30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی شکر اور صبر دونوں کا ایک شخص میں بیک وقت جمع ہونا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ شکر تو نعمت ملنے پر ہوتا ہے اور صبر نعمت نہ ملنے یا چھن جانے پر ملتا ہے مگر جو ان دو چیزوں پر عمل کرے گا وہ بیک و قت صابر بھی ہوگا اور شاکر بھی،یہ ہے گویا اجتماع ضدین۔
۲؎ یعنی اگر تم اچھے کام کرتے ہو تو ان پر فخر نہ کرو بلکہ ان حضرات کو دیکھو جو تم سے زیادہ نیکیاں کرتے ہیں خواہ وہ زندہ ہوں یا وفات یافتہ۔لہذا ہر مسلمان حضرات صحابہ و اہلِ بیت کے اعمال میں غور کرےکہ انہوں نے کیسی نیکیاں کیں تاکہ اس میں غرور نہ پیدا ہو اور زیادہ نیکیوں کی کوشش کرے،اس کی وجہ سے رب تعالٰی اسے صابر لکھے گا کہ جب یہ شخص ان بزرگوں کے سے کام نہ کرسکے گا تو افسوس کرے گا یہ اس کا صبر ہوگا۔ہم حضرات صحابہ کو دیکھ کر افسوس کریں کہ اس وقت ہم نہ ہوئے،ہم بھی حضور کے جمال سے آنکھیں ٹھنڈی کرتے،انکے قدموں پر جان فدا کرتے یہ ہے صبر۔ شعر
جوہم بھی واں ہوتےخاک گلشن لپٹ کےقدموں سےلیتےاترن مگر کریں کیا نصیب میں تو نامرادی کے دن لکھے تھے
۳؎ اس چیز کے سوچنے سے اس پر بڑی سے بڑی مصیبت آسان ہوجاوے گی اور وہ رب تعالٰی کا شکر ہی کرے گا۔ہم نے آزمایا ہے کہ کسی کا جوان بیٹا فوت ہوجائے اسے صبر نہ آوے وہ حضرت علی اکبر کی شہادت میں غور کرے ان شاءالله فورًا صبر نصیب ہوگا بلکہ اپنے آرام پر شکر کرے گا۔
۴؎ بلکہ ایسے شخص کی زندگی حسدجلن،بے صبری اور دل کی کوفت میں گزرے گی،امیروں کو دیکھ کر جلتا بھنتا رہے گا کہ ہائے میرے پاس مال کم ہے اوراپنی عبادت پر فخر کرے گا کہ فلاں بے نماز ہے اور میں نمازی ہوں میں اس سے کہیں اچھا ہوں،یہ ہے اس کا تکبر،رب تعالٰی فرماتاہے:"لِّکَیۡلَا تَاۡسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَ لَا تَفْرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىکُمْ"۔فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو شخص دنیا کی کمی پر رنج کرے وہ ایک ہزار سال کی راہ دوزخ سے قریب ہوجاوے گا اور جو شخص دینی کوتاہی پر رنج کرے گا وہ جنت سے ایک ہزار سال کی راہ قریب ہوجاوے گا۔(مرقات یہ ہی مقام)خیال رہے کہ دین میں ترقی کرنے کی کوشش کرنا منع نہیں بلکہ مالداروں کی مالداری پر رشک کرنا ممنوع ہے۔
۵؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں مذکور تھی ہم نے وہاں بیان کر دی کہ وہ وہاں کے زیادہ مناسب تھی۔
|
5257 -[27] عَن أبي عبد الرَّحْمَن الحُبُليِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَسَأَلَهُ رَجُلٌ قَالَ: أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَلَكَ مَسْكَنٌ تَسْكُنُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ. قَالَ: فَإِنَّ لِي خَادِمًا. قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْمُلُوكِ. قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا عِنْدَهُ. فَقَالُوا: يَا أَبَا مُحَمَّد إناوالله مَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ لَا نَفَقَةَ وَلَا دَابَّةَ وَلَا مَتَاعَ. فَقَالَ لَهُمْ: مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا فَأَعْطَيْنَاكُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا» . قَالُوا: فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَيْئا ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوعبدالرحمن حبلی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے حضرت عبدالله ابن عمرو کو سنا ان سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہم فقراء مہاجرین سے ۲؎ نہیں ہیں تو اس سے عبدالله نے فرمایا کہ کیا تیری بیوی ہے جس کی طرف تو رجوع کرے وہ بولا ہاں،فرمایا کیا تیرے پاس گھر ہے جس میں تو رہے بولا ہاں، فرمایا تب تو تو امیروں میں سے ہے ۳؎ وہ بولا کہ میرے پاس غلام بھی ہے فرمایا تو تو بادشاہوں سے ہے ۴؎ عبدالرحمن کہتے ہیں ۵؎ کہ تین شخص حضرت عبدالله ابن عمرو کے پاس آئے میں انکے پاس تھا ۶؎ انہوں نے عرض کیا اے ابو محمد اﷲ کی قسم ہم کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے نہ خرچہ پر نہ گھوڑے پر نہ اور سامان پر ۷؎ تو آپ نے ان سے فرمایا تم جو چاہو ۸؎ اگر چاہو تو ہمارے پاس پھر آنا ہم تم کو وہ دیں گے جو اﷲ نے تمہارے لیے میسر فرمایا ۹؎ اگر چاہو تو ہم تمہاری حالت کا ذکر بادشاہ سے کریں ۱۰؎ اگر چاہو صبرکرو ۱۱؎ کیونکہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن مہاجر فقراء جنت میں امیروں سے چالیس سال پہلے پہنچیں گے ۱۲؎ تو وہ بولے کہ ہم صبرکریں گے کچھ نہ مانگیں گے ۱۳؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع