30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقدمہ ص۱۳ میں شاہ عبدالعزیز صاحب کے حالات میں یہ واقعہ بالتفصیل مذکور ہے۔عبارت یہ ہے نامش پر سید ندگفت ابوہریرہ کہ نعت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم فرمودہ بودند امروز ختم قرآن عبدالعزیز است ماخواہیم رفت و مراد رجاء دیگر بکارے فرستادہ بودند ازیں جہت تاخیر واقع شد ایں گفت و غائب شد۔فتاویٰ عزیزیہ ص ۱۳ عرس بزرگاں،میلاد شریف کی مجلسوں،بزرگان دین کی زیارات میں شرکت کرنے کا مقصد یہ ہی ہوتا ہے کہ شاید یہاں حضور صلی الله علیہ وسلم کی قدم بوسی نصیب ہوجائے۔
گدا بن کر میں ڈھونڈوں تم کو گھر گھر مرے آقا مجھے چھوڑا ہے کس پر
آخرت میں حضور کے ملنے کے تین مقام ہیں: لب کوثر،میزان،صراط۔دنیا میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ملنے کی جگہ بزرگوں کی مجلسیں ہیں ان سے دوری الله رسول سے دوری ہے۔مولانا فرماتے ہیں شعر
چوں شدی دوراز حضور اولیاء ایں چنیں واں دور گشتی از خدا
۲؎ کیونکہ ضعفاء میں قطب اور اوتاد ولی ہوتے ہیں،قطبوں اوتادوں سے دنیا کا نظام قائم ہے اگر یہ رہیں تو دنیا رہے جیسے خیمہ چوب اور طناب میخوں سے قائم ہے اگر یہ نہ رہیں تو خیمہ گرجائے آسمان کا خیمہ ان بزرگوں سے قائم ہے۔(مرقات)
|
5247 -[17] وَعَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بن أسيد عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَسْتَفْتِحُ بِصَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة» |
روایت ہے امیہ ابن خالد ابن عبدالله ۱؎ ابن اسید سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ حضور انور فقراء مہاجرین کے توسل سے فتح مانگتے تھے ۲؎(شرح سنہ)۳؎ |
۱؎ بعض محدثین نے امیہ بن خالد کو صحابی کہا ہے مگر حق یہ ہے آپ تابعی ہیں،ثقہ ہیں،مکی ہیں یا مدنی، ۸۰ھ کے بعد وفات پائی۔
۲؎ چنانچہ حضور انور جہاد میں یوں دعا فرماتے تھے اللھم انصرنا علی الاعداء بحق عبادك الفقراء المھاجرین۔ اگرچہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم خود سب کے وسیلہ عظمٰی ہیں مگر آپ کا ان کے وسیلہ سے دعا فرمانا یہ بتانے کے لیے ہے کہ مقبول بندوں کے وسیلہ سے دعاء کرنا سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہے اور افضل بندے اپنے نیک خدام کے وسیلہ سے دعا کیا کریں،صرف نیک اعمال کے وسیلہ پر قناعت نہ کیا کریں۔وسیلہ کی بحث ہماری کتاب" رحمت خدا بوسیلہ اولیاء" میں ملاحظہ کرو۔
۳؎ اس حدیث کو بہت طرح قوت حاصل ہے،رب فرماتا ہے :"لَوْ تَزَیَّلُوۡا لَعَذَّبْنَا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا"اگر مکہ سے یہ فقراء مؤمنین نکل جاتے تو ہم کفار کو عذاب دے دیتے ۔معلوم ہوا کہ کفار کا عذاب سے بچا رہنا فقراء مؤمنین کی برکت سے ہے۔ ابن ابی شیبہ طبرانی نے امیہ ابن عبدالله سے روایت کی کان صلی الله علیہ وسلم بصعالك المسلمین۔امیہ ابن خالد صاحب مشکوۃ کے نزدیک صحابی ہیں اور اگر تابعی بھی ہوں تو نہایت ثقہ ہیں،ایسے ثقہ کی مرسل حدیث بلادغدغہ قبول ہے۔ (مرقات)یہ آیت و احادیث وسیلۂ اولیاء کے لیے اعلٰی درجہ کی دلیل ہے۔
|
5248 -[18] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَغْبِطَنَّ فَاجِرًا بِنِعْمَةٍ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا هُوَ لَاقٍ بَعْدَ مَوْتِهِ إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ قَاتِلًا لَا يَمُوتُ» . يَعْنِي النَّارَ. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم کسی بدعمل پر کسی نعمت کی وجہ سے رشک نہ کرو ۱؎ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ وہ مرے بعد کس چیز سے ملے گا ۲؎ اس کے لیے الله کے نزدیک نہ مرنے والا جان لیوا ہے یعنی آگ ۳؎(شرح سنہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع