30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۲؎ یہاں مالداروں سے مراد ہیں مہاجرین مالدار یعنی فقراء مہاجرین امراء مہاجرین سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے تو دوسرے امیروں سے تو بہت ہی پہلے جائیں گے۔(مرقات)غالبًا یہ لوگ کسی اور جگہ کے مہاجر تھے مکہ معظمہ سے ہجرت فتح مکہ کے بعد ختم ہوچکی تھی اور مہاجرین مکہ فاروقی و عثمانی خلافتوں میں مالا مال ہوچکے تھے یہ لوگ کسی اور کافر ملک کے مہاجر ہوں گے۔و الله اعلم!
۱۳؎ یعنی ہم اب نہ تو آپ سے کچھ مانگیں گے نہ بادشاہ اسلام سے نہ کسی اور سے،ہم اس فرمان عالی پر عمل کرکے اپنے کمائے پر قناعت کریں گے تا قیامت حضور کے فرمان عالی میں اثر ہے ان فرمانوں کے اثر سے ہی آج ایمان،عرفان،شریعت و طریقت کا بقا ہے۔
|
5258 -[28] وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحَلْقَةٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ قُعُودٌ إِذْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ إِلَيْهِمْ فَقُمْتُ إِلَيْهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيُبْشِرْ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ بِمَا يَسُرُّ وُجُوهَهُمْ فَإِنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِينَ عَامًا» قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَلْوَانَهُمْ أَسْفَرَتْ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ أَو مِنْهُم. رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ اس حالت میں کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور مہاجرین فقراء کا ایک حلقہ بیٹھا تھا ۱؎ کہ اچانک رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو حضور ان کی طرف ہی بیٹھے میں بھی انہیں کی طرف اٹھ گیا ۲؎ تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ فقراء مہاجرین اس کی خوشی منائیں جو ان کے چہروں کو کھلا دے ۳؎ کہ وہ جنت میں امیروں سے چالیس سال پہلے جائیں گے،فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے رنگ دیکھے چمک سے کھل گئے تھے ۴؎ عبدالله ابن عمرو فرماتے ہیں کہ حتی کہ میں نے آرزو کی کہ میں ان کے ساتھ یا ان میں سے ہوجاؤں ۵؎ (دارمی) |
۱؎ یعنی فقراء مہاجرین حلقہ بنائے بیٹھے تھے ۔خیال رہے کہ مسجد میں نماز کے انتظار میں صفیں بنا کر بیٹھنا چاہیے اسی صورت میں حلقے بنانا ممنوع ہے مگر ذکر یا تلاوت قرآن کے لیے حلقے بنا کر بیٹھنا چاہیے۔نمازی لوگ مقربین فرشتوں کی مثل ہوتے ہیں، مقرب فرشتے صف بسۃ الله کی عبادت کرتے ہیں اور ذاکرین لوگ جنتی لوگوں کے مشابہ ہیں جنتی لوگ حلقے بنا کر بیٹھا کریں گے، رب تعالٰی فرماتاہے:"اِخْوٰنًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ"یہ حضرات اس وقت ذکر یا علمی باتیں کررہے تھے۔قعود جمع ہے قاعد کی جیسے رقود جمع راقد کی یا وقود جمع واقد کی۔
۲؎ میں تومسجد کے اور کنارہ پر تھا وہ حضرات دوسرے کنارے پر،حضور انور صلی الله علیہ وسلم میرے پاس تشریف نہ لائے ان کے پاس بیٹھے تو میں بھی وہاں ہی پہنچ گیا۔
۳؎ یعنی ابھی تمہارے چہرے مرجھائے ہوئے ہیں ہم تمہیں وہ خوشی کی خبر سناتے ہیں جس سے تمہارے چہرے خوشی سے کھل جاویں۔شعر
اس کی باتوں کی لذت پر دائم درود اس کے خطبہ کی ہیبت پہ لاکھوں سلام
۴؎ اسفرت بنا ہے اسفرار سے بمعنی چمکنا،رب تعالٰی فرماتاہے:" وُجُوۡہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ"۔
۵؎ یعنی ہمیشہ ان فقراء میں سے ہی رہوں کبھی امیر نہ بنوں،اس فرمان عالی کی شرح پہلے کی جاچکی ہے۔
|
5259 -[29] وَعَن أبي ذرٍّ قَالَ:أَمَرَنِي خَلِيلِي بِسَبْعٍ:أَمَرَنِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوَقِي وَأَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا] وَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا وَأَمَرَنِي أنْ لَا أخافَ فِي اللَّهِ لومة لَا ئم وَأَمَرَنِي أَنْ أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ:لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهُنَّ مِنْ كَنْزٍ تَحت الْعَرْش. رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت ابی ذر سے فرمایا مجھے میرے محبوب نے ۱؎ سات چیزوں کا حکم دیا ۲؎ مجھے مسکینوں سے محبت اور ۳؎ ان سے قرب کا حکم دیا ہے اور مجھے حکم دیا کہ اپنے سے ادنی کو دیکھو اور اپنے سے اوپر کو نہ دیکھو ۴؎ اور مجھے حکم دیا کہ رشتوں کو جوڑوں اگرچہ وہ رشتہ دور کا ہو ۵؎ اور مجھے حکم دیا کہ کسی سے کچھ نہ مانگوں ۶؎ اور مجھے حکم دیا کہ حق بات کہوں اگرچہ کڑوی ہو ۷؎ اور مجھے حکم دیا کہ الله کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو ں ۸؎ اور مجھے حکم دیاکہ یہ زیادہ کہا کروں نہیں ہے طاقت اور نہ قوت مگر الله سے کیونکہ یہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے ۹؎ (احمد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع