دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5734 -[37]

وَعَنْهُ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ فَقَالَ: «خلق الله الْبَريَّة يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَخلق الشّجر يَوْم الِاثْنَيْنِ وَخلق الْمَكْرُوه يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ وَآخِرِ سَاعَةٍ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلى اللَّيْل» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے میرا ہاتھ پکڑا ۱؎  پھر فرمایا کہ الله نے مٹی پیدا کی ہفتہ کے دن اور اس میں پہاڑ پیدا کیے اتوار کے دن اور درخت پیدا کیے پیر کے دن اور ناپسندیدہ چیزیں پیدا کیں منگل کے دن،نور پیدا فرمایا بدھ کے دن اور اس میں جانور پھیلائے جمعرات کے دن۲؎  اور آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد پیدا فرمایا آخری مخلوق ہیں۳؎  اور دن کی آخر ساعت میں عصر سے لے کر رات تک کے درمیان۴؎ (مسلم)

۱؎  ہاتھ پکڑنا یا تو اہتمام کے لیے ہے یا یہ تفصیل گنانے کے لیے یا قرب بتانے کے لیے۔

۲؎  خلاصہ یہ ہے کہ ان مذکورہ چیزوں کی پیدائش کی ابتدا ہفتہ(سنیچر)کے دن ہوئی اور انتہا جمعہ کو جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔خیال رہے کہ ہفتہ کے دن سے مراد ہے اس دن کا آخری حصہ جب کہ قریبًا اتوار شروع ہوجاتا ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ مَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ"یہ کہا جاوے کہ آیت کریمہ میں آسمان اور زمین کی پیدائش کا ذکر ہے اور یہاں زمینی چیزوں کی پیدائش کا۔

۳؎  یہاں آدم علیہ السلام کی پیدائش سے مراد یا تو ان کے جسم شریف کی تکمیل ہے یا جسم شریف میں روح پھونکنا مراد ہے کیونکہ آدم علیہ السلام کے جسم کی ساخت تو بہت عرصہ تک ہوتی رہی،ہر قسم کی مٹی پانی کا جمع فرمانا پھر اس کا خمیر کرنا،پھر اعضاء ظاہری باطنی کا بنانا،پھر بہت روز تک سکھانا اس میں بہت دن لگے،یہ ایک دن اور ایک ساعت میں نہیں ہوا۔جمعہ کو جمعہ اسی لیے کہتے ہیں کہ اس دن میں حضرت آدم کے جسم شریف کی تکمیل ہوئی،جمعہ کے معنی ہیں مجتمع ہونا مکمل ہونا،چونکہ آپ تمام مخلوق کے مقصود ہیں اس لیے آپ کو آخر میں پیدا فرمایا گیا،دیکھو مرقات یہ مقام۔اس لیے صبح صادق کا وقت قبولیت دعا کا وقت ہے کہ وہ حضور صلی الله علیہ و سلم کی ولادت پاک کا وقت ہے اور بارھویں ربیع الاول شریف مبارک رات ہے مگر روزانہ صبح صادق وقت قبولیت ہے اور جمعہ کی آخری ساعتیں وقت قبولیت ہیں یعنی آدم علیہ السلام کا فیض ہفتہ میں ایک بار حضور کا فیض روزانہ۔

5735 -[38]

وَعَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَأَصْحَابُهُ إِذْ أَتَى عَلَيْهِمْ سَحَابٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا؟» . قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «هَذِهِ الْعَنَانُ هَذِهِ رَوَايَا الْأَرْضِ يَسُوقُهَا اللَّهُ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْكُرُونَهُ وَلَا يَدعُونَهُ» . ثمَّ قَالَ: «هَل تَدْرُونَ من فَوْقَكُمْ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «فَإِنَّهَا الرَّقِيعُ سَقْفٌ مَحْفُوظٌ وَمَوْجٌ مَكْفُوفٌ» . ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا خَمْسُمِائَةِ عَامٍ» ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ؟» . قَالُوا: اللَّهُ ورسولُه أعلمُ. قَالَ: «سماءانِ بُعْدُ مَا بَيْنَهُمَا خَمْسُمِائَةِ سَنَةٍ» . ثُمَّ قَالَ كَذَلِكَ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ «مَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءَيْنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» . ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «إِنَّ فَوْقَ ذَلِكَ الْعَرْشُ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّماءين» . ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا تَحْتَ ذَلِكَ؟» . قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «إِنَّ تَحْتَهَا أَرْضًا أُخْرَى بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ».حَتَّى عدَّ سَبْعَ أَرضين بَين كلَّ أَرضين مسيرَة خَمْسمِائَة سنة " قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّكُمْ دَلَّيْتُمْ بِحَبْلٍ إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى لَهَبَطَ عَلَى اللَّهِ» ثُمَّ قَرَأَ(هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شيءٍ عليم)رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآيَةَ تَدُلُّ على أَنه أَرَادَ الهبط عَلَى عِلْمِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ وَسُلْطَانِهِ وَعِلْمُ اللَّهِ وَقُدْرَتُهُ وَسُلْطَانُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ وَهُوَ عَلَى الْعَرْش كَمَا وصف نَفسه فِي كِتَابه

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں جب کہ نبی صلی الله علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ بیٹھے تھے کہ اچانک ان پر بادل آیا تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا الله رسول ہی خوب جانتے ہیں ۱؎ فرمایا یہ بادل ہے یہ زمین کے ساقی ہیں۲؎  الله اسے اس قوم کی طرف لے جاتا ہے جو نہ اس کا شکر کریں نہ اس سے دعا مانگیں۳؎ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے،صحابہ نے عرض کیا الله رسول خوب جانتے ہیں،فرمایا آسمان ہے۴؎ محفوظ چھت ہے اور روکی ہوئی موج ۵؎  پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ عرض کیا الله رسول ہی جانیں،فرمایا تمہارے اور آسمان کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۶؎ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے،انہوں نے عرض کیا الله رسول ہی خوب جانیں،فرمایا دو آسمان ان کے درمیان فاصلہ پانچ سو سال ہے،پھر فرمایا اسی طرح حتی کہ سات آسمان گنائے ۷؎  ہر دو آسمانوں کے درمیان وہ فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے ۸؎  پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ ان سب کے اوپر کیا ہے،عرض کیا کہ الله رسول ہی خوب جانیں،فرمایا ان کے اوپر عرش ہے ۹؎ اس کے اور آسمان کے درمیان وہ فاصلہ ہے جو دو آسمانوں کے درمیان ہے۱۰؎ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کیا ہے جو تمہارے نیچے ہے۱۱؎ صحابہ نے عرض کی الله رسول ہی خوب جانیں،فرمایا وہ زمین ہے پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے نیچے کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا الله رسول ہی خوب جانیں،فرمایا کہ اس کے نیچے دوسری زمین ہے جن دونوں کے درمیان پانچ سو سال ہیں۱۲؎ حتی کہ سات زمینیں شمار فرمائیں۱۳؎  ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے،پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم ایک رسی نیچی زمین کی طرف لٹکاؤ تو الله پر ہی گرے گی۱۴؎  پھر قرأت فرمائی وہ اول ہے اور آخر ظاہر ہے اور باطن اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۱۵؎ (احمد، ترمذی) اور ترمذی نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا یہ آیت پڑھنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس کے علم پر اس کی قدرت پر اس کی حکومت پر گرے الله تعالٰی کا علم اس کی قدرت اس کی بادشاہت ہر جگہ ہے۱۶؎  اور وہ عرش پر ہے جیسے اس نے خود اپنی کتاب میں اپنی تعریف فرمائی۱۷؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن