30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ نعمت سے مراد دنیاوی نعمت ہے جیسے اولاد،مال ظاہری،دنیاوی عزت حکومت وغیرہ یعنی اگر کسی بدکار سیاہ کار کو یہ نعمتیں مل جاویں تو تم اس پر رشک نہ کرو،نہ یہ خیال کرو کہ الله تعالٰی اس سے راضی و خوشی ہے۔
۲؎ یعنی اس کے لیے یہ نعمتیں بعد موت مصیبت بن جائیں گی جن سے اس کے عذاب میں اور زیادتی ہوگی لہذا یہ نعمت راحت کی شکل میں عذاب ہے۔
۳؎ یعنی ان نعمتوں کا انجام اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے اگر یہ غریب ہوتا تو شاید توبہ کرلتیا راحت و امیری میں توبہ سے محروم رہا لہذا دوزخ میں گیا یا اگر یہ غریب ہوتا تو گناہ کم کرتا۔دولت پاکر گناہ زیادہ کیے دوزخ کے سخت تر طبقے میں گیا،دولت سے دروازے کھل جاتے ہیں مؤمن کے لیے نیکیوں کے کافروں کے لیے گناہوں کے ۔قاتل سے مراد ایذاء وہ چیز ہے،لایموت سے مراد ہے غیر فانی،دوزخ کی آگ کو فنا نہیں ۔
|
5249 -[19] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَسَنَتُهُ وَإِذَا فَارَقَ الدُّنْيَا فَارَقَ السجنَ والسنةَ» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دنیا مؤمن کا جیل خانہ اور اس کی قحط سالی ہے ۱؎ جب مؤمن دنیا چھوڑ تا ہے تو جیل اور قحط سے نکل جاتا ہے ۲؎(شرح سنہ) |
۱؎ جیسے جیل خانہ میں قیدی کا دل نہیں لگتا اگرچہ وہاں کتنا ہی آرام ہو خواہ اے کلاس کی جیل ہو یا سی کلاس کی،اسی طرح مؤمن دنیا میں دل نہیں لگاتا اگرچہ اسے بڑا ہی آرام ہو لہذا حدیث سے یہ لازم نہیں کہ مسلمان کو دنیا میں تکلیف ہی ہے تکلیف اور چیز ہے دل نہ لگنا کچھ اور چیز،جیسے قحط سالی میں انسانوں کو ذلت قلت تکلیف ہوتی ہے ایسے ہی مسلمان کو دنیا میں کوئی نہ کوئی تکلیف رہتی ہی ہے یہ آزمودہ چیز ہے بلکہ تکالیف ناکامیاں ہی انسان کو انسان بنا کر رکھتی ہیں،عیش میں غفلت ہوتی ہے تکلیف میں بیداری۔
۲؎ خیال رہے کہ مؤمن کو آخرت میں اس قدر آرام و راحتیں ہیں کہ ان کے مقابل دنیا کی بادشاہت بھی جیل ہے اور کافر کو آخرت میں ایسی مصیبتیں ہوں گی کہ ان کے مقابل دنیا کی سخت سے سخت تکلیف بھی گویا جنت ہوگی،مؤمن مر کر دنیاوی جنجال سے چھوٹتا ہے کافر مر کر جنجال میں پھنستا ہے، موت ایک ریل ہے جو مؤمن کو عیش خانہ اور کافر کو جیل خانہ تک پہنچاتی ہے جیسے ایک ہی ریل میں کسی کی برات جارہی ہے کسی کو پھانسی کے لیے لے جایا جارہا ہے۔
|
5250 -[20] وَعَن قَتَادَة بن النُّعْمَان أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذا أحب الله عبداحماه الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت قتادہ ابن نعمان سے ۱؎ کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اﷲ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو دنیا سے بچالیتا ہے ۲؎ جیسے تم میں سے کوئی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے۳؎(احمد،ترمذی) |
۱؎ آپ بدری صحابی ہیں،حضرت ابو سعید خدری کے ماں شریکے بھائی انصاری ہیں،بیعت عقبہ اور غزوات میں شریک رہے ،پینسٹھ سال عمر پائی، ۲۳ھ تئیس میں وفات پائی ،آپ افضل صحابہ میں سے ہیں۔(مرقات)
۲؎ اس طرح کہ اس کے دل کو دنیا کی محبت اور غفلت سے محفوظ رکھتا ہے اگرچہ لاکھوں روپیہ کا مالک ہو مگر دل یار سے لگا رہتا ہے، یہ مطلب نہیں کہ اسے کبھی ا میر نہیں کرتا،حضرت سلیمان علیہ السلام اور عثمان غنی بڑے مالدار تھے مگر دنیا کی محبت سے محفوظ تھے وہ دنیا میں تھے دنیا ان میں نہ تھی۔
۳؎ یہاں بیمار سے استسقاء کی بیماری والا مراد ہے اسے پانی سے بچایا جاتا ہے،اس کے پیٹ میں پانی نہیں پہنچنے دیا جاتا،یوں ہی الله تعالٰی مؤمن کے دل میں دنیا کی محبت نہیں پہنچنے دیتا،مؤمن کا دل تو صرف تجلی گاہ رب العالمین ہے۔
|
5251 -[21] وَعَن مَحْمُود بن لبيد أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ: يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَةِ وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ وَقلة المَال أقل لِلْحسابِ ". رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت محمود ابن لبید سے ۱؎ کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو چیزیں ہیں جنہیں انسان ناپسند کرتا ہے،وہ موت کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ موت مؤمن کے لیے فتنے سے بہتر ہے ۲؎ اور مال کی کمی کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ مال کی کمی حساب کو کم کردے گی ۳؎(احمد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع