30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی یہ صاحب شہید نہیں ہوئے اور ان کا بھائی ایک ہفتہ پہلے شہید ہوگیا،مولٰی تو اپنے کرم سے اس کو اسی شہید کا درجہ عطا فرما،ان دونوں کو وہاں بھی برابر اور یکجا کردے جیسے وہ یہاں یکجاتھے۔سبحان اﷲ! بڑی پیاری دعا کی۔
۵؎ یعنی اس شخص کو جو یہ سات دن زیادہ مل گئے ان دونوں میں اس نے نماز روزے اور دوسری نیکیاں کیں اس لیے ان کا درجہ اس شہید سے زیادہ ہوگیا۔خیال رہے کہ یہ صاحب مرابط تھے یعنی جہاد کے لیے ہر دم تیار اور مرابط کو درجہ شہادت کا ملتا ہے لہذا شہادت میں ان شہید کے برابر ہوگئے ان سات دن کے اعمال میں ان سے بڑھ گئے،نیز بعض غیر شہید شہید سے بڑھ جاتے ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ تلوار سے شہید نہیں ہوئے مگر شہیدوں سے افضل ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"مِنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ" صدیق کو شہید پر مقدم فرمایا۔
|
5287 -[4] وَعَن أبي كبشةَ الأنماريِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ فَأَمَّا الَّذِي أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ فَإِنَّهُ مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِنْ صَدَقَةٍ وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ مَظْلِمَةً صَبَرَ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ وَأَمَّا الَّذِي أُحَدِّثُكُمْ فَاحْفَظُوهُ» فَقَالَ: " إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نفرٍ: عبدٌ رزقَه اللَّهُ مَالا وعلماً فهوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ رَحِمَهُ وَيَعْمَلُ لِلَّهِ فِيهِ بِحَقِّهِ فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ. وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا فَهُوَ صَادِقُ النيَّةِ وَيَقُول: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فأجرُهما سواءٌ. وعبدٌ رزَقه اللَّهُ مَالا وَلم يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَتَخَبَّطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْمَلُ فِيهِ بِحَقٍّ فَهَذَا بأخبثِ المنازلِ وعبدٌ لم يرزُقْه اللَّهُ مَالا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ نِيَّتُهُ وَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيح |
روایت ہے حضرت ابو کبشہ انماری سے ۱؎ کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تین باتیں وہ ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں اور ایک بات کی تمہیں خبر دیتا ہوں ۲؎ اسے یاد رکھو وہ تین باتیں جن پر میں قسم فرماتا ہوں وہ یہ ہیں کہ کسی بندے کا مال صدقہ سے نہیں گھٹتا ۳؎ اور کوئی ظلم نہیں کیا جاتا جس پر وہ صبر کرے ۴؎ مگر اﷲ تعالٰی اس سے اس کی عزت بڑھاتا ہے ۵؎ اور کوئی بندہ مانگنے کا دروازہ نہیں کھولتا مگر الله اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے ۶؎ اور جس چیز کی میں تمہیں خبر دیتا ہوں جسے تم یاد رکھو،فرمایا دنیا چار شخصوں کے لیے ہے ایک وہ بندہ جسے الله مال اور علم دونوں دے ۷؎ تو وہ اس میں اﷲ سے ڈرتا ہے،رشتہ داروں سے سلوک کرتا ہے اور اس میں اﷲ کے لیے ان کے حق کے مطابق عمل کرتا ہے ۸؎ تو یہ بہترین درجوں میں ہے ۹؎ اور ایک وہ بندہ جسے اﷲ نے علم دیا مال نہ دیا لیکن وہ ہے سچی نیت والا،کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کے لیے کام کرتا ان دونوں کا ثواب برابر ہے ۱۰؎ اور ایک وہ بندہ جسے اﷲ مال دے اورعلم نہ دے تو وہ اپنے مال میں بغیرعلم خلط ملط ہی کرتا ہے ۱۱؎ اس میں اپنے رب سے نہیں ڈرتا اپنے رشتہ داروں سے سلوک نہیں کرتا اور نہ اس میں حق کے عمل کرتا ہے ۱۲؎ تو یہ خبیث ترین درجہ والا ہے ۱۳؎ اور ایک وہ بندہ جسے اﷲ نہ مال دے نہ علم تو وہ کہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اس میں فلاں کے سے کام کرتا تو وہ اپنی نیت پر ہے۱۴؎ اور ان دونوں کا گناہ برابرہے ۱۵؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔ |
۱؎ آپ کا نام عمرو بن سعد ہے یا سعد ابن عمرو یا عامر ابن سعد صحابی ہیں،آخر زمانہ میں شام میں رہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع