30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5254 -[24] وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ فَرَفَعْنَا عَنْ بُطُونِنَا عَنْ حَجَرٍ حَجَرٍ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَطْنِهِ عَن حجرين. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت ابوطلحہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی تو ہم نے اپنی پیٹ سے ایک ایک پتھر اٹھایا ۱؎ تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے پیٹ سے دو پتھر دکھائے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ یہ واقعہ غزوہ خندق کا نہیں کیونکہ اس غزوہ میں تو حضرت ابوطلحہ کے گھر تمام خندق کھودنے والے بلکہ تمام اہل مدینہ کی دعوت حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے کی ہے کہ چار سو جو کی روٹیوں سے سارے اہل مدینہ کو شکم سیر فرمادیا یہ کسی اور غزوہ کا واقعہ ہے۔
۲؎ یعنی تمام صحابہ کو ایک ایک دن کا فاقہ تھا حضور صلی الله علیہ وسلم کو دو دن یا زیادہ کے لگاتار فاقے تھے۔بہت روز تک نہ کھانے سے انسان میں کھڑے ہونے کی قوت نہیں رہتی پیٹ پر پتھر باندھنے سے کھڑا ہونا ممکن ہوجاتا ہے اسے ہم لوگوں نے نہیں آزمایا یہ کام تو حضور صلی الله علیہ وسلم ہی کر گئے ہم کو ایسی نعمتیں کھلاتے ہیں کہ سبحان الله!
|
5255 -[25] وَعَن أبي هُرَيْرَة أَنَّهُ أَصَابَهُمْ جُوعٌ فَأَعْطَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً تَمْرَةً. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ انہیں بھوک نے گھیر لیا ۱؎ تو انہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک ایک چھوہارا دیا ۲؎(ترمذی) |
۱؎ یہ واقعہ غزوہ تبوک کا ہے یا کسی اور غزوہ کا جس میں سفر بہت دراز تھا۔والله ورسولہ اعلم!
۲؎ کہ چوبیس گھنٹے میں ایک چھوہارا کھا کر گزارہ کریں یہ غذا اور دراز سفر پھر اس پر جہاد وہ حضرات قوت قدسیہ سے ہی جہاد کرتے ہوں گے انسانی طاقت سے یہ بات باہر ہے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم ان صفہ والوں کو کبھی ایک ایک کھجور ہی عطا فرماتے تھے اور یہ حضرات اسی پر دن رات نکال لیتے تھے اور علم سیکھنے میں مشغول رہتے تھے۔
|
5256 -[26] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شاكراً: مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَاقْتَدَى بِهِ وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا. وَمَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَأَسِفَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنْهُ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا ".رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ: «أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ» فِي بَابٍ بَعْدَ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جس میں دو عادتیں ہوں اسے الله شاکر صابر لکھتا ہے ۱؎ جو اپنے دین میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھے تو اس کی پیروی کرے ۲؎ اور اپنی دنیا میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھے تو الله کا شکر کرے اس پر کہ الله نے اسے اس شخص پر بزرگی دی ۳؎ تو الله اسے شاکر صابر لکھے گا اور جو اپنے دین میں اپنے سے کم کو دیکھے اور اپنی دنیا میں اپنے سے اوپر کو دیکھے تو فوت شدہ دنیا پر غم کرے الله تعالٰی اسے نہ شاکر لکھے نہ صابر ۴؎ (ترمذی)ابوسعید خدری کی حدیث کہ اے فقراء مہاجرین خوش ہوجاؤ اس باب میں ذکر ہوچکی جو فضائل قرآن کے بعد ہے ۵؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع