30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی تین لکڑیاں اس طرح گاڑھیں کہ دو ملی ہوئی اور تیسری بہت فاصلہ سے،آج کل اسکولوں میں عملی مشق کرائی جاتی ہے یہ عملی مشق تھی۔
۳؎ مقصد یہ ہے کہ موت انسان سے بہت قریب ہے مگر اس کی ا میدیں بہت دراز۔خیال رہے کہ انسان شخصی ضروریات میں کمی کرے مگر قومی دینی مکمل ضروریات و خدمات بہت زیادہ انجام دے کہ اشخاص مرتے ہیں قوم و دین نہیں مرجاتے۔بزرگوں نے دینی کتب لکھیں جو صدیوں سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچارہی ہیں،حضور انور نے سارا حجاز فتح فرمالیا اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ امت کے لیے دین کے لیے،اب تک ان سے فائدے پہنچ رہے ہیں۔خیال رہے کہ سکندر اعظم اور نپولین اعظم کے مفتوحہ علاقہ دوسری قوموں کے پاس پہنچ گئے،فاروق اعظم کے مفتوحہ علاقے مسلمانوں ہی کے قبضہ میں ہیں قریبًا چودہ سو سال گزر چکے ہیں روم،ایران وغیرہ۔
۴؎ یعنی انسان کی ایک امید پوری ہوئی تو دو سامنے آجاتی ہیں دو پوری ہوں تو چار سامنے آتی ہیں یہ سلسلہ یوں ہی دراز ہوتا چلا جاتاہے کہ موت آلیتی ہے۔شعر
امیدبستہ برآمد ولے چہ فائدہ زانکہ امید نیست کہ عمر گزشتہ باز آید
|
5279 -[12] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُمُرُ أُمَّتِي مِنْ سِتِّينَ سَنَةً إِلَى سَبْعِينَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا میری امت کی عمر ساٹھ ستر سال کے درمیان ہوگی ۱؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ یعنی میری امت کی عمریں عمومًا ساٹھ ستر سال کے درمیان ہوں گی اگرچہ بعض لوگ ساٹھ سال سے پہلے مرجائیں گے بعض ستر سے بڑھ جائیں گے۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر صدیق،عمر فاروق،علی مرتضٰے کی عمر تریسٹھ۶۳ سال ہوئیں اور حضرت حکیم امت کی عمر شریف بھی تریسٹھ۶۳ سال ہوئی کہ آپ کا وصال ۳ رمضان ۱۳۹۳ء ہوا،حضرت عثمان غنی کی عمر بیاسی یا اٹھاسی سال ہوئی اس حدیث کی صحت پر تجربہ شاہد ہے۔
|
5280 -[13] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِتِّينَ إِلَى السَبْعِينَ وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَذُكِرَ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بنِ الشِّخيرِ فِي «بَاب عِيَادَة الْمَرِيض» |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری امت کی عمریں ساٹھ ستر سال کے درمیان ہوں گی کم لوگ اس سے آگے بڑھیں گے ۱؎ (ترمذی،ابن ماجہ)اور حضرت عبداﷲ ابن شخیر کی حدیث باب عیادۃ المریض میں بیان کردی گئی ۲؎ |
۱؎ یعنی بہت کم لوگ ستر سے آگے بڑھیں گے،سو سال سے آگے بڑھنے والے تو بہت ہی کم ہوں گے۔چنانچہ حضرت انس ابن مالک کی عمر ایک سو تین سال ہوئی،جناب اسماء بنت ابوبکر صدیق کی عمر ایک سو سال ہوئی،کسی قوت میں کمی نہ آئی،حسان ابن ثابت کی عمر ایک سو بیس سال ہوئی،حضرت سلمان فارسی کی عمر ساڑھے تین سو سال ہوئی مگر اسلام میں تھوڑا عرصہ رہے، ۵۳ھ میں وفات پائی۔(مرقات)میں نے حضرت سلیمان فارسی کے مزار کی زیارت کی ہے۔بغداد شریف سے تین میل دور مسلمان پاک بستی میں ہے پہلے اسے مدائن کہتے تھے۔
۲؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی ہم نے مناسبت کے لحاظ سے وہاں بیان کردی۔
|
5281 -[14] عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ صَلَاحِ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْيَقِينُ وَالزُّهْدُ وَأَوَّلُ فَسَادِهَا الْبُخْلُ وَالْأَمَلُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت کی پہلی درستی یقین اور زہد ہے ۱؎ اور اس کا پہلا فساد بخل اور دراز امید ہے ۲؎ (بیہقی شعب الایمان) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع