰؎ معلوم ہوا کہ نیکی کی تمنا بھی نیکی ہے۔غریب عالم خواہ زبان سے تمنا کرے یا فقط دل سے بہرحال ثواب برابر ہی ہے۔

۱۱؎  یتخبط بنا ہے خبط سے بمعنی بے فائدہ ہاتھ پاؤ ں مارنا خلط ملط کرنا اس لیے دیوانگی کو  تخبط کہتے ہیں،دیوانہ کو خبطی کہ وہ ہر طرح بے فائدہ ہاتھ پاؤ ں مارتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ" یعنی وہ ہر حرام و حلال طریقے سے مال کماتا ہے اور ہر حلال حرام جگہ خرچ کرتا رہتا ہے،نہ خود عالم ہے نہ علماء کی بات مانتا ہے جیساکہ آج کل عام امیروں کا حال ہے۔

۱۲؎  ایسے لوگ اگر کبھی اچھی جگہ خرچ بھی کرتے ہیں تو اپنی ناموری کے لیے خرچ کرتے ہیں مگر بے فائدہ بلکہ مضر۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن