30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5260 -[30] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ مِنَ الدُّنْيَا ثَلَاثَةٌ الطَّعَامُ وَالنِّسَاءُ وَالطِّيبُ فَأَصَابَ اثْنَيْنِ وَلَمْ يُصِبْ وَاحِدًا أَصَابَ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ وَلَمْ يُصِبِ الطَّعَامَ. رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دنیا کی تین چیزیں پسند تھیں کھانا،بیویاں،خوشبو ۱؎ تو آپ نے دو چیزیں تو پالیں اور ایک نہ پائی بیویاں اور خوشبو پالیں اور کھانا نہ پایا ۲؎(احمد) |
۱؎ ان تین چیزوں سے محبت سنت ہے: اپنی بیوی سے محبت تقویٰ کی اصل ہے،جو شخص اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا وہ بدکار ہوجاتا ہے۔خوشبو کا تعلق روحانیت سے ہے جس قدر روحانیت قوی ہوگی اسی قدر خوشبو بھی پیاری ہوگی،اب بھی دیکھا گیا ہے کہ مقبول بندوں کو خوشبو پیاری ہوتی ہے۔
۲؎ یعنی بیویاں اور خوشبو تو بہت کثرت سے پائیں مگر کھانا کثرت سے نہ پایا،یہاں اصل پانے کی نفی نہیں بلکہ مبالغہ کی نفی ہے۔
|
5261 -[31] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُبِّبَ إِلَيَّ الطِّيبُ وَالنِّسَاءُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ. وَزَادَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ بَعْدَ قَوْلِهِ:«حُبِّبَ إِليَّ»منَ الدُّنْيَا " |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھے تین چیزیں پیاری کی گئیں: خوشبو، بیویاں ۱؎ اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ۲؎(احمد نسائی)اور ابن جوزی نے حبب الی کے بعد من الدنیا زیادہ کیا۔ |
۱؎ حبب فرما کر بتایاکہ یہ محبت ہمارے نفس کی طرف سے نہیں بلکہ الله کی طرف سے ہے،رب تعالٰی نے ان چیزوں کو ہمارا محبوب بنا دیا۔
۲؎ معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو نماز سے رغبت طبعی جبلی تھی،رب تعالٰی ان کے صدقہ سے ہم گنہگاروں کو بھی نصیب کرے،نماز،مسجد سے محبت ایمان کی علامت ہے۔خیال رہے کہ پہلی حدیث میں بیوی،خوشبو،کھانے کو دنیا کی چیزیں قرار دیا گیا تھا یہاں دنیا کا لفظ نہیں کیونکہ نماز دنیا کی چیز نہیں یہ خالص دینی کام ہے۔جن لوگوں نے ان تینوں کو دنیاوی کاموں میں داخل کیا ہے وہ غلط ہے اس کا ثبوت حدیث شریف میں کہیں نہیں۔(اشعۃ اللمعات)بلکہ بیویوں اور خوشبو کو دنیا فرمانا اس لیے ہے کہ ان سے تعلق دنیا میں رہتا ہے۔حضور صلی الله علیہ وسلم کی بیویاں حضور کی خوشبوئیں دین تھیں کہ دین میں مددگار تھیں۔
|
5262 -[32] وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ بِهِ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: «إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ فَإِنَّ عِبَادَ الله لَيْسُوا بالمتنعمين» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو فرمایا کہ تم عیش پسندی سے بچنا ۱؎ الله کے بندے عیش و عشرت میں مشغول نہیں ہوتے ۲؎(احمد) |
۱؎ یعنی تم یمن میں گورنر بن کر جارہے ہو مگر حکام کی سی عیش و آرام کی زندگی اختیار نہ کرنا،سادہ غذا سادہ لباس رکھنا تاکہ نفس موٹا اور تم غافل نہ ہوجاؤ۔سادہ زندگی سے انسان دین و دنیا میں آرام سے رہتا ہے۔افسوس! آج مسلمان یہ سبق بھول گئے۔ہمارے کالجوں میں فیشن پرستی،زیادہ خرچ کرنا سکھایا جاتا ہے،طلباء تعلیم سے فارغ ہو کر خوب فضول خرچ بن کرنکلتے ہیں پھر مہذب ڈاکو شریف بدمعاش بنتے ہیں اور اگر نوکری مل گئی تو رشوتوں سے ملک کو ویران کرتے ہیں،ان کے خرچ اتنے وسیع ہوتے ہیں کہ تنخواہ سے پورا نہیں پڑتا،رشوتوں سے خرچہ پورا کیا جاتا ہے،اگر معمولی خرچ کریں تو یہ نوبت نہ آئے۔
۲؎ یعنی اﷲ کے بندے ہر حال میں خصوصًا امیر یا حاکم بن کر عیش پسند نہیں ہوتے،اگر حکام غافل اور عیش پسند ہوجائیں تو رعایا تباہ ملک برباد ہوگا۔ اﷲ تعالٰی کفار کے متعلق فرماتا ہے:"یَاۡکُلُوۡنَ کَمَا تَاۡکُلُ الْاَنْعٰمُ"۔خیال رہے کہ اچھا کھانا اچھا پینا اور چیز ہے مگر عیش پسندی کچھ اور چیز،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع