30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5234 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ. وَ اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ». |
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں نے جنت میں جھانکا ۱؎ تو وہاں کے عام باشندے فقیر لوگ دیکھے ۲؎ اور میں نے دوزخ میں جھانکا تو وہاں کے اکثر باشندے عورتیں دیکھیں ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ واقعہ جسمانی معراج کا نہیں کہ اس شب تو حضور انور جنت میں تشریف لے گئے تھے وہاں کی سیر فرمائی تھی یہ خواب کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔
۲؎ کیونکہ حضرات انبیاء کرام کی اطاعت کرنے والے اکثر فقراء ہی رہے،آج بھی دیکھ لو کہ علماء حفاظ وقت پڑنے پر غازی شہیداکثر غریب لوگ ہی ہوتے ہیں،اب بھی مسجدیں،دینی مدرسے غریبوں کے دم سے آباد ہیں،امیروں کے لیے کالج،سینما،کھیل تماشے ہیں فرمان پاک بالکل درست ہے۔
۳؎ اس کی وجہ ابھی بیان کردی گئی کہ عورتیں ناشکری بے صبری زیادہ ہیں عورت بگڑ کر سارے گھر کو بگاڑ دیتی ہے اور سنبھل کر سارے گھر کو سنبھال لیتی ہے،بچہ کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے۔جنت دوزخ کا یہ داخلہ بعد قیامت ہوگا مگر حضور کی نگاہ شریف نے اسے ملاحظہ فرمالیا ۔ہمارے خواب و خیال سے بھی زیادہ تیز حضور کی نگاہ شریف ہے،ہم خواب و خیال سے اگلی آئندہ چیزیں دیکھ لیتے ہیں ۔
|
5235 -[5] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ فقراء مہاجرین ۱؎ قیامت کے دن مالداروں سے چالیس۴۰ سال پہلے جنت میں جائیں گے ۲؎(مسلم) |
۱؎ چونکہ سارے مہاجرین فقراء بغیر حساب و عذاب جنتی ہیں اس لیے یہاں مہاجرین کی قید ارشاد ہوئی۔یہاں مہاجرین سے مراد صحابہ مہاجرین ہیں، رہے دوسرے فقراء تا قیامت ان میں کوئی دوزخی ہے کوئی جنتی اور جنتی بھی بعض اول سے جنت میں جاویں گے بعض سزا پا کر جیسے مجرم و گنہگار فقیر۔
۲؎ اگر مالداروں سے مراد مالدار صحابہ ہیں تو اس کا مطلب ابھی بیان کردیا گیا کہ جن مالداروں کا حساب ہوگا ان سے پہلے فقراء جائیں گے،جنکا حساب نہیں وہ اس میں داخل نہیں اور عام مالدار مراد ہیں تو حدیث بالکل واضح ہے۔خیال رہے کہ یہ فقراء بعض امیروں سے چالیس سال پہلے اور بعض امیروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے لہذا یہ حدیث پانچ سو برس والی حدیث کے خلاف نہیں۔خریف موسم خزاں کو کہتے ہیں جیسے ربیع موسم بہار کو کہا جاتا ہے۔خریف بول کر پورا سال مراد لیا جاتا ہے جیسے گردن بول کر پورا جسم مراد لیتے ہیں یعنی جز کے لفظ سے،نام سے کل کو تعبیر کرتے ہیں۔
|
5236 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ: «مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟» فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ: هَذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ. قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مر على رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لَا ينْكح. وإِن شفع أَن لَا يُشفَع. وإِن قَالَ أَنْ لَا يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر گزرا تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا جو حضور کے پاس بیٹھا تھا کہ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ۱؎ وہ بولا یہ شخص شریف لوگوں میں سے ہے ۲؎ اﷲ کی قسم اس لائق ہے کہ اگر پیغام دے تو نکاح کردیا جاوے اور اگر سفار ش کرے تو قبول کرلی جاوے۳؎ راوی کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم خاموش رہے ۴؎ پھر دوسرا آدمی گزرا تو اس سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟۵؎ وہ بولا یارسول الله یہ فقیروں مسلمانوں میں سے ہے،اس لائق ہے کہ اگر پیغام دے تو اس کا نکاح نہ کیا جاوے اور اگر سفارش کرے تو سفارش قبول نہ کی جاوے اور اگر بات کرے تو سنی نہ جاوے ۶؎ تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس جیسے زمین بھر کے آدمی سے بہتر ہے ۷؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع