30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی اولاد آدم گھر میں رہ کر بھی دنیا میں مشغول رہیں گے اور خشکی دریا کی سواریوں میں سفر کرکے بھی دنیا میں مشغول رہیں گے دنیا انہیں چمٹی رہے گی اور واقعی ٹھیک کہا۔معلوم ہوا کہ فرشتوں کو بھی رب تعالٰی نے علوم غیبیہ بخشے کہ وہ لوگوں کے آئندہ حالات کی خبر رکھتے ہیں،دیکھ لو جو فرشتوں نے ہمارے متعلق کہا تھا ہم ویسے ہی ہیں۔
۲؎ یعنی ہم دنیاوی یہ مذکورہ کام نہیں کرتے صرف تیری یاد ہماری زندگی ہے"وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ"لہذا تو انسانوں کو دنیا میں ہمیشہ رکھ اور انہیں وہاں کی نعمتیں ہمیشہ دے ہم کو یہاں ہمیشہ رکھ یہاں کی نعمتیں ہمیشہ دے،ایسا نہ ہو کہ ان کو تو دونوں جہاں کی نعمتیں دے اور ہم ان سب سے محروم رہیں لہذا یہ آدمیوں کے لیے بددعا یا بدخواہی نہیں بلکہ ان کی بھی خیر خواہی ہے اور اپنے لیے دعا بھی ہے۔
۳؎ یعنی اے فرشتو میرے ظاہری و باطنی کمالات کا مظہر انسان ہے جیسے تم کو میں نے صرف کن فرماکر پیدا کیا ایک آن میں اور انسان یعنی حضرت آدم کا خمیر عرصہ تک تیار کیا گیا،پھر عرصہ تک اسے سکھایا گیا،میں نے اپنے دستِ قدرت سے اس کی شکل بنائی اور اسے ظاہری خوبیوں سے آراستہ کیا،پھر اس میں اپنی خاص روح پھونکی جس سے وہ باطنی خوبی کا حامل ہوگیا۔انسان مادہ اور مجرد دونوں کا معجون مرکب ہے،تم بذات خود معصوم ہو لہذا دوزخ سے محفوظ اور جنت سے محروم ہو،انسان طاقت اور غصے سے مخلوط ہے،عطایا اور بلایا مشحون ہے لہذا وہ ثواب و عذاب کا مستحق ہے۔یہ حدیث پاک ان حضرات کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ بشر فرشتہ سے افضل ہے،یہ ہی اہلسنت کا مذہب ہے۔ فرشتوں کے کمالات انسان پر موقوف ہیں فرشے انسان ہی کے ذریعہ حامل وحی،مجاہد غازی سب کچھ ہے،جنس بشریت جنس ملکیت سے افضل ہے اگرچہ بعض افراد ملک انسان کے بعض افراد سے افضل ہیں جیساکہ آگےآرہا ہے۔
|
5733 -[36] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ بَعْضِ مَلَائِكَتِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ مؤمن الله کے نزدیک بعض فرشتوں سے زیادہ عزت والا ہے ۱؎ (ابن ماجہ) |
۱؎ اس حدیث میں افراد مؤمنین کا ذکر ہے۔ان کی تفصیل یہ ہے کہ عام مؤمنین افضل ہیں عام فرشتوں سے اور خاص مؤمنین افضل ہیں خاص فرشتوں سے۔یہ بھی خیال رہے کہ خاص مؤمنین سے مراد حضرات انبیاء و رسل و مرسلین ہیں اور خواص ملائکہ سے مراد ہیں حضرت جبرئیل و میکائیل وغیرہ اشراف ملائکہ اور عوام مؤمنین سے مراد ہیں صالحین متقین جن میں خلفاء راشدین،خاص خاص تابعین اولیاءالله مراد ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ ہُمْ خَیۡرُ الْبَرِیَّۃِ"لہذا حضرات خلفاء راشدین،حضور غوث پاک،امام اعظم ابوحنیفہ عام فرشتوں سے بھی افضل دیکھو مرقات،یہ تفصیل خیال میں رہے،ہاں انسانیت افضل ہے ملکیت سے مگر صدیق اکبر بعد انبیاء سب سے افضل ہیں۔
|
5734 -[37] وَعَنْهُ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ فَقَالَ: «خلق الله الْبَريَّة يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَخلق الشّجر يَوْم الِاثْنَيْنِ وَخلق الْمَكْرُوه يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ وَآخِرِ سَاعَةٍ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلى اللَّيْل» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے میرا ہاتھ پکڑا ۱؎ پھر فرمایا کہ الله نے مٹی پیدا کی ہفتہ کے دن اور اس میں پہاڑ پیدا کیے اتوار کے دن اور درخت پیدا کیے پیر کے دن اور ناپسندیدہ چیزیں پیدا کیں منگل کے دن،نور پیدا فرمایا بدھ کے دن اور اس میں جانور پھیلائے جمعرات کے دن۲؎ اور آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد پیدا فرمایا آخری مخلوق ہیں۳؎ اور دن کی آخر ساعت میں عصر سے لے کر رات تک کے درمیان۴؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع