دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۶؎  یعنی چڑھتے ہوئے اتنا فاصلہ ہے جو کوئی چل کر چڑھ کر وہاں جائے تو پانچ سو سال میں پہنچے،گرنے کے متعلق وہ حدیث ہے کہ صبح کا پھینکا ہوا پتھر شام سے پہلے زمین پر آجاوے۔آج جو راکٹ وغیرہ اگر آسمان پر دو تین دن میں پہنچ جاتے ہوں تو یہ رفتار اور ہی ہے جیسے مدینہ منورہ کراچی سے پیدل سال بھر کا راستہ ہے مگر ہوائی جہاز سے صرف چار گھنٹے کا لہذا حدیث واضح ہے۔

۷؎  اسی طرح بیان فرمانا کہ ان دو آسمانوں کو علیحدہ بیان کیا باقی چار آسمانوں کو علیحدہ،اعلٰی درجہ کی فصاحت ہے اس طرح بات یاد بھی خوب رہتی ہے۔آسمانوں کا دل ان کی موٹائی بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے اور دو آسمانوں کے درمیان فاصلہ بھی اتنا ہی ہے جتنا بیچ خلا ہے۔فلاسفہ کہتے ہیں کہ تمام آسمان چمٹے ہوئے ہیں جیسے پیاز کے چھلکے،یہ غلط ہے کیونکہ جو آسمان دیکھ کر آئے وہ ہر دو کے درمیان فاصلہ بتا رہے ہیں اور فلاسفر صرف اپنے اندازے سے،دیکھنے والے کا قول زیادہ قابل قبول ہے۔

۸؎  یہ خبر نہیں کہ وہاں اس خلا میں کیا چیز ہے،زمین و آسمان کے درمیان جو خلا ہے اس میں تو ہوا،آگ پھر نہایت ٹھنڈا طبقہ یعنی زمہریر ہے۔

۹؎  فلاسفر کہتے ہیں کہ عرش و کرسی بھی دو آسمان ہیں اور آسمانوں کی تعداد نو ہے مگر غلط ہے آسمان سات ہیں عرش و کرسی ان کے علاوہ ہیں،ان دونوں کی حقیقت آسمانوں کی حقیقت سے وراء ہے۔

۱۰؎ یعنی جتنا فاصلہ پانچ سو سال کا آسمان وزمین کے درمیان ہے اتنا ہی فاصلہ ساتویں آسمان اور عرش عظیم کے درمیان ہے وہ فاصلہ دو آسمانوں کے درمیان ہے۔

۱۱؎  یہاں نیچے سے مراد قدم کے نیچے ہے جس سے ہمارے قدم لگے ہوئے ہیں اگرچہ حضرات صحابہ جانتے تھے کہ یہ زمین ہے مگر پھر عرض یہ ہی کیا کہ الله رسول جانیں،یہ ہے اس بارگاہ کا ادب۔

۱۲؎ فلاسفہ کہتے ہیں کہ زمین صرف ایک ہے یا اگر سات ہیں تو ایک دوسری سے چمٹی ہوئی ہیں جیسے پیاز کے چھلکے کہ دیکھنے میں ایک ہی معلوم ہوتی ہیں مگر دو یا تین غلط ہیں،زمینیں سات ہیں اور ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے جیساکہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا،رب تعالٰی فرماتاہے:"خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ

۱۳؎  خیال رہے کہ تمام زمینوں کی حقیقت ایک ہی ہے یعنی مٹی مگر ساتوں آسمانوں کی حقیقتیں مختلف ہیں اس لیے قرآن مجید میں سمٰوٰت جمع ارشاد ہوتا ہے اور زمین کو الارض واحد کہا جاتا ہے لہذا یہ حدیث ان آیات کے خلاف نہیں۔

۱۴؎  یعنی الله تعالٰی کے ملک اس کے علم اس کی قدرت پر گرے گی،جہاں پہنچے گی وہاں الله تعالٰی ہی کا ملک و علم ہوگا،رب تعالٰی فرماتاہے: "مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانۡفُذُوۡا  لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ"۔مقصد یہ ہے کہ رب تعالٰی کا ملک صرف آسمانوں میں محدود نہیں ہے ہر جگہ ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کو معراج آسمانی کرائی گئی وہاں بھی رب تعالٰی ہی کا کرم و نوازش تھی۔حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں پہنچاکر معراج کرائی گئی وہاں بھی رب تعالٰی ہی کا کرم و نوازش تھی۔(مرقات)اسی لیے حضور انور نے اگلی آیت تلاوت فرمائی۔

۱۵؎  ان چاروں نام شریف کی تفسیر اسماءحسنیٰ کی شرح میں گزر چکی۔اول بمعنی قدیم ہے کہ جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا،یہ حادث کا مقابل ہے،آخر کے معنی ہیں باقی غیر فانی،جب کچھ نہ رہے تو وہ رہے گا اس کے صفات ایسے ظاہر کہ بچہ بچہ جانے،اس کی ذات ایسی خفی کہ کوئی اسے نہ پاسکے،حضور صلی الله علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ماعرفناك حق معرفتك پھر اور کا تو ذکر ہی کیا۔مولانا فرماتے ہیں شعر

یا خفی الذات محسوس العطاء                                            انت کالماء ونحن کالرحی

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن