30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یوں ہی عمدہ غذا و لباس اور ہے سادہ غذا و لباس کچھ اور،الله دے تو اچھا کھاؤ پہنو مگر سادگی کے ساتھ اور پھر اچھے کھانے پینے کے عادی نہ ہوجاؤ کبھی پلاؤ کھاؤ،کبھی دال،کبھی چٹنی،کبھی پراٹھے اور قورمہ۔
|
5263 -[33] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَضِيَ مِنَ اللَّهِ بِالْيَسِيرِ مِنَ الرِّزْقِ رَضِيَ الله مِنْهُ بِالْقَلِيلِ من الْعَمَل» |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو الله کے تھوڑے رزق پر راضی ہوگا تو الله اس کے تھوڑے پر راضی ہوگا۱؎ (بیہقی) |
۱؎ خیال رہے کہ الله تعالٰی کی رضا دو قسم کی ہے: رضا ء ازلی،دوسری رضاء ابدی۔الله کی رضا ازلی ہماری رضا سے پہلے ہے جب وہ ہم سے راضی ہوتا ہے تو ہم کو نیکیوں کی توفیق ملتی ہے مگر رضا ء ابدی ہماری رضاء کے بعد ہے،جب ہم اﷲ سے راضی ہوجاتے ہیں نیکیاں کرلیتے ہیں تو وہ ہم سے راضی ہوتا ہے۔یہاں رضا ابدی کا ذکرہے اس لیے بندے کی رضا پہلے بیان ہوئی او راس آیت کریمہ میں "رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ"رضا ء ازلی کا ذکر ہے اس لیے وہاں رضاء الٰہی کا پہلے ذکر ہے۔(مرقات)حدیث کا مطلب ظاہر ہے کہ اگر تم معمولی روزی پا کر بہت شکر کرو تو رب تعالٰی تمہارے معمولی اعمال کی بہت قدر فرمائے گا۔
|
5264 -[34] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَاعَ أَوِ احْتَاجَ فَكَتَمَهُ النَّاسُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَرْزُقَهُ رِزْقَ سَنَةٍ مِنْ حلالٍ».رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي«شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو بھوکا یا حاجت مند ہو پھر اسے لوگوں سے چھپائے ۱؎ تو الله تعالٰی کے ذمہ کرم پر یہ ہے کہ اسے ایک سال کی حلال روزی عطا فرمائے گا ۲؎(بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یہاں بھوک سے مراد ہے قابل برداشت بھوک جس سے ہلاکت نہ ہو،اس کا چھپانا اور خود کما کر پیٹ بھرنا بہتر ہے لیکن اگر بھوک سے جان نکل رہی ہے تو اس کا ظاہر کرنا کسی سے کچھ لے کر بقدر ضرورت کھالینا فرض ہے،اگر چھپائے گااور بھوکا مرجائے گا تو حرام موت مرے گا۔(مرقات)لہذا فقہاء کا یہ فتویٰ اس حدیث پاک کے خلاف نہیں حدیث کی سچی فہم ضروری ہے۔
۲؎ یہ فرمان بالکل درست ہے اور مجرب ہے اپنی فقیری چھپانے والے بفضلہ تعالٰی امیر ہوجاتے ہیں کبھی جلد اور کبھی دیر سے مگر فقط چھپانے پر کفایت نہ کرے کمانے کی کوشش کرے،یہ سال بھر کی روزی آسمان سے نہیں برسے گی بلکہ اسباب سے ملے گی۔
|
5265 -[35] وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ الْفَقِيرَ الْمُتَعَفِّفَ أَبَا الْعِيَالِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی بال بچوں والے غریب مسلمان سے بہت محبت فرماتا ہے ۱؎ (ابن ماجہ) |
۱؎ جو مؤمن صاحب عیال کثیر البال(بہت فکر مند)فقیر الحال ہو پھر سوال سے بچے تو وہ صاحب کمال ہے،محبوب رب ذوالجلال ہے کہ کسی سے رب کی شکایت نہیں کرتا راضی بہ رضا رہتا ہے مگر یہ عمل ہے بہت مشکل۔
|
5266 -[36] وَعَن زيدِ بنِ أسلمَ قَالَ: اسْتَسْقَى يَوْمًا عُمَرُ فَجِيءَ بِمَاءٍ قَدْ شيبَ بعسلٍ فَقَالَ: إِنَّه لطيِّبٌ لكني أَسْمَعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَعَى عَلَى قَوْمٍ شَهَوَاتِهِمْ فَقَالَ (أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا)فَأَخَافُ أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا فَلَمْ يشربْه. رَوَاهُ رزين |
روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر نے پانی مانگا توایسا پانی لایا گیا جو شہد سے مخلوط تھا۲؎ فرمایا یہ بہت اچھا ہے مگر میں اﷲ عزوجل کو سن رہا ہوں کہ اس نے لوگوں پر ان کی خواہشات سے عیب لگایا ۳؎ کہ فرمایا کہ تم اپنی پسندیدہ چیز اپنی دنیاوی زندگی میں حاصل کرچکے ان سے نفع لے چکے،میں ڈرتا ہوں ۴؎ کہ ہماری نیکیاں جلدی دے دی گئی ہوں چنانچہ آپ نے وہ نہ پیا ۵؎ (رزین) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع