30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انت کالریح ونحن کالغبار یختفی الریح وغیرہ جھار
ایک صوفی فرماتے ہیں ؎
بے حجابی یہ ہے کہ ہر ذرہ میں جلوہ آشکار اس پہ یہ گھونگھٹ کہ صورت آج تک نادیدہ ہے
یار تیرے حسن کو تشبیہ دوں کس چیز سے ایک تو دیدہ ہے اور تیرے سواء نادیدہ ہے
یا اول وہ جو سب کو پیدا فرمائے،آخر وہ جو سب کو فنا کرے،ظاہر وہ جو سب پر غالب ہو جو چاہے کرے،باطن وہ جو ہر آفت زدہ مصیبت کے مارے کی پناہ ہو اس کے ساتھ ہی وہ ہر چیز کا عالم بھی ہے۔(از مرقات)
۱۶؎ یہ وہ ہی شرح ہے جو ابھی ہم نے عرض کی۔الله تعالٰی کسی جگہ میں نہیں وہ جگہ سے پاک ہے جب جگہ نہیں بنی تھی وہ جب بھی تھا کہاں تھا۔معلوم ہوا کہ وہ کہاں جہاں،یہاں وہاں سے پاک ہے،ہاں اس کی سلطنت حکومت،علم قدرت ہر جگہ ہے کوئی جگہ اس کی سلطنت سے خالی نہیں۔
۱۷؎ اس میں اشارہ اس آیت کریمہ کی طرف ہے"ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ"یعنی اس کا خاص تجلی گاہ عرش ہے اس کا پایہ تخت جہاں سے اس کے احکام جاری ہوتے ہیں وہ عرش ہے ورنہ عرش بھی اس کی جگہ نہیں،مگر خیال رکھنا کہ وہ جگہ سے تو پاک ہے مگر ملتا ہے دو جگہ یا حضور صلی الله علیہ و سلم کے پاس"لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا"یا مؤمن کے دل میں مولانا فرماتے ہیں۔
گفت پیغمبر کہ حق فرمودہ است من نہ گنجم ھیچ دربالاؤ پست
در دل مؤمن بہ گلنجم اے عجب گر مرا جوئی دریں دلہا طلب
ہونے اور ملنے میں بڑا فرق ہے،بلا تشبیہ بجلی کا پاور سارے تار میں ہے مگر ملتا ہے وہاں جہاں بلب ہو یہ بات بہت ہی لحاظ رکھی جاوے۔
|
5736 -[39] وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَانَ طُولُ آدَمَ سِتِّينَ ذِرَاعًا فِي سبع أَذْرع عرضا» |
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ حضرت آدم کی لمبائی ساٹھ گز تھی سات گز چوڑائی ۱؎ |
۱؎ یہاں دونوں جگہ گز سے مراد شرعی گز ہے ایک ہاتھ یعنی مروجہ گز کا آدھاگز ڈیڑھ فٹ یا اٹھارہ انچ،یہ بھی خیال رہے کہ ہاتھ سے مراد آج کل کا ہمارا ہاتھ ہے یعنی ہمارے ہاتھ سے آپ ساٹھ ہاتھ لمبے تھے اور سات ہاتھ چوڑے اور اپنے ہاتھ سے ساڑھے تین ہاتھ تھے ہرشخص چھوٹا بڑا بچہ جوان اپنے ہاتھ سے ساڑھے تین ہاتھ لمبا ہوتاہے،آپ کا اپنا ہاتھ شریف ہمارے سترہ ہاتھ کا تھا۔
|
5737 -[40] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: «آدَمُ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَنَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ: «نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ».قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كم المُرْسَلُونَ؟ قَالَ: «ثَلَاثمِائَة وبضع عشر جماً غفيراً»وَفِي رِوَايَة عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ:قَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمْ وَفَاءُ عِدَّةِ الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: «مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا» |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم کون سے نبی پہلے ہیں فرمایا آدم علیہ السلام ۱؎ میں نے عرض کیا یارسول الله کیا وہ نبی تھے فرمایا ہاں کلام والے نبی۲؎ میں نے عرض کیا یارسول الله رسول کتنے ہیں تو فرمایا تین سو اور کچھ اوپر دس بڑی جماعت۳؎ اور ایک روایت ہے میں حضرت ابو امامہ سے ہے ۴؎ کہ جناب ابوذر نے فرمایا میں نے عرض کیا یارسول الله نبیوں کی پوری تعداد کتنی ہے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار جن میں سے رسول تین سو پندرہ ہیں بڑی جماعت۵؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع