30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5281 -[14] عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ صَلَاحِ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْيَقِينُ وَالزُّهْدُ وَأَوَّلُ فَسَادِهَا الْبُخْلُ وَالْأَمَلُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت کی پہلی درستی یقین اور زہد ہے ۱؎ اور اس کا پہلا فساد بخل اور دراز امید ہے ۲؎ (بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یعنی مسلمان کی پہلی نیکی جو باقی نیکیوں کی جڑ ہے وہ یقین ہے اور یقین چار قسم کا ہے: (۱)جو خیر و شر ہے وہ رب تعالٰی کی طرف سے ہے (۲)جو روزی مقدر میں ہے وہ ضرور ملے گی(۳)نیک و بد اعمال کی سزا و جزا ضرور ملے گی (۴)اﷲ تعالٰی ہمارے ہر حال سے خبردار ہے،ان چاروں باتوں پر یقین رکھے تو ان شاءاﷲ بخل،حسد،کینہ بدعملی ان سب سے محفوظ رہے گا۔(اشعہ)
۲؎ یعنی مسلمان کا پہلا گناہ جو دوسرے گناہوں کی جڑ ہے وہ یہ دو چیزیں ہیں۔بخل جڑ ہے خونریزی فساد کی،لمبی امیدیں جڑ ہیں غفلت و گناہوں کی۔انسان بڑھاپے میں بھی یہ سوچتا ہے کہ ابھی عمر بہت ہے نیکیاں آئندہ کرلیں گے اسی خیال میں رہتے ہیں کہ موت آجاتی ہے۔
|
5282 -[15] وَعَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ: لَيْسَ الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا بِلُبْسِ الْغَلِيظِ وَالْخَشِنِ وَأَكْلِ الْجَشِبِ إِنَّمَا الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا قِصَرُ الْأَمَلِ. رَوَاهُ فِي «شرح السّنة» |
روایت ہے حضرت سفیان ثوری سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ دنیا میں بے رغبتی موٹا پہننے موٹا کھانے سے معمولی غذا سے نہیں،دنیا میں بے رغبتی جھوٹی امیدوں سے ہے ۲؎ (شرح سنہ) |
۱؎ آپ کوفی ہیں،مجتہد،فقیہ محدث اپنے وقت کے قطب ہیں،آپ کی دینداری،زہد،تقویٰ اور ثقہ ہونے پر سارے اہل اسلام متفق ہیں۔سلیمان ابن عبد الملک کے زمانہ میں ولادت ہوئی یعنی ۹۹ھ ننانوے میں ۱۶۱ھ ایک سو اکسٹھ میں وفات پائی،آپ سے امام مالک اور دیگر آئمہ دین نے روایات لیں جیسے فضیل ابن عیاض،ابن عیینہ شعبی وغیرہ۔(مرقات،اکمال)
۲؎ سبحان الله! کیسا نفیس قاعدہ بیان فرمایا آج بہت لوگ اس وہم میں مبتلا ہیں۔کہتے ہیں وہ فقیر کیسا جو رکھے پیسہ،عوام اس شخص کے معتقد ہو جاتے ہیں جو تارک الدنیا ہو کر بیٹھ جائے،بیوی بچے نہ رکھے،موٹا جھوٹا کھایا کرے۔پھٹے کپڑے پہنے اگرچہ بے نماز بے روزہ،بھنگی چرسی ہو۔اللہ تعالٰی نے حلال چیزیں ہمارے استعمال کے لیے پیدا فرمائی ہیں خوب کھاؤ پیو اور خوب عبادت و شکر کرو،رب تعالٰی فرماتاہے:"کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوۡا صٰلِحًا"۔لذیذ نعمتیں کھاؤ،اچھے اعمال کماؤ،دنیا میں زیادہ رہنے کی امید نہ رکھو،جو کرنا ہے آج کرو کل کی کیا خبر نصیب ہو کہ نہ ہو۔جشب کے معنی ہیں خشک غذا یعنی روکھی روٹی۔
|
5283 -[16] وَعَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا وَسُئِلَ أَيُّ شَيْءٍ الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: طِيبُ الْكَسْبِ وَقِصَرُ الْأَمَلِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے حضرت زید ابن حسین سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے مالک سے سنا ان سے پوچھا گیا کہ دنیا میں بے رغبتی کیا چیز ہے فرمایا حلال کمائی ۲؎ اور جھوٹی امیدیں ۳؎ (بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ آپ تبع تابعی نہیں،حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے خاص خدام سے ہیں،آپ کے حالات زندگی معلوم نہ ہوسکے۔
۲؎ حلال کمائی سے عبادات میں لذت،دل میں بیداری،آنکھوں میں تری،دعا میں قبولیت پیدا ہوتی ہے۔جو بندہ مقبول الدعاء بننا چاہے وہ اکل حلال اور صدق مقال یعنی غذا حلال اور سچی زبان رکھے،حلال کمائی وہ جو حلال ذریعوں سے آئے۔
۳؎ دنیاوی امیدیں کم رکھنے سے غفلت نہیں آتی انسان گناہ پر دلیر نہیں ہوتا توبہ میں جلدی کرتا ہے یہ بہت سی بیماریوں کا علاج ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع