30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی اس جگہ سے منتقل کردو ہمارے سامنے نہ رکھو اور جگہ رکھو ہٹا دو،یہ نہ فرمایا مٹادو،اس وجہ سے جو ابھی عرض کی گئی کہ یا تو اس وقت تصویریں حرام نہ ہوئی تھیں،یا بہت چھوٹی تھیں ایسی چھوٹی تصویریں اب بھی جائز ہیں۔(لمعات)
۳؎ یعنی ایسے نقشِیں پردے امیروں کے ہاں ہوتے ہیں جس سے ان کی امیری ظاہر ہوتی ہے،یہ پردہ دیکھ کر ہم کو دولت مندی یاد آتی ہے اس لیے یہ میرے سامنے سے ہٹا دیا جاوے،رب تعالٰی فرماتاہے :"وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖۤ اَزْوٰجًا مِّنْہُمْ زَہۡرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا"یہ فرمان عالی اس آیت کریمہ پر عمل ہے۔خلاصہ یہ کہ ہمارے گھر میں تکلف شان کی چیز یں نہ رہیں۔
|
5226 -[72] وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَحل إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عِظْنِي وَأَوْجِزْ. فَقَالَ: «إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْذِرُ مِنْهُ غَدًا وَأَجْمِعِ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاس» |
روایت ہے حضرت ابو ایوب انصاری سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ مجھے نصیحت فرماؤاور مختصر فرماؤ ۱؎ تو فرمایا کہ جب تم اپنی نماز میں کھڑے ہو تو رخصت ہونے والے کی سی پڑھو ۲؎ اور کوئی ایسی بات نہ کرو جس سے کل معافی چاہو۳؎ اور لوگوں کے قبضے کی چیزوں سے پورے مایوس ہوجاؤ۴؎ |
۱؎ مقصد یہ ہے کہ بہت سی باتیں نہ تو مجھے یاد رہیں گی نہ میں ان سب پر عمل کرسکوں گا اس لیے ایک دو باتیں ایسی بتائیں جن سے میرے دونوں جہاں درست ہوجاویں۔
۲؎ یعنی ہر نماز یہ سمجھ کر پڑھو کہ شاید یہ میری آخری نماز ہو اگلی نماز کا وقت آنے سے پہلے مجھے موت آجاوے۔ظاہر ہے کہ ایسی نماز اچھی طرح دل لگا کر ہی پڑھی جاوے گی،اس میں جواز اور قبول کی شرطیں خوب جمع ہوں گی یا اس کا مطلب یہ ہے کہ ماسوی الله کو چھوڑ کر اور سب سے وداع ہو کر صرف الله کی طرف دل لگا کر نماز پڑھو۔
۳؎ بہت ہی جامع نصیحت ہے یعنی اکثر خاموش رہو اگر بات کرنی پڑے تو اچھی بات کرو کسی کے دل دکھانے والی بات نہ کرو کہ پھر اس سے معافی مانگنی پڑے،خاموش رہنا صدہا گناہوں سے بچالیتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ گناہ کی بات نہ بولو جس سے توبہ کرنی پڑے۔ (اشعہ)
۴؎ یعنی کسی کے مال کی امید و لالچ نہ رکھو تمہارا دل غنی رہے گا تمہیں کسی کی خوشامد نہ کرنا پڑے گی۔(اشعہ)
|
5227 -[73] وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِيهِ وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: يَا مُعَاذُ إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا وَلَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي هَذَا وَقَبْرِي"فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ:«إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِيَ الْمُتَّقُونَ مَنْ كَانُوا وَحَيْثُ كَانُوا» رَوَى الْأَحَادِيث الْأَرْبَعَة أَحْمد |
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرمایا جب انہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کے ساتھ تشریف لے گئے ۱؎ آپ انہیں وصیت فرمارہے تھے اور جناب معاذ سوار تھے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم پیدل چل رہے تھے ۲؎ ان کے کجاوہ کے نیچے تو جب فارغ ہوئے فرمایا اے معاذ ! ممکن ہے کہ تم اس سال کے بعد مجھے نہ ملو غالبًا۳؎ تم اب میری مسجد اور میری قبر پر گزرو ۴؎ تو جناب معاذ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی جدائی سے گھبرا کر بہت روئے ۵؎ پھر حضور واپس ہوئے تو اپنا چہرہ پاک مدینہ کی طرف کیا ۶؎ پھر فرمایا کہ لوگوں میں مجھ سے قریب تر لوگ پرہیزگار ہیں جہاں بھی ہوں۷؎ ان چاروں حدیثوں کو احمد نے روایت کیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع