30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5737 -[40] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: «آدَمُ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَنَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ: «نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ».قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كم المُرْسَلُونَ؟ قَالَ: «ثَلَاثمِائَة وبضع عشر جماً غفيراً»وَفِي رِوَايَة عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ:قَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمْ وَفَاءُ عِدَّةِ الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: «مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا» |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم کون سے نبی پہلے ہیں فرمایا آدم علیہ السلام ۱؎ میں نے عرض کیا یارسول الله کیا وہ نبی تھے فرمایا ہاں کلام والے نبی۲؎ میں نے عرض کیا یارسول الله رسول کتنے ہیں تو فرمایا تین سو اور کچھ اوپر دس بڑی جماعت۳؎ اور ایک روایت ہے میں حضرت ابو امامہ سے ہے ۴؎ کہ جناب ابوذر نے فرمایا میں نے عرض کیا یارسول الله نبیوں کی پوری تعداد کتنی ہے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار جن میں سے رسول تین سو پندرہ ہیں بڑی جماعت۵؎ |
۱؎ آدم علیہ السلام پہلے انسان ہیں اور پہلے نبی تاکہ کوئی وقت نبوت سے خالی نہ رہے،زمانہ نبی سے خالی ہوسکتا ہے نبوت سے خالی نہیں ہوسکتا،آج بھی ہمارے حضور کی نبوت موجود ہے۔
۲؎ یعنی آپ نبی بھی تھے اور آپ پر صحیفے الہیہ بھی نازل ہوئے تھے یعنی صاحب صحیفہ نبی تھے۔
۳؎ مرسلین سے مراد رسول ہیں۔نبی،رسول اور مرسل میں چند طرح فرق کیا گیا ہے: ایک یہ کہ نبی وہ انسان ہیں جن پر وحی الٰہی آئے کتاب یا صحیفہ آئے یا نہ آئے۔رسول وہ جن پر وحی بھی آئے اور انہیں کتاب یا صحیفہ بھی ملے۔مرسل وہ جن کو نئی کتاب اور نئی شریعت عطا ہو۔نبی رسول تین سو تیرہ یا چودہ یا پندرہ ہیں،بعض نے فرمایا کہ نبی وہ جن پر وحی بھی آئے،رسول وہ جن پر وحی بھی آئے اور انہیں کوئی معجزہ بھی عطا ہو۔(مرقات)
۴؎ یہاں ابو امامہ سے مراد ابو امامہ باہلی نہیں کہ وہ تو صحابی ہیں بلکہ ابو امامہ سہلی ابن حنیف انصاری اوسی مراد ہیں، آپ حضور صلی الله علیہ و سلم کی وفات سے دو سال پہلے پیدا ہوئے،عظیم الشان تابعی ہیں،آپ کی عمر بانوے۹۲ سال ہوئی ۱۰۰ ہجری میں وفات پائی۔ (مرقات)
۵؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کے اجمال کی تفصیل ہے وہاں ارشاد ہوا تھا تین اور کچھ اور دس،اس کچھ کی یہ تفصیل کی ہے یعنی کل رسول تین سو پندرہ ہیں۔خیال رہے کہ تین سو تیرہ کی بھی روایت ہے اور چودہ کی بھی یہاں پندرہ ہے اس لیے ایمان اس طرح لائے کہ سارے نبیوں رسولوں پر ہمارا ایمان ہے،یہ بھی یاد رکھو کہ نبی رسول اور مرسل میں عام خاص کی نسبت ہے جیسے انسان اور حیوان میں۔ ہر مرسل رسول بھی ہے نبی بھی مگر ہر نبی رسول یا مرسل نہیں۔
نکتہ: نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار،رسول تین سو تیرہ،مرسل چار ہیں،اسی طرح صحابہ کرام ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں، اصحاب بدر تین سو تیرہ ہیں اور خلفاء راشدین چار،پھر چار مرسلین ہیں،ایک ہیں خاتم المرسلین یعنی حضور صلی الله علیہ و سلم،اسی طرح چار خلفاء راشدین ہیں: ایک ہیں افضل الخلق بعد النبیین یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ۔
|
5738 -[41] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَخْبَرَ مُوسَى بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ. رَوَى الْأَحَادِيث الثَّلَاثَة أَحْمد |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ خبر دیکھنے کی طرح نہیں ۱؎ الله تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام کو وہ سب کچھ بتایا جو ان کی قوم نے بچھڑے کے متعلق کیا اس وقت آپ نے تختیاں نہیں گرائیں پھر جب ان کی حرکت دیکھی تو تختیاں گرادیں وہ ٹوٹ گئیں۲؎ ان تینوں حدیثوں کو احمد نے روایت کیا۔ |
۱؎ یعنی خبر چاہے کتنی ہی یقینی ہو مگر اس کا اثر مشاہدہ کی طرح نہیں ہوتا،مشاہدہ اور نظارہ کی دل پر تاثیرہی عجیب ہوتی ہے۔اس سے پتہ لگا کہ حضور سید المرسلین ہیں کیونکہ سارے نبیوں کو رب تعالٰی کی ذات و صفات کی عالم غیب میں خبر دی گئی مگر حضور انور کو معراج کی رات ان سب کا مشاہدہ معائنہ کرایا گیا،خبر معائنہ کی طرح نہیں ہوسکتی تو خیبر بھی بصیر کی طرح نہیں ہوسکتے"اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شٰہِدًا"اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع