دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5236 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ: «مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟» فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ: هَذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ. قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مر على رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لَا ينْكح. وإِن شفع أَن لَا يُشفَع. وإِن قَالَ أَنْ لَا يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر گزرا تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا جو حضور کے پاس بیٹھا تھا کہ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ۱؎ وہ بولا یہ شخص شریف لوگوں میں سے ہے ۲؎ اﷲ کی قسم اس لائق ہے کہ اگر پیغام دے تو نکاح کردیا جاوے اور اگر سفار ش کرے تو قبول کرلی جاوے۳؎  راوی کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم خاموش رہے ۴؎ پھر دوسرا آدمی گزرا تو اس سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟۵؎ وہ بولا یارسول الله  یہ فقیروں مسلمانوں میں سے ہے،اس لائق ہے کہ اگر پیغام دے تو اس کا نکاح نہ کیا جاوے اور اگر سفارش کرے تو سفارش قبول نہ کی جاوے  اور اگر بات کرے تو سنی نہ جاوے ۶؎ تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس جیسے زمین بھر کے آدمی سے بہتر ہے ۷؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہ گزرنے والا بھی امیر تھا اور جس سے یہ سوال ہوا وہ بھی امیر ہی تھا یا امیر پرست دنیا دار ۔غالب یہ ہے کہ دونوں کافر یا منافق تھے ورنہ ایک صحابی سارے جہان کے غیر صحابی مسلمانوں سے افضل ہیں،تمام اولیاء اﷲ ایک صحابی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے۔

۲؎  شریف سے مراد مالدار ہے دنیا والے لوگ مال کو شرافت سمجھتے ہیں اور مالدار کو شریف جانتے ہیں خواہ وہ کیسا ہی بدتر ہو۔

۳؎  یعنی یہ شخص اپنی امیری کی وجہ سے لوگوں کی نگاہ میں عزت والا ہے کوئی اس کی بات ٹالے گا نہیں اگر رشتہ مانگے تو مل جائے گا،اگر کسی کی سفارش کرے گا تو قبول کرلی جائے گی،عوام اہل عرب اس کا بڑا احترام کرتے ہیں۔یہاں عوام کا ذکر ہے نہ کہ حضرات صحابہ کا،حضرات صحابہ کرام کے ہاں تقویٰ و پرہیزگاری سے عزت تھی ،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ

۴؎ حضور انور کی یہ خاموشی ناراضی کی تھی جیسا کہ کلام کی روشنی سے معلوم ہورہا ہے۔

۵؎ یہ گزرنے والے کوئی مسکین فقیر صحابی تھے جیسے حضرت بلال،صہیب،عمار بن یاسر وغیرہم رضی الله تعالٰی عنہم۔

۶؎ کیونکہ یہ شخص غریب و مسکین ہے غریب و مسکین کی بات دنیا دار نہیں سنتے۔نہ سننے سے مراد یہ ہی ہے کہ دنیا دار اس کی بات نہ سنیں اس کی فقیری کی وجہ سے ورنہ حضرات صحابہ کی بات تو الله تعالٰی اور اس کے رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور قیامت تک کے سارے مسلمان سنتے ہیں،ان کی بتائی ہوئی باتوں پر ایمان کی بنیاد ہے،اسلام و قرآن سب ان ہی حضرات سے پھیلا۔

۷؎ یعنی جس کی تو نے تعریف کی اگر ایسے آدمیوں سے روئے زمین بھر جاوے تو ان سب سے یہ آخری اکیلا آدمی افضل و اعلٰی و اشرف ہے کہ یہ مؤمن  متقی صحابی ہے۔اس فرمان عالی سے معلوم ہورہا ہے کہ وہ پہلا آدمی کوئی امیر کافر تھا یا منافق تھا مؤمن  صحابی نہ تھا۔

5237 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا شَبِعَ آل مُحَمَّد من خبر الشَّعِيرِ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضور کی آل مسلسل دو دن جوکی روٹی سے سیر نہ ہوئے  ۱؎ حتی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۲؎(مسلم،بخا ری)

۱؎ بلکہ ایک دن  روٹی  ایک دن صرف کھجوریں،پانی یا فاقہ ہوتا تھا،حضور کا یہ فقر وفاقہ اختیاری تھا اگر چاہتے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے پاس سونے کے پہاڑ ہوتے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے اس فقر و فاقہ کو اختیار فرمانے میں تا قیامت فقراء کو تسلی دینا مقصود تھی۔

۲؎  خیال رہے کہ فتح خیبر کے بعد حضور انور ہر زوجہ پاک کو ایک سال کی کھجوریں عطا فرمادیتے تھے کیونکہ خیبر میں باغات کثرت سے ہیں وہاں سے حضور کے حصے کی کھجوریں بہت  آتی تھیں۔یہاں مسلسل دو دن تک روٹی سے سیر ہونے کی نفی ہے لہذا یہ حدیث اس واقعہ کے خلاف نہیں کہ وہاں کھجوروں کی عطا ثابت ہے،نیز حضور کے گھر والے ایک دن خود کھاتے تھے دوسرے دن کا کھانا فقراء مسکین کو دیتے تھے۔بہرحال یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں حضور انور پر آخری زمانہ میں دولت کی بارش ہوگئی تھی مگر سب لوگوں پر تقسیم فرمادیتے تھے ان فتوحات سے پہلے طریقہ مبارکہ یہ تھا۔شعر

اور کبھی تھوڑی کھجوریں کھانا پانی پی کر پھر رہ جانا                           دو  دو مہینے  یوں  ہی  گزارا صلی الله علیہ وسلم

5238 -[8]

وَعَن سعيد المَقْبُري عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَدَعَوْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ وَقَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت سعید مقبری سے  ۱؎ وہ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے راوی کہ وہ ایک قوم پر گزرے جن کے سامنے بھنی بکری تھی انہوں نے آپ کو بلایا تو آپ نے کھانے سے انکار کردیا ۲؎  اور فرمایا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے حالانکہ جو کی روٹی سے سیر نہ ہوئے ۳؎ (بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن