30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دونوں کی ہے پرواز اسی ایک فضا میں کرگس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور
|
5241 -[11] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ سَبْعِينَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ رِدَاءٌ إِمَّا إِزَارٌ وَإِمَّا كِسَاءٌ قَدْ رُبِطُوا فِي أَعْنَاقِهِمْ فَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ نِصْفَ السَّاقَيْنِ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الْكَعْبَيْنِ فَيَجْمَعُهُ بِيَدِهِ كَرَاهِيَةَ أَن ترى عَوْرَته".رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے ستر صفہ والے صحابہ کو دیکھا کہ ان میں سے کسی پر چادر نہ تھی ۱؎ یا صرف تہبند تھا یا کمبل جسے وہ اپنی گردنوں میں باندھے تھے ۲؎ جن میں سے بعض وہ تھیں جو آدھی پنڈلی تک پہنچتی تھیں، بعض وہ جو ٹخنوں تک پہنچتی تھیں وہ اسے اپنے ہاتھ سے سمیٹے رہتا اس خوف سے کہ اس کا ۳؎ ستر دیکھ لیا جاوے۔ (بخاری) |
۱؎ صفہ کہتے ہیں چبوترے کو(تھڑہ)مسجد نبوی شریف سے متصل طلباء کے لیے ایک چبوترہ مقرر کیا گیا تھا جہاں یہ علم سیکھنے والے حضرات رہتے تھے انہیں اصحاب صفہ کہتے تھے،ان کی تعداد کل چار سو ہے،ان کے منتظم حضرت ابوہریرہ تھے یہ خود بھی انہیں میں سے تھے ،ان حضرات نے اپنے کو دین کے لیے وقف کردیا تھا،مدینہ پاک میں رہتے تو علم سیکھتے تھے ورنہ جہاد میں جاتے تھے ،اہل مدینہ ان کو اپنے صدقات و خیرات دیتے تھے۔آج کل بھی دینی مدارس میں یہی ہوتا ہے آج کل کے دینی مدارس کے لیے یہ حدیث اصل ہے۔(مرقات)
۲؎ یعنی قمیص تو کسی کے پاس تھی ہی نہیں صرف تہبند تھا وہ بھی اتنا چھوٹا کہ یہ حضرات اس ایک کپڑے میں پورا جسم ڈھانپنے کی کوشش کرتے تھے۔
۳؎ یعنی یہ لوگ سجدہ و رکوع یا اٹھتے بیٹھتے اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیتے تھے کیونکہ ان کپڑوں کی چوڑائی بہت کم تھی اگر ہاتھ سے نہ پکڑتے تو کھل جاتا ان ہاتھوں میں اسلام پروان چڑھا ہے ۔وہ لوگ ناشکرے ہیں کہ بہت نعمتوں کے مالک ہیں پھر اپنے کو غریب ہی کہتے ہیں۔
|
5242 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ» مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى من هُوَ قوقكم فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُم» |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اسے دیکھے جسے اس پر مال و اعضاء میں بڑائی دی گئی ہے تو اسے بھی دیکھ لے جو اس سے نیچے ہے ۱؎ (مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے فرمایا تم اپنے سے نیچے کو دیکھو اپنے سے اوپر کو نہ دیکھو یہ عمل اس کا باعث ہے کہ تم الله کی نعمت کی ناقدری نہ کرو ۲؎ |
۱؎ یعنی اگر تم کبھی ایسے شخص کو جو صحت یا دولت میں تم سے زیادہ ہو اور تم کو اس پر رنج ہو تو فورًا ایسے کو بھی دیکھو جو صحت دولت میں تم سے کم ہے اور خدا کا شکر کرو ۔حضرت سعدی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میرے پاس جوتا نہ تھا میں لوگوں کو جوتا پہنے دیکھ کر رو رہا تھا،اچانک میں نے اسے دیکھا جس کے پاس پاؤں نہ تھے وہ چوتڑوں سے گھسٹ رہا تھا میں سجدہ میں گر کے شکر کرنے لگا،یہ ہے اس حدیث پر عمل اس سے دل کو بہت تسکین ہوتی ہے۔
۲؎ دنیاوی چیزوں میں اپنے سے نیچے کو دیکھو تاکہ تم شکر کرو اور دین کی چیزوں میں اپنے سے اوپر کو دیکھو تاکہ تم اپنی عبادات پر تکبر نہ کرو،اگر تم پنجگانہ نماز پڑھتے ہو تو انہیں دیکھو جو تہجد اور اشراق بھی پڑھتے ہیں۔
|
5243 -[13] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِخَمْسِمِائَةِ عَامٍ نِصْفِ يَوْمٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جنت میں فقیر لوگ امیروں سے پانچ سو سال ۱؎ یعنی آدھے دن پہلے جائیں گے ۲؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع