دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۱؎ اس عبارت کے دو معنی ہیں:ایک یہ اعذر کے معنی ہیں عذر دور کردیتا ہے یعنی باب افعال کا ہمزہ سلب کے لیے ہے تب مطلب یہ ہوگا کہ بچپن اور جوانی میں غفلت کا عذر سنا جاسکے گا مگر جو بڑھاپے میں اﷲ تعالٰی کی طرف رجوع نہ کرے اس کا عذر قبول نہ ہوگا کیونکہ بچپن میں جوانی کی امید تھی جوانی میں بڑھاپے کی اب بڑھاپے میں سوا موت کے اور کس چیز کا انتظار ہے،اگر اب بھی عبادت نہ کرے تو سزا کے قابل ہے اس کا کوئی بہانہ قابل سننے کے نہیں۔دوسرے یہ کہ اس اعذر کے معنی ہیں معذور رکھتا ہے یعنی جو بوڑھا آدمی بڑھاپے کی وجہ سے زیادہ عبادت نہ کرسکے مگر جوانی میں بڑی عبادتیں کرتا رہا ہو تو اللہ تعالٰی اسے معذور قرار دے کر اس کے نامہ اعمال میں وہ ہی جوانی کی عبادت لکھتا ہے،ساٹھ سال پورا بڑھاپا ہے۔شعر

رسم است کہ مالکان تحریر                                           آزاد کنند بندۂ  پیر

اے بار خدائے عالم آرا                                                              برسعدی پیر خود بہ بخشا

بوڑھے نوکر کی پنشن ہوجاتی ہے وہ رؤف و رحیم رب بھی اپنے بوڑھے بندوں کی پنشن کردیتا ہے مگر پنشن اس کی ہوتی ہے جو جوانی میں خدمت کرتا رہے۔

5273 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایااگر انسان کے پاس مال کے دو جنگل ہوں تو وہ تیسرا تلاش کرے  ۱؎ انسان کے پیٹ کو مٹی کے سواء کوئی چیز نہیں بھرسکتی ۲؎ اور اﷲ توبہ قبول کرلیتا ہے اس کی جو توبہ کرے ۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہاں دو اور تیسرا حد بندی کے لیے نہیں۔مطلب یہ ہے کہ اگر دو جنگل بھر مال ہو تو تیسرے جنگل کی خواہش کرے اور اگر تین جنگل مال ہو تو چوتھے کی اسی طرح سلسلہ قائم رکھے۔انسان کی ہوس زیادہ مال سے نہیں بجھتی یہ تو فضل ذوالجلال سے بجھتی ہے۔

۲؎  تراب سے مراد قبر کی مٹی ہے یعنی انسان کی ہوس قبر تک رہتی ہے مر کر ہوس ختم ہوتی ہے۔یہ حکم عمومی ہے اللہ تعالٰی کے بندے اس حکم سے علیحدہ ہیں بڑے صابر و شاکر ہیں جیسے حضرات انبیاء کرام اور خالص اولیاء اللہ مگر ایسے قناعت والے بہت کم ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہے اور مٹی کی فطرت خشکی ہے اس کی خشکی صرف بارش سے ہی دور ہوتی ہے،بارش ہونے پر اس میں سبزہ پھل پھول سب کچھ ہوتے ہیں،یوں ہی اگر انسان پر توفیق کی بارش نہ ہو تو انسان محض خشکا ہے، اگر نبوت کے بادل سے توفیق و ہدایت کی بارش ہو تو اس میں ولایت تقویٰ وغیرہ کے پھل پھول لگتے ہیں۔(مرقات)

۳؎ یعنی انسان اگرچہ برائیوں کا مجموعہ ہے لیکن اگر توبہ کرکے رب کی طرف رجوع کرے تو آغوش رحمت اس کے لیے کھلا ہے۔صوفیاء کے نزدیک توبہ ہی توفیق کی بارش ہے۔خیال رہے کہ بارش سے مٹی میں باغ لگتے ہیں پتھروں میں نہیں لگتے،سخت دل آدمی نیک نہیں بن سکتا۔شعر

دربہاراں کے شود سرسبز سنگ                    خاک شو تاگل بروید رنگ رنگ

5274 -[7]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سبيلٍ وعُدَّ نفسَكَ فِي أهل الْقُبُور» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم کا بعض حصہ پکڑا  ۱؎ پھر فرمایا دنیا میں رہو جیسے کہ تم مسافر ہو یا راہ گیر ۲؎ اور اپنے کو قبر والوں سے شمار کرو ۳؎ (بخاری)

۱؎ کندھا مراد ہے،حضور انور نے حضرت ابن عمر کا کندھا پکڑ کر یہ فرمایا۔کندھا پکڑنا قلبی فیض دینے کے لیے تھا قلبی فیض کے بغیر نصیحت اثر نہیں کرتی۔(مرقات)زبان سے قال دیا جاتا ہے نگاہ سے حال عطا کیا جاتا ہے،صرف قال بغیر حال مفید نہیں۔مولانا فرماتے ہیں شعر

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن